کیا آپکو معلوم نہیں خوارج کسی کہتے ہیں؟

Posted on April 21, 2014 Articles



{{{ بسم اللہ الرحمن الرحیم }}}
خوارج کون ہیں اور انکی سب سے بڑی نشانی کیا ہے؟
اور خوارج کے بارے اللہ نے کیا حکم نازل کیا ہے؟؟؟

جانیئے مفسر قرآن قاطع خوارج حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی زبانی!

سورۃ المائدۃ میں ارشادِ باری تعاليٰ ہے :

اِنَّمَا جَزٰؤُا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ وَيَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ يُّقَتَّلُوْا اَوْيُصَلَّبُوْا اَوْتُقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ وَاَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الاَرْضِ ط ذٰلِکَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌo

(المائدة، 5 : 33)

’’بے شک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا پھانسی دیے جائیں یا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیں یا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یا قید) کر دیے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے‘‘

1۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :

من شهر السلاح في فئة الإسلام، وأخاف السبيل ثم ظفر به، وقدر عليه فإمام المسلمين فيه بالخيار، إن شاء قتله وإن شاء صلبه وإن شاء قطع يده ورجله.

1. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، 6 : 214
2. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 2 : 51

’’جس نے مسلم آبادی پر ہتھیار اٹھائے اور راستے کو اپنی دہشت گردی کے ذریعے غیر محفوظ بنایا اور اس پر کنٹرول حاصل کرکے لوگوں کا پر امن طریقے سے گزرنا دشوار کر دیا، تو مسلمانوں کے حاکم کو اختیار ہے چاہے تو اسے قتل کرے، چاہے تو پھانسی دے اور چاہے تو حسبِ قانون کوئی اذیت ناک سزا دے۔‘‘

2۔ امام طبری اور حافظ ابنِ کثیر نے لکھا ہے کہ سعید بن مسیب، مجاہد، عطاء، حسن بصری، ابراہیم النخعی اور ضحاک نے بھی اسی معنی کو روایت کیا ہے۔

1. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، 2 : 51
2. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، 6 : 214

3۔ اس کو امام سیوطی نے بھی ’’الدر المنثور (3 : 68)‘‘ میں روایت کیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی عام مسلمان کے لئے یہ سمجھنا اب کوئی مشکل نہیں کہ خوارج کون ہیں اور انکا کیا حکم ہے۔