علماء اور میڈیا

Posted on May 22, 2014



پاکستان میں نان ایشو کو ایشو اور ایشو کو نان ایشو بنانے کا کام جاری ہے جس کے نتیجہ میں جنم لینے والے حالات اکثر ریاست کے تمام ستونوں کو ہلانے کے علاوہ بہت سے ستونوں کی اوقات بھی واضح کردیتے ہیں۔ آئین وقانون کیا اور کہاں ہے؟ حکومت کی اوقات کیا ہے؟ عدلیہ کس کھیت کی مولی ہے؟ سیاست دان کیا بیچتے ہیں اورمیڈیا کی کیا حیثیت ہے؟ ان سب سوالوں کے جوابات اکثر و بیشتر ملتے رہتے ہیں لیکن اس درمیان ریاست کے چھٹے ، ساتویں یا نامعلوم ستون یعنی علماء کا فیصلہ نہیں ہوپاتا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں؟
پاکستانی معاشرے میں علماء کا کردار کسی بھی صورت ریاست کے باقی عناصر سے کم نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تمام مسائل و بحرانوں میں علماء کی رائے لینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علماء کی رائے تفنن طبع کے لیے لی جارہی ہے یا بعض افراد اپنی مقبولیت میں اضافہ کے لیے علماء کی رائے کا احترام کرتے ہوئے دھجیاں اڑاتے ہیں۔ اس مسئلہ میں صرف دوسرے لوگ ہی قصوروار نہیں بلکہ علماء بھی کافی حد تک شریک ہیں چنانچہ طالبان مذاکرات سے جیومارننگ شو تک رونما ہونے والے واقعات کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ اپنی پگڑی اچھالنے کے لیے جو محنت علماء نے کی ہے وہ شاید ہی کوئی دوسرا طبقہ کرپائے۔
وزیراعظم میاں نوازشریف نے طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا تو انہیں وزیراعظم میں خبر دی گئی کہ مولانا سمیع الحق نے خود کو وزیراعظم کے خصوصی نمائندے کے طور پر پیش بھی کردیا ہے جس کی وجہ سے مولانا کی خوب جگ ہنسائی ہوئی یا پروفیسر ابراہیم سے مولانا یوسف شاہ صاحب تک کمیٹی میں شریک یا کمیٹی مخالف علماء کی طرف سے آئے دن اسلام کے نام پر ایسے ایسے موقف سامنے آئے کہ دل بے اختیار کہہ اٹھتا کہ مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے؟
حال ہی میں جیو مارننگ شو کے حوالے سے بھی یہی صورتحال علمائے کرام جب جیو نیوز پر جلوہ افروز ہوتے ہیں تو اسے نادانستہ غلطی قرار دیتے ہیں اور اس سلسلہ میں مچی ہوئی ہاہاکار کو کاروباری رقابت قرار دیتے ہیں لیکن جب جیو مخالف چینلز پر نظر آتے ہیں تو جیو کی معافی کو چٹکیوں میں اڑا کر جیو کے تمام چینلز پر پابندی سے کم کسی سمجھوتے پر راضی ہی نہیں ہوتے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہی لوگ جیو کے مخالف نظر آتے ہیں جو جیو کے پروگرام میں اسے معاف کرکے اٹھتے ہیں!
حقیقت یہ ہے کہ علماء پاکستانی میڈیا کے ایشو کو نان ایشو اور نان ایشو کو ایشو بنانے کے کھیل میں شریک وہ کھلاڑی ہیں جو ہر ٹیم کی طرف سے ہر وقت کھیلنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کھیل میں شریک ٹیمیں انہیں ایسے ہی اپنے ساتھ شریک کرتی ہیں جیسے کھلاڑی کم ہونے کی صورت ایک کھلاڑی کو “ریلو کٹا” ٹائپ کا عنوان دیا جاتا ہے تاکہ وہ ضرورت پڑنے پر دونوں طرف سے شریک ہوسکے۔
میڈیا پر موجود علماء کے موقف کو ان کا مسلکی موقف بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ایک ہی مسلک کے علماء ایک ہی مسئلہ کے بارے میں مختلف آراء پیش کررہے ہوتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ بعض سیاسی و قومی مسائل کو تعلق سے سے مسلکی اختلافات سے ہوتا ہی نہیں ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا اپنا ضابطہ اخلاق بنائے یا نہ بنائے علماء ضرور اپنے لیے کوئِ ضابطہ اخلاق قرار دیں کیونکہ ہم بچپن سے یہ سنتے آئے ہیں کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور عام آدمی کو یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ وارث اپنے مفادات کے چکر میں انبیاء کی میراث کی اہانت کے مرتکب ہوں۔