کیا مصالحتی عرف مکا مکا سیاست پاکستانی عوام کو کچھ دے پائے گی؟

Posted on April 19, 2014 Articles



میں نے یہ سوال اس تناظر میں کیا ہے کہ سیاستدانون نے یہ فرض کرلیا ہے کہ اگر وہ متحد ہوجائیں تو تو تیسری قوت یعنی مارشلا کا راستہ روک سکتے ہیں۔ چارٹر اف ڈیموکریسی بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اور زرداری کی پانچ سالہ مصالحاتی سیاست بھی اسی ہی سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔ اور اس کے سارے دور میں پاک آرمی کو بدنام کرنے کی کوشش اس سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ کیری لوگر بل، میمو اسکینڈل اور دوسرے جو بھی ڈرامے کیے گئے یہ سب پاک ارمی کو کمزور کرنے کی سازشیں تھیں اور جہاں تلک نواز بھائی کا تعلق ہے وہ ان سب معاملات میں اپنے بھائی زرداری کے ساتھ تھے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت، ملکی سیاست میں دو پارٹیاں طاقتور ہیں اور ان کی حیثیت پہلے درجے کی ہے۔ اب دوسرے یا ثانوی حیثیت کی پارٹی تحریک انصاف ہے، اگر اسکی یے ہی کار کردگی رہی تو پھر اس کا حشر بھی مسلم لیگ (ق) یا اس سے بھی بدتر ہوسکتا ہے اور تیسری درجے کی پارٹی ایم کیو ایم اور یہ پارٹی بھی شکست و ریکھ کے مراحل سے گذر رہی ہے لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ اس پارٹی کا ووٹ بینک سلامت رہے گا اور وہ بلدیاتی انتخابات میں اپنا حدف آسانی سے حاصل کر لے گی۔
جمھوریتی نظام کے دو حصے ہوتے ہیں ایک اکثیرتی اور دوسرا اقلیتی۔ اکثیریتی حصہ حکومت کرتا ہے اور اقلیتی حصہ حکومت کی مخالفت میں ہوتا ہے جس کوعرف عام میں اپوزیشن کہا جاتا ہے۔ یہ ہی جمھوریت کہلاتی ہے۔ دونوں حصے عوام کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ دونوں کو عوام ہی اقتداری ایوانوں میں ووٹ دیکر بھیجتے ہیں۔ اگر جمھوریت کی اصل روح کو دیکھا جائے تو حکمران ہوں یا حکمران مخالف دونوں طبقوں کا کام صرف عوام کے بھبود کے لیے کام کرنا ہوتا ہے۔ جمھوریت میں حکمران بادشاہ نہیں ہوتے وہ ہر طرح سے عوام کے اگے جوابدار ہوتے ہیں لیکن کیسے؟ اس کا جواب اپوزیشن ہے۔ حکومت چیز ہی ایسی ہوتی ہے جس کی چمک دھمک حکمران طبقے کی انکھوں کو خیرہ کردیتی ہے اور ایسی حالات میں اپوزیشن کا کام ہوتا ہے کہ حکمرانون کی انکھیوں سے اس چمک دھمک کا پردہ اتارے اور ان کو اپنی ذمیداریوں کا احساس دلائے اور اپوزیشن کا یہ کام بھی ہوتا ہے کہ عوام کو وقت وقت پے اصل حقائق سے روشناس بھی کراتی رہے، صرف اپوزیشن کا یہ کام نہیں کے حکومت کے سیاہ کرتوتوں کو صرف انے والے الیکشن میں ووٹ لینےکے لیے استعمال کرے۔ اگر کسی ملک کی اپوزیشن حکمرانوں کے ساتھ مل جائے اور مک مکا کی سیاست کرنے لگے تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ۔ اگر چور اور چوکیدار مل جائیں تو نتیجہ تو لوٹ مار ہی نکلے گا۔
اپوزیشن سے ہی تو جمہوریت ہوتی ہےاگر اپوزیشن نہ ہو تو جمھوریت، ڈکٹیٹرشپ اور بادشاھت سے بھی بدتر ہو جاتی ہے۔ یہ جو لولی لنگڑی جمھوریت کے بھاشن ہم کو روزانا پرائیم ٹائیم کے ڈراموں یعنی ٹاک شوز میں دکھایا جاتا ہے یہ صرف قوم کو الو بنایا جاتا ہے۔ گذرے ہوئے ۵ سالہ جمھوریت کی کارکردگی ہمارے سامنے ہے یعنی اپوزیشن اور حکومتی کار کردگی کیونکہ میری نظر میں کسی ملک کی بدحالی میں جتنا کردار کسی حکومت کا ہوتا ہے اتنا ہی کردار اس وقت کی اپوزیشن کا بھی ہوتا ہے۔ ۵سال تک اپوزیشن اور حکومت کا کھیل چلتا رہا یے ایسے مداریوں کا کھیل تھا جس میں تماشائیوں یعنی عوام کو ہی بے وقوف بنایا جاتا رہا اور اس کا انجام ایسی الیکشن ہوا جس میں سارا پاکستان ۴ حصوں میں بٹ گیا۔
نواز زرداری ملاقات سے ظاہر ہورہا ہے کے یہ کھیل ابھی تک جاری و ساری ہے شاید اس کا انجام اگلی باری زرداری نا نکلے۔ اور عوام کو صرف جھوٹھے واعدوں پے پھر کہیں دوکھا نا ہوجائے۔ لیکن اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے مدد کرے اور ہمارے حکمرانوں کو ھدایت بخشے اور ہم عوام کو بھی ھدایت عطا کرے یا ان حکمرانوں کو اچھے اور نیک حکمرانوں سے بدل دے اور ہم عوام کی دلوں کو بھی اچھائی کی طرف بدلے اور ہم اپنے لیے سچے اور پر خلوص حکمرانوں کا چناو کریں (امین)