انـٹرویو

Posted on May 22, 2014



جـناب بہـت شـکریـہ کـہ آپ نے اپنے قیمتی وقت کا کچھ حصہ ہمیں اس انٹـرویو کے
لیئے عـنایت کـیا ۔
“جی پوچھیے کـیا پوچھنا چاہتے ہیں آپ ؟ ”
دیکھیئے سر سیاسی باتیں تو ہوتی ہی رہتی ھیں ۔ آج ھم ایک بالکل غـیرسیاسی سوال لے کـر
حاظـر ھـوئے ہیں ۔ آپ چونکہ ایک دانشور ہیں اس لئیے ھمیں امــید ھے کہ آپ ھمارا
مسئلہ حل کـر سکـیں گے ۔
” جی فرمائیں ؟ ”
جناب جیسا کہ ھم سب جانتے ھیں ۔ دنیا صدیوں انڈے اور مرغی کے سوال میں الجھی
ہوئی تھی ۔ مسئـلہ کـسی طـور حل نہیں ھـو پا رہا تھا لیکـــن حال ہـی مـیں کچھ مـغربی
سائنسدانوں نے باقاعدہ سائنٹیفک ریسرچ سے یہ ثابت کـیا ھے کہ مرغی پہلے پیدا ھوئی
ذرا اس میں ھماری رہنمائی کیجیے کہ ایسی تحقیق ھمیشہ مغرب میں ھی کـیوں ھوتی
ہے ۔ کبھی پاکـستان میں ایـسا کـیوں نہیں ھـو پاتا ؟ کیا ھمارے ملک میں سانئسدان نہیں
ھـیں ؟
” جي گـزارش یہ ھے کہ یہاں تو کچھ ھوہی نہیں سکـتا ۔ حکومت کـنفیوز ھے ۔
وزیراعظم کی دولت باہر ھے ، ان کے بچے باہر ہیں ۔ ایک مـیڈیا گـروپ دفاعی
اداروں کو تباہ کـرنے پر تلا ھوا ھے ۔ ایسے حالات میں ——”
جناب قطع قلامی کی معافی چاہتا ہوں لیکن میرا سوال تو قطیع غیر سیاسی ——-
” او جی آپ مجھے بات تو کـرنے دیں ۔ دیکھیے 183 سال پہلے فـقیر نے کہا تھا
وہ قـومیں تباہ ھو جاتی ھیں جو —- ”
سـر یہ کـونسے فـقیر نے کہا تھا ؟
” یہ آپ خود تحقیق کـریں ۔ آپ اخبار نویس ھیں یہ آپ کا کام ھے ۔ دیکھیں کـتاب
اس سلسلے میں کیا کہتی ھے ۔۔۔۔ ”
جناب آپ تو دوسری طرف جا رھے ھیں ۔ وہ انڈا اور مرغی —-
” اس طرح نہیں ھوتا ۔ آپ پہلے مجھے گـزارش کـرنے دیں ”
اچھا سر آپ مکمل کـرلیں مجھے امید ھے کہ میرے سوال کا جواب مل جائے گا
” گـزارش یہ ھے کہ پارٹی تو وہ جیت چکی تھی ۔ میں نے تو لکھ بھی دیا تھا کہ
اب تو آپ اپنی حکومت کی خاکہ بندی کـرنا شروع کـر دیں ”
پھر ؟
” پھر یہ کہ ایک تو انہوں نے ایسے لوگ پارٹی میں لینے شروع کـر دیے جو کہ
مجھے بالکل پـسند نہیں تھے دوسرے انـہوں نے الیکـشن کے وقـت ٹکـٹیں مـیری
مـرضی سے بلکہ مجھ سے پوچھ کـر نہیں بانٹیں ۔ اس کے علاوہ یہ لیـــگ والے
دھاندلی میں بڑے ماہر ہیں اور پروپیگنڈا میں تو ان کا کوئی ثانی ہی نہیں ”
سر وہ انڈا —–
” وہی تو عـرض کـر رہا ہوں ۔ آپ سمجھنا ہی نہیں چاہتے ۔ دیکھیے حالات بـڑے
خـراب ہیں لیکن ابھی بھی کچھ نہیں بگـڑا ۔ کچھ ایسے ایمان دار اور عقـلمند لـوگ
ہیں جو سب کچھ ٹھیک کـر سکـتے ہیں ”
مـثلا” ؟
” ایک تو وہ جی راولپنڈی کچھ ادھـر ایک صاحب رہتے ہیں جو کہ دنیا کے عـقلمند
ترین آدمی ہیں ۔ ایک رٹائیرڈ پولیس آفیسر ہیں ۔ ایسے باصلاحیت کہ ایک ہی وقت میں
وزارت داخــــلہ،
نـیب اور ایف بی آر وغیرہ سب کچھ سمبھال سکتے ہیں ۔ آخر انہوں نے کـراچی کـے
حالات بھی تو ٹھیک کـرکے دکھائے تھے نا ”
اور ؟
” اور بھی لوگ ہیں بس تلاش کـرنے کـرنے والی نـظر چاہئیے ”
بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی کچھ وضاحت فرمائیں گے ؟
” او جناب آپ تو بھولے بادشاہ ہیں ۔ ابھی چند ماہ پہلے ایک صاحب رٹائیر ہوئے ہیں
میں کـیا عـرض کـروں ۔ دانش صبراور ذھانت کا مـرقع ہیں ۔ انہوں نے تو خط لکھ کر
ایک طاقتور ترین صدر کو سوچنے پر مجبور کـر دیا تھا – آپ خود سوچیں کہ ایسے
تین چار لوگوں کے حوالے اگـر ملک کـر دیا جائے تو کیا تمام مسائل حل نہ ہو جائیں
گے ؟ ”
یعنی وہ انڈے اور مرغی والا مسئلہ بھی ؟
” او جی بالکل یہ تو کوئی مسئلہ ھی نہیں اس بھی بڑے بڑے مسئلے شرط صرف یہ
ہے کہ ملک صرف میری مرضی اور مشوروں سے چلایا جائے ”
اچھا جی بہت بہت شکریہ آپ کے وقت دینے کا ۔ ہمارا انڈے اور مرغی والا مسئلہ تو
حل نہیں ہوا لگـتا ھے باقی سارے مسئلے حل ہو گئے ہیں ۔