ہاں! خوارج کے نزدیک مسلمان عورتوں کا قتل جائز ہے! ضرور پڑھیئے

Posted on April 21, 2014 Articles



بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

جنگ میں تو کسی کافرہ عورت کا دانستہ قتل بھی حرام ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے سختی کے ساتھ منع فرمایا تھا۔…تو مسلمان عورت یا بچی کی خون بہانہ اور وہ بھی حالت امن میں اور دانستہ طور پر!!!

یہ مسلمانوں کا نہیں مجاہدین کا نہیں بلکہ خوارج کا دیرینہ وطیرہ ہے بلکہ اگر بات سچ اور مبنی بر حقیقت کی جائے تو
خوارج کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وہ تو نکلے ہی قول رسول کی مخالفت کی بنیاد پر تھے اور آج بھی ان کا مخالفت والا یہ فعل پورے زور شور سے جاری ہے۔۔۔

کبھی آپ سنتے ہیں ، بچیوں کا سکول تباہ ، اتنی معصوم بچیاں زخمی اور کبھی استانیوں کی وین پر فائرنگ اتنی استانیاں جاں بحق اتنی زخمی ، وغیرہ وغیرہ۔۔۔

آخر کیوں؟

تو اس کا جواب نہایت سادہ اور صاف ہے کہ عصر حاضر میں اس دہشت گردی کا اصل سبب اور محرکات وہی ہیں جو قرون اولی کے خوارج کے تھے۔

آئے ہم آپ کو دلیل و برہان کے ساتھ اس مسئلے کی وضاحے کیئے دیتے ہیں

{{{{ حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ کا سفاکانہ قتل }}}}

امام طبری، امام ابن الاثیر اور حافظ ابن کثیر روایت کرتے ہیں :

فأضجعوه، فذبحوه، فسال دمه في الماء، وأقبلوا إلی المرأة. فقالت : أنا امرأة، ألا تتقونﷲ؟
فبقروا بطنها، وقتلوا ثلاث نسوة من طئ.
ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 : 219۔۔۔طبری، تاريخ الأمم والملوک، 3 : 119۔۔۔ابن کثير، البداية والنهاية، 7 : 288
’’پس خوارج نے حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کو چت لٹا کر ذبح کر دیا۔ آپ کا خون پانی میں بہ گیا تو وہ آپ کی زوجہ کی طرف بڑھے۔
انہوں نے خوارج سے کہا :
میں عورت ہوں، کیا تم (میرے معاملے میں) اﷲ سے نہیں ڈرتے؟
اُنہوں نے ان کا پیٹ چاک کر ڈالا اور (ہمدردی جتانے پر) قبیلہ طے کی تین خواتین کو بھی قتل کر ڈالا۔‘‘

اس واقعے کے بعد:
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عبد اﷲ بن خباب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ نے حارث بن مُرہ العبدی کو خوارج کے پاس دریافتِ احوال کے لیے بھیجا کہ معلوم کریں کیا ماجرا ہے؟
جب وہ خوارج کے پاس پہنچے اور حضرت عبد اﷲ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا سبب پوچھا تو خوارج نے انہیں بھی شہید کر دیا۔
(ابن الأثير، الکامل فی التاريخ، 3 :219)

لہذا ، یہ کوئی انہونی اور نئی حرکتیں ہر گز نہیں کہ جس پر حیرت کا اظہار کیا جائے۔ اور پریشان ہوا جائے کہ یہ کون لوگ ہیں جو مسلمانوں کی عورتوں اور بچیوں کو بھی معاف نہیں کرتے!

یہ ہیں عصر حاضر کے جدید خوارج ، یعنی بھیڑ کی کھال میں بھیڑئے جو غول کو اندر ہی اندر سے چٹ کر رہے ہیں۔

اسی ہی وجیہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے فرمایا تھا:

“خوارج جہنم کے کتے ہیں”

اللہ ان کے شر سے تمام مسلمان مردوں ، عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو محفوظ فرمائے۔ آمین