چھوٹا سا فرق اور صدیوں کی دوری

Posted on April 24, 2014



امریکہ اور میکسیکو کی بارڈر پر تقریباً اڑھائی لاکھ کی آبادی کا ایک شہر نوگالیس (Nogales) کے نام سے آباد ہے۔ یہ شہر ایک آہنی فصیل کے ذریعے دو حصوں میں تقسیم ہے۔
فصیل کے شمال میں نوگالیس ایریزونا ہے جو کہ امریکہ کی سانتا کروز نامی کاونٹی کا حصہ ہے۔ شہر کے اس حصے میں رہنے والوں کی اوسط آمدن تیس ہزار ڈالر سالانہ ہے، لوگوں کا معیار زندگی بہت بلندہے۔ معاشرے میں برداشت اور آزادیٴ اظہار کا کلچر ہے، قانون سب کے لئے برابر ہے، لوگوں کو انصاف ملتا ہے اور امن و امان کی صورتحال انتہائی بہتر ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت گریجویٹس پر مشتمل ہے اور ان کے لئے نوکریوں کی کوئی کمی نہیں۔ غرض لوگ خوشحال ہیں اور انہیں بنیادی انسانی ضروریات جیسے تعلیم، روزگار، صحت، انصاف اور رہائش وغیرە کا کوئی مسئلہ نہیں۔ امریکہ کے باقی شہروں کی طرح نوگالیس ایریزونا میں بھی جمہوری نظام ہے اور لوگ اپنے نمائندے (مئیر، سینیٹر اور کانگریس مین وغیرە) خود منتخب کرتے ہیں۔
اس فصیل کے جنوب میں شہر کا دوسرا حصہ ہے جسے نوگالیس سونورا کہتے ہیں، جو کہ میکسیکو کا سرحدی شہر ہے۔ یہاں لوگوں کی اکثریت ہائی سکول تک نہیں پہنچ پاتی، بچوں میں شرح اموات نارمل سے زیادە ہے، امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔ لوگوں کی شرح آمدن فصیل کے دوسری طرف موجود لوگوں کی آمدن کا تیسرا حصہ بھی نہیں۔ صحت کی سہولیات کافقدان ہے، معاشرے میں جرائم اور کرپشن عام ہے۔ لوگوں کا کاروبار اور سرمایہ محفوظ نہیں اور نیا کاروبار شروع کرنا بھی جوکھم کا کام ہے۔ مواصلات کا نظام ناکارە ہے۔
جمہوریت ان لوگوں کے ہاں ابھی نوزائیدە ہے۔ سن دو ہزار میں ہونے والی سیاسی اصلاحات سے پہلے لوگوں کے پاس اپنے نمائندے منتخب کرنے یا انہیں تبدیل کرنے کا اختیار نہیں تھا، لوگ آمرانہ طرز حکومت میں جی رہے تھے۔
سوال یہ ہے کہ ایک ہی شہر کے دوحصوں میں، چند فٹ کے فاصلے پر بسنے والے لوگوں کے طرز اور معیار زندگی میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے۔ دونوں حصوں کا موسم، جغرافیائی صورتحال، زبان، رنگ، نسل اور کلچر ایک جیسا ہے۔ حتی کہ ایک ہی آباٴ و اجداد کی اولاد فصیل کے دونوں طرف آباد ہے۔
آج نظر آنے والے اس نمایاں فرق کی بنیاد تب پڑی جب 1853 میں اس شہر کا ایک حصہ امریکہ میں شامل کیا گیا۔ اس وقت تک اس شہر میں کوئی فصیل نہیں تھی، شہر یا اس کے باشندوں میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں تھا۔
1853 میں شہر کے آدھے حصے کی امریکہ میں شمولیت کے ساتھ ہی وە سمت متعین ہو جاتی ہے کہ جس کی بنیاد پہ اس شہر کے دونوں حصوں کے مستقبل کا تعین ہونا ہے۔ اور یہاں جو “چھوٹا سا فرق” پیدا ہوتا ہے وە ہے جمہوریت اور اسی کے اثرات ہیں کہ تقریباً ڈیڑھ سو برس کے عرصہ میں ایک ہی شہر کے دو حصوں اور وہاں کے لوگوں میں اتنا بڑا فرق پیدا ہو گیا۔ جن کے حصے میں جمہوریت آئی وە ہر لحاظ سے شہر کے دوسرے حصے کے لوگوں سے بہت آگے نکل گئے۔
یاد رکھئے جمہوریت ایک “طرز حکومت” ہی نہیں بلکہ ایک “طرز زندگی” کا نام ہے۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کے ثمرات تب ہی دکھائی دیتے ہیں جب یہ تناور درخت بن جائے، بچپن میں شاید اس سے کچھ نہ ملے بلکہ کانٹے بھی مل سکتے ہیں۔ لیکن واقعاتی شہادتیں (circumstantial evidences) یہی کہتی ہیں کہ جن قوموں نے صبر اور برداشت کے ساتھ اس پودے کی آبیاری کی، آج وە اس کے ثمرات سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ نوگالیس اس کی واضح مثال ہے۔
ہم نے جمہوریت کی بنیاد پہ آزادی حاصل کی، جمہوریت ہی کو نظام حکومت کے طور منتخب کیا لیکن چھیاسٹھ برس میں اس ناتواں پودے کو پھلنے نہیں دیا بلکہ بارہا اس پر آمریت کے ایسے گھاوٴ لگائے کہ اب تک ہم اس کے حقیقی ثمرات سے کوسوں دور ہیں۔
حیرت ہوتی ہے کہ اکیسویں صدی کے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسی سیاسی پارٹیاں اور ان کے رہنما بھی ہیں جو سیاستدانوں کی نااہلی اور کرپشن کے حوالے دے کر سرعام اداروں کو آئین شکنی کے مشورے دیتے، بلکہ اکساتے ہیں۔ اس دوڑ میں بہت سے دانشور بھی شامل ہیں جن کے بیانات پڑھ کہ حیرت ہوتی ہے، ایک بزرگ دانشور فرماتے ہیں “اگر فوج کا ڈر نہ ہوتا تو سیاستدان ملک بیچ کر کھا جاتے” کاش یہ لوگ قوم کی ان خطوط پر تربیت کریں کہ سیاستدانوں کو “فوج کے بوٹوں” سے نہیں بلکہ “عوام کے ووٹوں” سے ڈر لگے اور فوج سے اپنے ہی ملک کے سیاسی حکمران نہیں بلکہ دشمن ڈریں اور پھر ہمیں کبھی سقوط ڈھاکہ، سلالہ یا دو مئی جیسے واقعات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
قطع نظر اس کے کہ سیاستدانوں کو کتنا موقع ملا ملک چلانے کا، یہ سچ ہے کہ وە ملک کو خوشحالی کی طرف نہیں لے جا سکے، اس میں ان کی نااہلی اور کرپشن جیسی وجوہات نمایاں ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ماضی میں جتنے بھی آمر اس بات کا بہانہ بنا کر ملک پہ قابض ہوے وە بھی ملک میں کوئی سدھار نہیں لا سکے بلکہ الٹا بہت سے مسائل ورثے میں چھوڑ کے گئے۔ اگر سیاستدانوں کی بددیانتی کی بنیاد پہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں مارشل لا لگائے جاتے تو ان کا سارا وقت ہی آمریتوں کی نذر ہونا تھا کیونکہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں انڈین سیاستدانوں کا پیسہ پاکستانیوں سے کئی گنا زیادە ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا اور اسی لئے وە ہم سے سات گنا زیادە تیر رفتار سے ترقی کر رہے ہیں۔
یقین کیجئے جمہوریت اور قانون کی بالادستی ہی واحد راستہ ہے جس پہ چل کر قوموں نے ترقی کی ہے، ہمیں بھی صبر اور برداشت کے ساتھ جمہوری سفر جاری رکھنا ہو گا تبھی جا کہ ہم ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہو سکیں گے۔