برداشت کا فقدان

Posted on April 21, 2014



پاکستان کے موجودە مسائل میں سرفہرست دہشتگردی کا مسئلہ ہے اور قوم اس کے حل کے حوالے سے دو بڑے طبقات میں منقسم ہے، ایک طبقے کے نزدیک اس بڑے مسئلے کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے جتنا حل بات چیت کے ذریعے ممکن ہو ہونا چاہئے اور اگر پھر بھی کچھ ٹکڑوں کا حل نہ نکلے تو مذاکرات کی بجائے کوئی دوسرا طریقہ آزمانا چاہئے، کیونکہ طاقت کے ذریعے ہم پچھلے دس بارە سال میں امن نہیں لا سکے، بلکہ الٹا پچاس ہزار جانوں اور اربوں ڈالرز کا نقصان کر چکے سو اب ہمیں خود کو مزید نقصان سے ہر صورت روکنا ہے۔
اور ایک دوسرا طبقہ بھی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ نہیں صاحب، یہ ایک ناسور ہے اور اس کا حل صرف آپریشن سے ہی نکل سکتا ہے چاہے اس میں جتنا بھی وقت لگے اور جیسا بھی نقصان ہو ہمیں صبر کرنا چاہئے کیونکہ امن کی خاطر قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ اور ان کی دلیل یہ بھی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہم اگر امن لے بھی آئے تو جو پچاس ہزار لوگ اس جنگ میں کام آئے ان کے ورثا کو ہم کیسے مطمئن کریں گے، ان کا قصاص کون دے گا ۔
رضا رومی دوسرے طبقہٴ فکر کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں، پاکستان کے موجودە مسائل کے حل کے حوالے سے ان کے نظریات سے میرے سمیت بہت سے لوگ شاید متفق نہ ہوں۔ ان کے ٹی وی پروگرامز اور اخباری مضامین بہت لوگوں کو ناگوار گزرتے ہوں گے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کو چاہنے والوں اور ان کے خیالات سے اتفاق رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں۔حامد میر کی طرح رضا رومی پہ بھی ان سے اختلاف رکھنے والوں نے حملہ کیا، ان کو تو الله نے بچا لیا لیکن ان کا ڈرائیور جس کا شائد اس “نظریاتی جھگڑے” سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور جس کا نام رحمت للعالمین صلی الله علیہ وسلم کے نام پہ رکھا گیا تھا، وە اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر گیا
پنجابی زبان کا محاورە ہے “ٹگیاں دی لڑائی تے ٹانڈیاں دی تبائی” یعنی بیلوں کی لڑائی میں فصلیں برباد ہوتی ہیں ۔ سوچ کی حد تک ان دونوں طبقات میں سے کسی کے ساتھ ہونا قابل قبول ہے لیکن کچھ انتہاپسند عناصر دونوں طرف موجود ہیں جو بندوق کے زور پر دوسرے کو دبانا چاہتے ہیں اور یہی اصل میں “ٹگے” ہیں اور ان کی لڑائی میں غلام مصطفٰے اور غازی رشید کی والدە جیسے لوگ مارے جا رہے ہیں۔ ایک طرف مشرف جیسے لوگ ہیں جو “سرکاری بندوق” کے زور پر “روشن خیالی” مسلط کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف مولانا فضل الله جیسے لوگ ہیں جو “اپنی بندوق” کے زور پہ شریعت لانا چاہتے ہیں
قابل فکر بات یہ ہے کہ کیا چیز ایک فرد یا تنظیم کو اس بات پر اکساتی ہے کہ وە نظریاتی اختلاف کی بنیاد پہ کسی کی جان، مال، عزت و آبرو پہ حملے جیسا قبیح جرم کرے، اور پھر اس بات کی بھی پرواە نہ کرے کہ اس کے وار کی زد میں اس کے مخالف کے علاوە بھی کسی جان جا سکتی ہے۔ کس چیز نے معاشرے میں برداشت کے لیول کو اس حد تک گرا دیا ہے۔
سب سے بڑا قصور تو اس میں ریاست اور اس پہ مسلط حکمران طبقات خصوصاً آمروں کا ہے۔ عام آدمی کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی، جمہوریت اور انصاف جیسے بنیادی حقوق کی عدم فراہمی اور ریاستی تشدد کے ذریعے مسائل کے حل کی کوشش کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ عوام کو جب ریاست کے روپ میں “ماں” نہیں بلکہ ایک ظالم اور غاصب غنڈە دکھائی دے تو پھر وە ریاست سے بدگمان ہوتے ہیں اور یہیں سے مسائل کی بنیاد شروع ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ وە لوگ بھی اس صورتحال میں برابر کے ذمہ دار ہیں جو ریاست کو اپنے نظریاتی مخالفین کے خلاف تشدد پہ اکساتے ہیں۔ جو زور و شور سے یہ دلائل دیتے ہیں کہ فلاں آئین کو نہیں مانتا، فلاں جمہوریت کو نہیں مانتا اس لئے اس فلاں کو بم، میزائل یا جیٹ طیاروں سے مار ڈالو۔ اور اس وقت وە بھی یہ بھول جاتے ہیں کہ آئین یا جمہوریت وغیرە کو نہ ماننا بھلے غلط ہے لیکن ہے تو یہ بھی نظریاتی اختلاف اور ان کے خلاف صرف اس بنیاد پہ تشدد کا استعمال بالکل ویسے ہی قابلِ مذمت ہے جیسے رضا روی پہ ہونے والا حملہ۔
یقین کیجئے ہم تب تک مہذب معاشرە نہیں بن سکتے جب تک ہم مذہبی، فرقہ وارانہ، لسانی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر سب کو اپنی رائے رکھنے کا حق دیتے ہوے اکٹھے رہنا نہیں سیکھیں گے اور تشدد کی ہر قسم کی مخالفت نہیں کریں گے چاہے وە بگٹی کا قتل ہو، سیالکوٹ کا یا جامعہ حفصہ کا سانحہ ہو، بوری بند لاشیں یا ٹارگٹ کلنگ ہو، ڈرون حملے ہوں اور چاہے معصوموں پہ ہونے والے خودکش یا ریموٹ حملے ہوں۔ رواداری اور برداشت ہی واحد راستہ ہے معاشرے کے بگاڑ کو ختم کر کے امن و سکون لانے کا۔
“صریرِ خامہ” فرید قریشی