الخوارج- فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزا ن الفوزان حفظہ اللہ

Posted on April 24, 2014



بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف
”الخوارج”
فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزا ن الفوزان حفظہ اللہ

الحمد للہ والصلوۃ والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین امابعد !

خوارج کون ہیں ؟
یہ وہ لوگ ہیں کہ جو حاکم وقت کے خلاف خروج کرتے ہیں، یہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں ظاہر ہوئے،اور ان کے خروج کے نتیجے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔
سیدناعلی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان لوگوں کا شر وفساد مزید بڑھ گیا اور انہوں نے ان کے خلاف بغاوت کی، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی تکفیر کی، کیونکہ انہوں نے ان کے باطل مذہب میں ان کی موافقت نہیں کی اور وہ ہر اس شخص کو جو ان کے مذہب کی موافقت نہ کرے ،کافر کہتے ہیں، انہوں نے انسانوں میں سب سے افضل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی تکفیر کی، کیوں؟
کیونکہ انہوں نے ان کے کفر وگمراہی میں ان کی موافقت نہ کی۔
خوارج کا مذہب :
ان کا مذہب کیا ہے؟ یہ لوگ سنت وجماعت سے کوئی التزام نہیں کرتے، اور نہ ہی حکمران وقت کی اطاعت کرتے ہیں۔ بلکہ اس کے خلاف خروج کو اپنی دین داری تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک حکومت کے خلاف بغاوت کرنا ،تختہ الٹنا ہی اقامت دین ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانوں کی اطاعت کی وصیت فرمائی ہے) اور اللہ تعالی کے اس فرمان کے بھی برعکس ہے :
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾
’’اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ تعالی کی اور اطاعت کرو رسول اللہ ﷺ کی اور جو تمہارے حکمران ہیں ان کی بھی‘‘(النساء: 59)
جس طرح اللہ تعالی نے حکمرانوں کی اطاعت کو دین میں سے قرار دیا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حکمرانوں کی اطاعت کو دین میں سے قرار دیا ہے، فرمایا:
[وأصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ وَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلافًا كَثِيرًا ] [1]
’’میں تمہیں اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرنے اور حکمرانوں کی سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کسی غلام ہی کو حاکم کیوں نہ بنادیا جائے، کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زیادہ عرصہ زندہ رہا تو وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔‘‘
پس حکمرانوں کی اطاعت دین میں سے ہے۔۔۔ جبکہ خوارج کہتے ہیں کہ: نہیں جی، ہم تو آزاد ہیں۔ آجکل ہونے والے حکومت مخالف انقلابات کا یہی طریقہ ہے ۔
الغرض، خوارج اپنی ان حرکتوں سے مسلمانوں میں تفریق، حکومت کے خلاف بغاوت، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی چاہتے ہیں۔ اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا کافر ہے۔

کبیرہ گناہ کا مرتکب جیسے زانی، چور، شرابی وغیرہ ان کے نزدیک کافر ہیں۔ جبکہ اہل سنت والجماعت کا اعتدال پر مبنی عقیدہ ہے کہ ایسا شخص ’’مسلم ناقص الایمان‘‘ (ناقص یا کمزور ایمان والا مسلمان)[2] ہے۔یا اسے ’’الفاسق الملی‘‘ (ملت اسلامیہ میں باقی رہنے والا فاسق شخص) یا پھر ’’مؤمن بایمانہ فاسق بکبیرتہ‘‘ (وہ اپنے ایمان کی وجہ سے مومن ہے اور اپنے کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے) کہتے ہیں۔ کیونکہ دائرہ اسلام سے صرف شرک یا معروف ومشہور نواقض اسلام میں سے کسی کے ارتکاب کے ذریعہ سے ہی نکلا جاسکتا ہے۔ لیکن شرک کے علاوہ دیگر معاصی وگناہ انسان کو اصل ایمان سے خارج نہیں کرتے اگرچہ کبیرہ گناہ ہی کیوں نہ ہوں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿ إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ (النساء: 48)
’’بے شک اللہ تعالی اس کے ساتھ شرک کیے جانے کو ہرگز بھی معاف نہیں فرماتے، اس کے علاوہ جو گناہ جس کے لیے چاہیں معاف فرمادیتے ہیں۔‘‘
خوارج کہتے ہیں کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے، اللہ تعالی اسے ہرگز بھی معاف نہیں فرمائیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں رہے گا اور یہ جو کچھ کتاب اللہ میں آیا ہے اس کے خلاف ہے، سبب یہ ہے کہ ان کے پاس فقہ (دینی سمجھ بوجھ وعلم) نہیں ۔ اس بات پر ذرا غور کریں کہ ان کا اتنی بڑی گمراہی میں مبتلا ہونے کا سبب یہی ہے کہ ان کے پاس فقہ نہیں۔ حالانکہ وہ ایسی جماعت ہیں کہ جو عبادت، نماز، روزہ اور تلاوت قرآن پاک وغیرہ میں انتہائی شدت ومحنت کرتے ہیں اور ان کے یہاں شدید دینی غیرت بھی پائی جاتی ہے لیکن دینی فقہ وصحیح سمجھ نہیں، اور یقیناً یہ بہت بڑی آفت ہے۔
جبکہ یہ بات لازم ہے کہ عبادت، زہد ، تقوی وورع میں اجتہاد وکوشش، فقہ فی الدین وعلم کے ساتھ ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوصاف اپنے صحابہ کے سامنے بیان فرمائے کہ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے سامنے حقیر سمجھو گے اور ان کی عبادت کے سامنے اپنی عبادت کو ہیچ تصور کرو گے، پھر فرمایا:
يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ [3]
’’ وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیرکمان سے نکل جاتا ہے۔‘‘
اپنی عبادتوں کے باوجود، اپنی خیر وصلاح کے باوجود، اپنے قیام اللیل وتہجد کے باوجود۔ چونکہ ان کا عبادات میں محنت واجتہاد کرنا صحیح بنیادوں اور صحیح علم پر استوار نہیں ،تو وہ خود ان کے لیے اور امت کے لیے گمراہی، وبال وشر کا سبب بن گیا۔
خوارج کے بارے میں کبھی بھی یہ نہیں سنا گیا کہ وہ کافروں سے جہاد وقتال کررہے ہیں بلکہ ان کا تو کام ہی مسلمانوں کے خلاف جہاد وقتال کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ [4]
’’اہل اسلام کو قتل کرتے ہیں اور اہل اوثان (بت پرستوں/کافروں) کو چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘
ہم خوارج کی پوری تاریخ میں نہیں جانتے کہ انہوں نے کبھی کفار ومشرکین کے خلاف قتال کیا ہو، بلکہ یہ تو ہمیشہ مسلمانوں ہی سے قتال کرتے ہیں: سیدنا عثمان، علی بن ابی طالب، زبیر بن عوام اور جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو قتل کیااور آج تک مسلمانوں ہی کو قتل کرتے چلے آرہے ہیں۔
خوارج کی گمراہی کے اسباب:
اس کا سبب یہ ہے کہ اپنے تقوی وورع، عبادت ودین میں محنت کے باوجود دین سے جہالت اور ان تمام عبادات ومحنتوں کا علمِ صحیح کی اساس پر نہ ہونا، خود ان پر وبال بن گیا۔ اسی لیے علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے ان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایاولھم نصوص قصروا فی فھمھا
فاتو من التقصیر فی العرفان [5]
ان کے پاس کچھ نصوص (دلائل) ہیں جن کے صحیح فہم سے وہ قاصر ہیں پس وہ حقیقی علم وعرفان کو پانے میں تقصیر کا شکار ہیں۔
وہ نصوص ودلائل سے استدلال تو کرتے ہیں لیکن انہیں اس کا صحیح فہم حاصل نہیں ہوتا۔ وہ کتاب وسنت میں گناہوں پر وعید وسزا کے دلائل سے استدلال کرتے ہیں مگر اس کا صحیح معنی نہیں سمجھتے۔ وہ دوسرے دلائل کی طرف رجوع نہیں کرتےکہ جن میں گناہ ہونے کے باوجود مغفرت کا وعدہ ہے اور شرک کے علاوہ گناہوں کی توبہ کا ذکر ہے۔پس انہوں نے ایک طرف لے کر دوسری طرف کو بالکل چھوڑ دیا۔ یہی ان کی جہالت ہے۔
صرف دینی غیرت اور جذبہ کافی نہیں بلکہ لازم ہے کہ یہ صحیح علم اور فقہ فی الدین پر قائم ہوں اور ضروری ہے کہ یہ غیرت وجذبہ علم ِصحیح کے نتیجے میں صادر ہوا ہو اور صحیح موقع محل پر ہوا ہو۔
دین کے بارے میں غیرت کرنا اور گرمجوشی دکھانا اچھی بات ہے لیکن یہ بھی لازم ہے کہ اسے اتباع کتاب وسنت کے ذریعہ کنٹرول وقابو کیا جائے۔
خوارج سے تعامل
ہم دین کی غیرت میں اور مسلمانوں کی خیرخواہی چاہنے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے بڑھ کر تو نہیں ہوسکتے مگر اس کے باوجود انہوں نے عظیم خطرے اورشر کے باعث خوارج کو قتل کیا ۔
ان سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نےجنگ نہروان میں بہت ہی زبردست قتال فرمایا ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت کے مصداق بنے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خوارج کو قتل کرنے والوں کو خیر اور جنت کی بشارت سنائی تھی۔ پس سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کیا اور اس نبوی بشارت کے مستحق قرار پائے۔ [6]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ:
سَيَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ،لا َ يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ [7]
آخری زمانے میں ایسی قوم نکلے گی جو کم سن وکم عقل ہوگی، بظاہر تو سب سے اچھی بات کریں گے [8]، لیکن ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا [9]، دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ قتل کردو، کیونکہ جو بھی انہیں قتل کرے گا بروزقیامت اسے اس قتل کرنے پر اجر ملے گا)
ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ خوارج اور ان کی علامات [10]سے متعلق حدیث روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
قتلھم لیدفع شرھم عن المسلمین
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں سے ان کے شر کو دور کرنے کے لیے قتل کیا ۔‘‘
ہر دور کے مسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ اگر اس خبیث وگندے مذہب کا وجود موجود ہو تو اس کا سب سے پہلے دعوت کے ذریعہ علاج کیا جائے اور لوگوں کو اس سے متعلق علم وآگاہی دی جائے۔ لیکن اگر وہ پھر بھی نہ مانیں تو ان کے شرکو دور کرنے کے لیے ان سے قتال کیا جائے۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد بھائی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ (جو حبر الامۃ،امت کے بڑے عالم وترجمان القرآن ہیں) کو ان خوارج کے پاس بھیجا۔پس انہوں نے ان سے مناظرہ کیا،جس کے نتیجے میں ان میں سے چھ ہزار تائب ہوکر واپس آگئے لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد نے رجوع نہیں کیا۔ پھر اس اتمام حجت کے بعد امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ مل کر ان کے خلاف قتال [11] فرمایا۔تاکہ ان کے شر وایذارسانی کو مسلمانوں سے دور کیا جائے۔

المحاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ، محاضرۃ رقم 47
………………………………………….. ……………………………………….

حواشی
[1] ۔ رواہ ابوداؤد : 4607، والترمذی : 2676
[2]۔ اگرچہ وہ اس کبیرہ گناہ کو ہلکا جانتا ہویا اس پر دوام و ہمیشگی اختیار کرے،کافر نہیں ہوگا حتی کہ وہ اسے حلال سمجھے۔ برخلاف ان کے جو آجکل یہ کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب اگر اسے ہلکا جانتے ہوئے ( یا ہمیشگی و دوام اختیار)کرے تو وہ کفر اکبر کا مرتکب ہوکر ملت اسلامیہ سے خارج ہوگیا۔ یہ بھی عین خوارج کا ہی قول ہے، جیسا کہ شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے طائف میں (1415ھ میں) اس سوال کے جواب میں یہی فرمایا۔
[3]۔ البخاری المناقب (3414)، مسلم الزکاۃ (1064)، النسائی الزکاۃ (2578)، ابو داود السنۃ (4764)، احمد (3/5)، جزء من حدیث طویل اخرجہ احمد (3/73)، والبخاری (4/108، 178، 179)، و(5/110، 111، 205) و(6/115) و(7/111) و(8/52، 53، 178)، ومسلم برقم (1064)، والنسائی برقم (2577، 4112)، وابوداود برقم (7464)، والطیالسی برقم (2234)، من حدیث ابی سعید۔۔ومن حدیث علی بن ابی طالب، البخاری (4/179) و(6/144، 115) و (8/51، 52) ومسلم برقم (1066)، وابوداود برقم (4767) والطیالسی برقم (168)، والنسائی برقم (4113)، واحمد (1/81، 113) ومن حدیث جابرعند احمد، ومسلم، والنسائی، وابن ماجہ، ومن حدیث سھل بن حنیف، عند: الشیخین، والنسائی۔ ومن حدیث ابن مسعود عند: احمد، والترمذی، وابن ماجہ، ومن حدیث برزۃ الاسلمی عند: احمد، والطیالسی، والنسائی، والحاکم۔ ومن حدیث ابی سعید وانس عند: احمد وابی داود، والحاکم فی (مستدرکہ)۔ ومن حدیث ابی بکرۃ عند: احمد، والطبرانی۔ ومن حدیث عامر بن وائلۃ عند: الطبرانی۔
[4] ۔ جزء من حدیث طویل، اخرجہ احمد (3/68، 73)، ومختصرا (3/72)، والبخاری (4/108) و(8/178)، مختصرا، ومسلم برقم (1064)، والنسائی برقم (2577، 4112)، وابوداود برقم (7464)، والطیالسی برقم (2234)۔
[5] ۔ نونیۃ ابن القیم المساۃ الکافیۃ الشافیۃ فی الانتصار للفرقۃ الناجیۃ ص 97۔
[6] ۔ روی البخاری فی (صحیحہ) (8/51-52)، ومسلم فی (صحیحہ)، رقم الحدیث (1066)، واحمد فی (مسندہ (1/113)، وابن ابی عاصم فی (السنۃ) برقم (914)، وعبداللہ ابن الامام احمد فی (السنۃ) برقم (1487)۔
[7] ۔ البخاری استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم (6531)، مسلم الزکاۃ (1066)، والنسائی تحریم الدم (4102)، ابوداود السنۃ (4767)، احمد (1/131)
[8] ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ یعنی قرآن کریم میں سے بات کیا کریں گے جیسا کہ اس سے پہلے والی ابو سعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے، اور جیسا کہ ان کا سب سے پہلا خروج “لاحکم الا اللہ” (اللہ تعالی کے سوا کوئی حاکم اعلی نہیں) کے ذریعہ تھا جو کہ قرآن کریم ہی سے اخذ کیا گیا تھا مگر ان کے دین میں عدم فقہ کی وجہ سے اس کے غیرمحل پر اسے محمول کیا گیا تھا۔ (ط ع)
[9] ۔ علی رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری روایت جیسا کہ بخاری 1066 وغیرہ میں ہے کہ “يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ” (وہ قرآن مجید پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا) شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے دو معنی ہیں اور دونوں صحیح ہیں ایک تو وہ قرآن مجید کے محض الفاظ پڑھتے ہوں گے اس کا صحیح معنی ومفہوم نہیں سمجھتے ہوں گے، دوسرا وہ اس کثرت سے عبادت وتلاوت قرآن کرتے ہوں گے گویا کہ وہ ان کے حلق سے نیچے ہی نہیں اترے گا یعنی اس تسلسل سے عمل کرتے ہوں گے۔ (ط ع)
[10] ۔ رواہ احمد فی (المسند) (3/33)، وابنہ فی (السنۃ) (1512)، قال : فحدثنی عشرون او بضع وعشرون من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان علیا ولی قتلھم۔
[11] یہاں پر ایک مسئلہ پر شرح صدر ضروری ہے کہ خوارج سے قتال ہر عام مسلمان کا کام نہیں ، بلکہ یہ ایک خالص حکومتی فریضہ ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ملک میں فساد و خلل امن کا باعث بنتے ہیں۔ ایک عام مسلمان کا خوارج کے ساتھ تعامل کیسا ہونا چاہیئے ، اس بارے امام اہل السنہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز تصنیف اصول السنہ میں رقمطراز ہیں:
” چوروں (ڈاکوؤں) اور خوارج سے قتال کرنا جائز ہے اگرو ہ کسی شخص کی جان ومال کے درپے ہوں تو اسے چاہیے کہ اپنی جان ومال کی حفاظت کے لئے ان سے لڑے اور ان کا دفاع کرے جس قدر بھی اس کی طاقت ہو۔ مگر اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ اگر وہ اسے چھوڑ کر بھاگ جائیں تو انہیں طلب کرے یا ان کا پیچھا کرے،یہ حق سوائے مسلمانوں کےحکمرانوں کے اور کسی کا نہیں۔ اسے بس چاہیے کہ وہ اپنے جگہ پر اپنا دفاع کرے اور اپنی اس کوشش کے بارے میں یہ نیت رکھے کہ کسی کو قتل نہیں کرنا، لیکن اگر اس کے ہاتھوں اپنا دفاع کرتے ہوئے لڑائی میں کوئی قتل ہوجائےتو اللہ تعالی نے اس مقتول (چور وخوارج وغیرہ) کو رفع دفع کردیا، اور اگر یہ دفاع کرنے والا اس حالت میں کہ وہ اپنی جان ومال کا دفاع کررہا تھا قتل ہوجائے تو اس کی شہادت کی امید کی جاتی ہے۔ اس بارے میں جو احادیث اور تمام آثار آئے ہیں ان میں صرف اس سے (موقع پر) لڑنے کا حکم ہے، اس کے (لازمی) قتل کرنے یا اس کا پیچھا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، اور نہ ہی اس پر خود حملہ آور ہونے کا، اگر وہ گر جائے یا زخمی ہوجائے، یاپھر اسے بطور قیدی قید کرلے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ اسے قتل کردے، اور نہ ہی اس پر حد قائم کرے، بلکہ اس کا معاملہ اس حاکم تک لے جائے جسے اللہ تعالی نے اس کا ذمہ دار بنایا ہے، اور وہی اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا ”۔

(اصول السنہ از احمد بن حنبل: اصول :35)