ممبئی حملے اور جیو کا فالس فلیگ آپریشن

Posted on May 9, 2014



فرید کوٹ ,دیپالپور; ایک صبح گاوں والے جب ناشتے سے فارغ ہوئے اور اپنے اپنے کھیتوں اور کھلیانوں، ٹھیلے اور دکانوں کو جانے کے لئے نکلے تو انکو محسوس ہوا کہ انکے گاوں کو کچھ مشکوک اجنبی لوگوں نے گھیر رکھا ہے۔
تمام گاوں پہلے ہی ایک “بے پر” کی خبر کے محاصرے میں تھا، مگر اب کچھ لوگ سادہ کپڑوں میں ملبوس افرادبھی ان کے گاوں آدھمکے تھے۔
دیکھتے ہی دیکھتے وہ لوگ مختلف گروپس میں شکل میں سارے گاوں میں پھیل گئے جیسے کسی مطوںبہ شخص کی تلاش میں کوئی خفیہ آپریشن ہونے جا رہا ہو جسکی ریکی اور تیاری پہلے سے ہی ہو چکی ہو۔
پھر وہ تمام گروپس، مختلف اطراف کا رخ کرنے لگے ، کوئی کھیتوں کا ، کوئی ٹھیلوں کا ، کوئی دکانوں کا اور کوئی ڈیروں کی جانب روانہ ہوا۔
تمام گاوں کے لوگ ان مشکوک افراد کی مشکوک حرکات سے جہاں بہت پریشان تھے وہی انکی پریشانی میں اضافہ ان افراد کے سوالات بھی کر رہے تھے۔
آخر وہ سوالات تھے کیا؟

بابا جی یہاں گاوں میں اجمل قصاب کہاں رہتا ہے؟
میاں جی ، کیا آپ اجمل قصاب کو جانتے ہیں ؟
چوہدری صاحب ، آپ کے گاوں کا ایک لڑکا ہے اجمل قصاب ، اسکا کچھ اتا پتا؟
اجمل قصاب آج کل کہاں ہے؟
اجمل قصاب کیا کرتا ہے؟
یہ سوال لئے یہ “بے چین” لوگ مارے مارے ،گاوں میں گھوم رہے تھے۔ جہاں وہ خود سخت مضطرب اور پریشان نظر آرہے تھے وہی انکے سوالات سے گاوں والے بھی اذیت میں تھے۔
اسی دوران ان افراد کو علم ہوا کے انکی مشکوک حرکات کی وجہ سے گاوں والوں نے قریبی تھانے والوں کو اطلاع کر دی ہے اور کچھ ہی دیر میں پولیس پہنچ کر ان سائلین سے سوال کرتی نظر آئے گی تو انہوں نے مزید جان مشکل میں ڈالنے کی بجائے وہاں کھسک جانے میں ہی عافیت جانی۔
اور پھر یہ طہ ہوا کہ سچ کی تلاش کو ادھورا چھوڑ کر جھوٹ کو تراشنے کے لئے کوشش کی جائے۔
ان افراد کے سرپنچ نے جب اپنا مشن فیل ہوتا دیکھا اور گھی کا سیدھی انگلی سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن نظر آیا تو اس کے شیطانی ذہنوں نے” پلان اے “کی ناکامی کے بعد فورا “پلان بی” لانچ کر دیا، جس سے ان افراد کی باقاعدہ ایجنڈے کے تحت تیاری کا بخوبی انذازہ لگایا جا سکتا تھا۔

بلا آخر انہوں نے اپنے تمام سوالات کے جوابات ایک دوسرے قریبی گاوں میں کچھ لوگوں کو خرید کر ، انکے ضمیر کو پیسوں کا بندھی بناکر، حاصل کر لئے ۔
اور چند لمحوں بعد جب تمام پاکستانی میڈیا ممبئی حملوں کے بعد ،پاکستان کے دفاع میں مصروف تھا، ان لوگوں نے پاکستانی دفاع اور اس کے میڈیا پر زناٹے دار حملہ کر ڈالا اور اس سوال و جواب کی نششت کو ایسا تراشا کہ “ثبوت” کی شکل میں لوگوں کو اسکو “سچ” تسلیم کروانے کے لئے زور لگنے لگا۔
اور پھر یہی وہ وقت تھا کہ جب تاریخ میں پہلی بار کسی ملک کے میڈیا نے سرعام اور ننگ دھڑنگ دشمن ملک کے لئے جاسوسی کا ” مقدس فریضہ” انجام دیا۔
جی ہاں ، میں بات کر رہا ہوں ، پاکستان اور پاکستانی قوم کے سدا بہار غدار گروپ کی، جنگ اینڈ جیو گروپ آف میر شکیل الرحمن کی۔
اور جب بیچارے فرید کوٹ والوں نے ٹی وی پر اپنے گاوں سے منسوب یہ خبر “آزادانہ صحافتی گروپ” کی جانب سے چلتے دیکھی تو انکے دماغ کی بتیاں روشن ہوئیں کہ وہ جو اجنبی افراد کا گروہ تھا کون اورملک و قوم کیخلاف کیسے بھیانک عزائم لے کر آیا تھا۔
پھر کیا تھا، فرید کوٹ کے لوگ سڑکوں پر نکلنے ، سراپا احتجاج بنے ، مگر جنگ اور جیو اپنے “تنخواہ” حلال کر چکے تھے۔ اور وہ کام جو شاید “را” یا “سی آئے اے” کے تنخواہ داروں کا تھا، جنگ اور جیو نے بھرپور محنت اور اخلاص سے سر انجام دیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان پوری دنیا میں مجرم شمار ہونے لگا۔

اسکے بعد جب گاوں والوں کو اس زہریلے ڈرامے کا علم ہوا تو انہوں نے دوسرے میڈیا چینلز کو اپنے گاوں مدعو کر کے اجمل قصاب کو انکے سامنے پیش کر دیا۔
ارے یہ ہے اجمل قصاب ، فریڈ کوٹ کا رہائشی؟
بڑی عمر ، پکا رنگ، چہرے پر بڑھی سفید شیو اور محنت کش ، جس کی ساری زندگی اپنے علاقے میں ہی گذاری تھی۔ کبھی نہ بھارت گیا اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا۔مگر جنگ اور جیو نے بھارتی اور غیر ملکی میڈیا کے ساتھ ملکر اپنے خود ساختہ اجمل قصاب کی ایسی تشہیر کی کے حقیقت دب کر رہ گئی۔
پاکستان اور پاکستانی قوم کا وقار اور سلامتی داو پر لگ گئی، بھارت پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کی باتیں کرنے لگا، نئی دہلی میں باقاعدہ آپریشن روم قائم کردیا گیا اور منموہن سنگھ نے آپریشن بارے مکمل بریفنگ بھی لے لی۔ بس اب انتظار تھا تو مناسب وقت کا جب یہ ھلہ بولا جائے۔
اور اس وقت اگر بھارت پاکستان میں ھلہ بول دیتا تو ساری دنیا اس کے ساتھ ہوتی جیسا کہ 9/11 کے حملے کے بعد سب امریکہ کی اندھی تقلید اور موٹے ڈنڈے کی وجہ سے اسکے ساتھ تھی ، چاہِے بعد میں خود امریکی یہ اعتراف کرتے نظر آئے کی یہ “ان سائیڈ جاب” تھی۔
اللہ بھلا کرے پاک افواج کے بروقت اور سخت رد عمل اور جواب کا کہ بھارت کی ہوا جھٹ میں خارج ہو گئی ، وگرنہ اس پاک –بھارت “جنگ “کا سارا سہرا میر شکیل الرحمن ایننڈ کمپنی یعنی جنگ اور جیو کے نام جانا تھا۔
اور پھر اختتام وہی ہوا جو ہونا تھا، سچ دب تو سکتا ہے مگر مٹ نہیں سکتا۔
بھارتی اعلی حکومتی اور سیکورٹی اہلکاروں نے یہ انکشاف کرنا شروع کر دیا کہ ممبئی حملے بھی ” انسائیڈ جاب” تھے۔
مگر اب انکا کون پرسان حال ہوتا جو اس جنگ، جیو اور بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگینڈے کا شکار ہو چکے تھے اور بیرونی طاقتوں کے دباو میں تحریک آزادی کشمیر میں پیش پیش چند نامی گرامی حضرات کو ان حملوں کی پاداش میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر کے سپرد زندان کر دیا تھا۔ اور وہ گذشتہ 5 سالوں سے “جنگ اور جیو” کی اسی “نیکی” کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔
اب جب پاکستان میں ان گرفتار شدہ افراد کے خلاف کیس سماعت شروع ہوئی تو دنیا کے سامنے بلا آخر وہ چھپا ہوا سچ اس وقت نکھر کے سامنے آیا کہ جب ایک ادھیڑ عمر بابا جی ، جن کو شاید زندگی سے کم ہی امید باقی ہو، پاوں گھسیٹتے گھسیٹتے دہشتگردی کی عدالت میں جان پہنچے اور ساری بپتا سنا کر دنیا میں ایک بار پھر ممبئی حملوں کے الزام میں زندانوں کے باسی، ان مظلوم پاکستانی اسیران کے لئے ایک امید کی شمع جلا ڈالی ۔
یہ بابا جی استاد محمد مدثر ہیں ، فرید کوٹ کے رہائشی اور ممبئی حملوں کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے “اجمل قصاب” کے استاد محترم!
لیکن انہوں نے کیا ایسا کہا کہ اچانک سارا میڈیا انکی طرف متوجہ ہو گیا؟
انہوں نے “اجمل قصاب” کو پھانسی ہوئی ہی نہیں اور وہ زندہ ہونے کیساتھ کیساتھ پاکستان میں موجود ہے۔ اور وہ خود اس سے ملتے رہتے ہیں اور چائے کے ٹھیلے پر دونوں خوب گپ شپ بھی کرتے ہیں۔ ابھی دو دن پہلے بھی وہ ایسی ہی ایک خوشگوار ملاقات سے فارغ ہوئے ہیں، اگر عدالت حکم کرے تو میں اپنے اس شاگرد رشید کو عدالت عالیہ میں پیش کر دیتا ہوں۔
ہاں جی ، جہاں پر استاد محترم مدثر صاحب کے بیان سے ممبئی حملوں کی حقیقت کا ایک اور راز فاش ہوا وہی پاکستانی میں پابند سلاسل بے گناہ اور 5 سال گناہ ناکردہ کی سزا کاٹنے والے اسیران کی آزادی کی امید پیدا ہوئی ، وہی پر ساتھ ساتھ جنگ اور جیو کے اس “فالس فلیگ آپریشن ” سے بھی پردہ اٹھا گیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری عدلیہ کس حد تک آزاد اور غیر جانبدار ہے۔
اس وقت تمام گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر جہاں جنگ اور جیو رجسٹرڈ غدار بنتے ہیں وہی ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار و قید افراد کی رہائی ایک نئی حقیقت کی صورت میں نظر آرہی ہے۔
بہرحال ہم اس معاملے کو آئین کو قانون کے سپرد کرتے ہیں اور اللہ سے سچ کو واضح اور حق کو غالب کرنے کی دعا کے ساتھ اپنا یہ مضمون اختتام پذیر کرتے ہیں۔