ٹی ٹی پی نے اپنی آفیشل سائٹ پر میڈیا پر حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

Posted on April 23, 2014



بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریک طالبان پاکستان – بیان نمبر (16)

جیو نیوز اور ایکسپریس نیوز کے دفتر پر حملے کی ذمہ داری قبول کر کے

طالبان مجاہدین نے دجالی میڈیا کو عبرت ناک انجام کی وارننگ جاری کر دی

خاص رپورٹ: انصار اللہ اردو

تحریک طالبان پاکستان نے ایک پریس بیان جاری کرکے 2 دسمبر 2013ء کو اسلام کیخلاف جنگ برپا کرنے میں شیطانی ہتھکنڈوں کو اختیار کرکے ابو لہب کے نقش قدم پر چلنے والے ایکسپریس نیوز کے دفتر اور جیو نیوز پر ہنڈ گرنیڈ سے ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے تنبیہی وارننگ والی کارروائی قرار دیا۔

پریس بیان میں پاکستانی الیکٹرونک وپرنٹ میڈیا ادارے اور صحافیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ امریکہ اور اس کے ایجنٹ پاکستانی حکومتی نظام سے ڈالرز وصول کرکے اسلام کیخلاف جاری عالمی صلیبی جنگ کے ترجمان بن کر جو کردار ادا کررہے ہیں، اس سے باز آجائیں۔

اسی طرح شیعہ، عیسائی اور قادیانیوں کی زبان بن کر مجاہدینِ اسلام اور ملک کے دیندار طبقے کو بدنام کرنے کی ابلیسی مہم ترک کردیں اور صحافتی اقدار اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں۔

بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا کہ: ’’اگر وہ اپنی اس مجرمانہ روش سے باز نہیں آتے ہیں تو آنے والے دن ان کے لئے ہولناک ہوں گے۔‘‘

پاکستانی مجاہدین کی جماعت ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘ نے میڈیا اداروں میں کام کرنے والے مسلمانوں کو اللہ تعالی سے ڈراتے ہوئے ان کو مستقبل میں ہونے والے حملوں کا نشانہ بننے سے بچانے کے لیے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ: ’’وہ ایسے تمام میڈیا اداروں میں ملازمت کرنے کو چھوڑ دیں، جو اسلام اور مجاہدین کیخلاف میڈیا وار لڑنے میں دن رات مصروف ہیں، کیونکہ اب ان میڈیا اداروں کے ساتھ وہی سلوک اور برتاؤ کیا جائے گا جس کا حکم اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ نے اسلام ومجاہدین کیخلاف دشمن کی صف میں کھڑے ہونے والے معاونین اور پشت پناہی کرکے جنگ لڑنے والوں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

پریس بیان میں ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘ نے میڈیا اداروں اور صحافیوں کے معاملے کی حساسیت اور نزاکت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ: نبوی دور میں ایک شاعر کو ہتھیار اٹھا کر لڑنے والے سے بھی زیادہ سخت سمجھا جاتا تھا، جبکہ اس دور میں تو شاعر سے بھی زیادہ بڑا کردار یہ میڈیا والے جنگ میں ادا کررہے ہیں بلکہ ساری جنگ ہی اس وقت ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعے لڑی جارہی ہے۔

پریس بیان کے آخر میں احادیث کے ذریعے سے میڈیا اداروں میں کام کرنے والے مسلمانوں کو ان کے فرائض یاد دلاتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ’’چند روپوں کی خاطر اپنا ایمان مت بیچیں اور اسلام ومجاہدین کیخلاف میڈیا پروپیگنڈوں میں کسی قسم کا کوئی معمولی کردار اور چند جملوں کے ساتھ قلمی وزبانی مدد کرکے اپنے لیے جہنم کا ایندھن مت تیار کریں۔‘‘

’’تحریک طالبان پاکستان‘‘ کا چند ڈالروں کے عوض اسلام ومجاہدین کیخلاف صلیبی میڈیا یلغار لڑنے والے پاکستانی میڈیا اداروں اور صحافیوں کے نام جاری تنبیہی بیان کا مکمل متن یہاں سے ملاحظہ کریں:

بسم الله الرحمن الرحيم

تحریک طالبان پاکستان – بیان نمبر (16)

پاکستان میں چند ڈالروں کے عوض اسلام ومجاہدین کیخلاف صلیبی میڈیا یلغار لڑنے والے میڈیا اداروں کو تنبیہی بیان

{لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا * مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا * سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا}.

’’اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے، اور (اسی طرح) مدینہ میں جھوٹی خبریں پھیلانے والے لوگ (اپنے کردار سے ) باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھا کھڑا کریں گے، پھر وہاں تمہارے پڑوس میں وہ نہ رہ سکیں گے مگر(مشکل ہی سے) تھوڑے دن۔ (یہ) لعنت کئے ہوئے لوگ جہاں کہیں پائے جائیں، پکڑ لئے جائیں اور چُن چُن کر بری طرح قتل کر دیئے جائیں۔ اللہ کا (یہی) دستور چلا آرہا ہے اُن لوگوں میں (بھی) جو پہلے گزر چکے ہیں، اور آپ اللہ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پائیں گے۔‘‘ (الأحزاب: 60-62)

۲۷ محرم الحرام ۱۴۳۵ بمطابق ۲ دسمبر ۲۰۱۳ تحریک طالبان کے بہادر مجاہدین نے ایکسپریس نیوز کے دفتر اور جیو نیوز پر ہنڈ گرنیڈ سے کامیاب حملہ کیا، ہم میڈیا پر ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور یہ ہماری تنبیہی کارروائیوں کا حصہ ہے۔

آج اسلام کیخلاف جنگ برپا کرتے ہوئے شیطانی ہتھکنڈوں کو اختیار کرنے میں ابو لہب کے نقش قدم پر چلنے والے پاکستانی الیکٹرونک وپرنٹ میڈیا ادارے اور صحافی حضرات کو ہم خبردار کرتے ہیں کہ وہ امریکہ اور اس کے فرنٹ لائن ایجنٹ مرتد پاکستانی حکومتی نظام سمیت تمام دشمنان اسلام سے مختلف مد میں ڈالرز وصول کرکے اسلام کیخلاف جاری عالمی صلیبی جنگ کے ترجمان کا کردار ادا کرنے کا سلسلہ بند کردیں، فرعون کے جادوگروں کی طرح شیعہ، عیسائی اور قادیانیوں کی زبان بن کر مجاہدینِ اسلام اور ملک کے دیندار طبقے کو بدنام کرنے کی ابلیسی مہم ترک کردیں اور صحافتی اقدار اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں۔

اگر وہ اپنی اس مجرمانہ روش سے باز نہیں آتے ہیں تو آنے والے دن ان کے لئے ہولناک ہوں گے۔

ہم میڈیا اداروں میں کام کرنے والے ہر مسلمان کو اللہ تعالی سے ڈراتے ہیں کہ وہ ایسے تمام میڈیا اداروں میں ملازمت کرنے کو چھوڑ دیں، جو اسلام اور مجاہدین کیخلاف میڈیا وار لڑنے میں دن رات مصروف ہیں، کیونکہ اب ان میڈیا اداروں کے ساتھ وہی سلوک اور برتاؤ کیا جائے گا جس کا حکم اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ نے اسلام ومجاہدین کیخلاف دشمن کی صف میں کھڑے ہونے والے معاونین اور پشت پناہی کرکے جنگ لڑنے والوں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رکھیں کہ اگر ایک شاعر کو ہتھیار اٹھاکر لڑنے والے ایک جنگجو سے زیادہ خطرناک اور سخت قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

“اُهْجُوْا قَرَيْشًا فَاِنَّه اَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ رَشْقِ الْنَبل”.

’’قریش کی ہجو کرو! یہ ان پر تیر اندازی سے زیادہ سخت ہے‘‘۔ (مسلم)

تو پھر ہمارے اس دور کا میڈیا ہتھیار تو نبوی دور کے اشعار سے بھی زیادہ سخت اور اثر انگیز ہے اور آج تو ساری جنگ ہی ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعے لڑی جارہی ہے۔ اس لیے چند روپوں کی خاطر اپنا ایمان مت بیچیں اور اسلام ومجاہدین کیخلاف میڈیا پروپیگنڈوں میں کسی قسم کا کوئی معمولی کردار اور چند جملوں کے ساتھ قلمی وزبانی مدد کرکے اپنے لیے جہنم کا ایندھن مت تیار کریں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“إن العبد ليتكلم بالكلمة من سخط الله لا يلقي لها بالا يهوي بها في جهنم”.

’’بیشک انسان اللہ کی ناراضگی والا ایک بول ایسا بولتا ہے کہ وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا ہے، مگر وہ اسے جہنم میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔‘‘(صحیح بخاری)

اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:

“من أعان على قتل مسلم بشطر كلمة لقي الله يوم القيامة مكتوب على جبهته : آيس من رحمة الله”

’’جس نے محض (زبان سے) کسی ایک لفظ کے ساتھ بھی کسی مسلمان کو قتل کرنے میں مدد دی تو قیامت کے دن اس کی ملاقات اللہ تعالی کے ساتھ اس حال میں ہوگی کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا کہ ’’اللہ کی رحمت سے محروم ہونے والا‘‘۔ (البیہقی)

آپﷺ نے فرمایا:

“إن الرجل ليتكلم بالكلمة من سخط الله ما كان يظن أن تبلغ ما بلغت يكتب الله له بها سخطه إلى يوم يلقاه”.

’’بیشک انسان اللہ کی ناراضگی والا ایک ایسا جملہ بولتا ہے جسے وہ انتہائی معمولی سمجھتا ہے، مگر اللہ تعالی اس جملے کہ وجہ سے اس کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک (یعنی تاقیامت) اپنی ناراضگی کو لکھ دیتا ہے۔‘‘ (مؤطا، احمد، ترمذی، ابن ماجہ)

والله أكبر

{وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لا يَعْلَمُونَ}
’’عزت تو اللہ، اس کے رسول اور مؤمنین کے لیے ہیں لیکن منافقین نہیں جانتے‘‘

ادارہ عمر برائے نشرواشاعت
تحریکِ طالبان پاکستان

مآخذ: (صدى الجہاد میڈیا سینٹر)
عالمی اسلامی میڈیا محاذ

لنک: http://jihadepakistan.blogspot.com/2013/12/16.html