بجلی کا بحران اور عابد شیر علی کے شرارتی بیان

Posted on April 26, 2014



بجلی بحران
ہماری ملک کے اہم ترین اور حل طلب مسائل میں سے ایک مسئلہ بجلی کا بحران ہے۔ عابد شیر علی جو واپڈا کا مملکتی وزیر با تدبیر ہے، اگر بطورایک ٹاک شوز دیکھنے والے کے جن میں موصوف کئی سالوں سے گوہر افشانی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے میں اس کو بلکل پسند نہیں کرتا، اور جب سے اس صاحب کو بجلی کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا ہے، جس طرح کے بیان وہ دوسرے صوبوں بالخصوص کے پی کے اور سندھ کے بارے میں داغدتا جا رہا ہے، میری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اس صاحب کوبجلی چور فقط کے پی کے اور سندھ میں نظر آتے ہیں باقی صوبے پنجاب میں فرشتے رہتے ہیں، وزیر صاحب کے بیانات کو دیکھا جائے تو ان میں صوبائی تعصب کی بو آتی ہے اور ہمارا ملک جس نازک دور سے گذر رہا ہے وہ ایسے بیانات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ہمارا ملک ایسے نازک مرحلے سے گذر رہا ہے جس میں صوبائیت کو ہوا دینے کے بجائے وفاقی ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے۔ ۱۱ مئی ۲۰۱۳ میں جس طریقے سے صوبائی حکومتیں لسانی بنیادوں پر تقسیم کی گئیں ان سے اس ملک کی وحدانیت کو ناقابل تلافی نقصان ہوچکا ہے۔ وفاق کو تو چاہیے تھا کے اس نقصان کو کم کرنے کی کوشش کرتا لیکن ان کی حکمت عملی اب تک تو سیانوں کی سمجھ سے باہر ہے میں تو ایک عام سا پاکستانی ہوں۔ جب سے جناب وزیر اعظم نواز شریف صاحب حکومت کے تخت پر بیٹھے ہیں اور جس طریقے اور جن شخصیات کو وزرا کے قلمدان عنایت کئے گئے ہیں ان کی گوہر افشانیوں نے نا فقط حکومت لیکن اہم ترین اداروں کو بھی عجیب کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ چلو، وہ تو ہماری میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں، لیکن میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ بجلی کا بحران، اگر جدید دور کو دیکھا جائے تو اس کی اصل ترقی کا راز توانائی میں چھپا ہوا ہے۔ جس ملک کے پاس توانائی کی کمی ہے اس ملک کی معاشی حالت بھی بھتر نہیں ہے۔ جس تیزی سے دنیا سائنسی ترقی کر رہی ہے میں تو اس کو برقیاتی ترقی ہی کہونگا۔ توانائی کے بحران کو حل کرنا ایک ایسے ملک میں مسئلہ بنایا گیا ہے جو اللہ تعالی کے بیشمار انعامات سے بھرا پڑا ہے، اس کو حکمرانوں کی نا اہلی نا کہا جائے تو اور اس کو کیا نام دیں، اگر ہم جمھوریت کے بارے میں کچھ کہنے کی جسارت کرتے ہیں کہ ہم کو جمھوریت نے کیا دیا تو ہر طرف سے یلگار ہو جاتے ہے کہ ھم جمھوریت دشمن ہیں، لیکن اگر دیانتداری سے جمھوری اور آمرانہ ادوار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بلکل عیاں ہوجاتی ہے کہ اس ملک کو تھوڑا کچھ جو ملا وہ آمرانہ ادوار کی دین ہے، یہ جو ہمارے پاس تھوڑی بہت بجلی ہے یہ بھی آمر ایوب خان کے دور کی دی ہوئی ہے، جو اب دو بڑے ڈیم بجلی بنا رہے ہیں یہ ایوب خان کے آمرانہ دور کے دیے ہوئے تحفے ہیں جو بجلی بنانے کے سستے ترین ذرائع میں سے ایک ہیں، باقی جو ہم کو بجلی جمھوری ادوار میں دی گئی اس کے قصے تو سارے ملک میں مشہور ہیں، وہ آئی پی پیز ہوں یا رینٹل پاور اسٹیشنس ہوں۔
پھر میں عابد شیر علی صاحب کی دانشمندی کی طرف آتا ہوں جس کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ دوسرے صوبوں کو چور کہا جائے اور اپنا دامن بچایا جائے، لیکن یہ بات توچور مچائے شور والی ہوگئی۔ عابد صاحب سے پوچھا جائے کہ بھائی اگر چوری ہورہی ہے تو اس کو روکنے کی ذمیواری کس پے عائد ہوتی ہے؟ جواب سیدھا سادہ ہے بھائی یہ ذمیداری وفاق کی ہے اور اس ڈپارٹمینٹ کی ہے جو بجلی کے امور چلاتا ہے۔ اگر تم لوگوں کے پاس چوری روکنے کی اہلیت نہیں ہے تو الزامات مت لگاو! باقی اپنی نااہلی چھپانے کے لیے دوسرون کو مورد الزام ٹھرانا انصاف کی بات نہیں ہے۔ عابد شیر علی صاحب عوام تمہارے ان ڈراموں کو بھولے نہیں جو تمہارا خادم اعلی مینار پاکستان پے بیٹھ کر ھاتھ کا پنکھا لگاتا تھا اور بجلی کے لیے وفاق کو بدنام کرتا تھا، اب جیسی کرنی ویسی بھرنی کے لیے تیار ہوجائو! جب پرویز خٹک اور قائم علی شاہ بھی احتجاج کرینگے اور کئمپ لگا کر ھاتھ کے پنکھے کی ہوا کھائینگے اور تمہاری ہوائیں اڑائینگے۔ بجلی کا بحران تو ہے اور اس کی بڑی وجہ بھی بجلی چوری ہی ہے لیکن سوال یہ ہوتا ہے کہ بجلی چوری ہوتی کیوں ہے؟ اس کی دو وجوہات ہیں پہلے نمبر پر کرپشن اور دوسرے نمبر پر بجلی کا مہنگا ہونا۔ کرپشن کون کرتا ہے یہ تو سب کو معلوم ہے لیکن ان کو روکنا کس کا کام ہے یہ بھی سب کو معلوم ہے۔ جب بیماری بھی معلوم ہے مریض بھی موجود ہے تو اس کا علاج کیا جائے۔ سب سے پہلے عابد شیر علی کو شیر بن کر اپنے کھاتے سے کرپٹ مافیا سے نپٹنا پڑے گا اور پھر کس پے الزام دیا جائے تو کچھ بات بن سکتی ہے۔ پھر میں میاں نواز شریف سے اپیل کرونگا کے عابد شیر علی صاحب کی زبان درازی کو لغام دے ورنہ جو پاکستانی قوم چار حصوں میں بٹی ہوئی کہیں اور بٹتی چلی نا جائے۔