پاکستان میں ہونے والے دھماکوں کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ

Posted on April 18, 2014 Articles



پاکستان میں ہونے والے دھماکوں کا تحقیق وتنقیدی جائزہ

مقدمہ
یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان دھماکوں میں مسلمانوں کی بے شمار جانیں ضائع اور املاک تباہ کر دی جاتی ہیں جسکے نتیجہ میں اہل اسلام میں خوف و ہراس پھیلتا ہے اور مسلمان ہی بدنام ہوتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی معیشت کا بھی ستیاناس ہوتا ہے اور سینکڑوں یتیموں اور بیواؤں کا بوجھ امت مسلمہ کے کندھوں پر آن پڑتا ہے ۔ اور دشمن اہل اسلام کو داخلی طور پر کمزور دیکھ کر ان پر یلغاریں تیز کر دیتا ہے اور خانہ جنگی کی سی صورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کفار کی خفیہ ایجنسیوں کو کُھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے ۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ سب دھماکے جو اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان میں کیے جاتے ہیں انکا مقصد اسکے سوا اور کچھ نہیں کہ مملکت خدا داد پاکستان کو ایک غیر محفوظ ریاست ثابت کرکے اسکے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے بہانے سے ہمیشہ کے لیے اس نعمت خداوندی سے محروم کر دیا جائے اور پھر اسلام کے اس قلعہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے ۔ کیونکہ دنیا میں جب کبھی کسی بھی جگہ مسلمانوں پر ظلم وستم ہوتا ہے تو انکی نظریں پاکستان پر ہی جمتی ہیں کہ یہی وہ ملک ہے جہاں سے اسلام اور اہل اسلام کا دفاع ممکن ہے ۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی مسلمان مغلوب ہوئے ہیں تو کبھی کسی کافر نے بزور شمشیر انہیں مغلوب نہیں کیا بلکہ مسلمانوں میں ہی غدار پیدا کیے گئے اور اسلام کے قلعہ کی فصیل کبھی نہیں ٹوٹی بلکہ ہمیشہ اسکے دروازے اندر سے ہی کھولے گئے ہیں۔اور آج بھی شریعت یا شہادت کے خوشنما نعرہ کے ساتھ خارجیوں کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے فی سبیل اللہ فساد کرنے والے شہیدی (خودکُش)حملوں کے نام پر سرزمین پاکستان کو آتش وآہن کی لپیٹ میں دیے ہوئے ہیں اور زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ اے دنیا کے طاغوتو ! ہم نے پاکستانیوں کو اندر سے الجھا رکھا ہے ، اب تم ہمت کرو اور اسکی سرحدوں کو توڑ کر جلدی سے داخل ہو جاؤ تاکہ ہم تمہارے ساتھ مل کر شریعت نافذ کریں ۔
جی ہاں ! ائمۃ الکفر کے زیر سایہ شریعت اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان دھماکوں کے ماسٹر مائنڈز سے لے کر قتل ہونے والے خود کش بمباروں تک سب کے سب صرف مسلمانوں پر بارود برساتےہیں اور انہوں نے کبھی آج تک بت پرستوں کو غصیلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھا ! ان کی دھمکیوں اور دھماکوں کا ہدف صرف رب ذوالجلال کے حضور سربسجود ہونے والے لوگ ہی ہیں، بت کدوں کو تحفظ دینے کے لیے مساجد ومدارس کا استحصال انکا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ارض پاکستان کو دارالحرب اور دار الکفر قرار دے کر کبھی افواج پاکستان ، عدلیہ ومقننہ اور دیگر حکومتی ادارے ان کی شرانگیزیوں کا محور بنتے ہیں اور کبھی عوام پاکستان ۔ الغرض انکا کوئی بھی تیر مسلمانوں کے متفقہ دارالحرب و دار الکفر امریکہ وانڈیا کے خلاف استعمال نہیں ہوتا! ۔ اور اس پر مستزاد یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ انکے پاس یہ بھاری اسلحہ ، گولہ وبارود کہاں سے آیا ، کہ افغان طالبان بھی ان سے اعلان برأت کر چکے اور انہوں نے کسی کافر پر حملہ آور ہو کر مال غنیمت بھی حاصل نہیں کیا! کہیں انکی سپلائی یاروں کے گھر سے تو نہیں آرہی ؟؟؟ا ور وہ اسی نمک حلالی کے ذوق میں انہیں کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔
وہ ہندوستان کے بت پرستوں کو کچھ کہہ بھی کیوں سکتے ہیں ؟ کہ انہوں نے ان ہنومان کے پجاریوں کے زخموں پر مرہم رکھا ہے ۔ جی ہاں ! وہ زخم جو انہیں مقبوضہ کشمیر میں لگے تھے جسکی وجہ سے ہندوستان کی آدھی فوج مقبوضہ وادی میں مصروف ہوگئی ہے ۔اسکا بدلہ چکانے کے لیے پاکستان میں جابجا دھماکے کرکے پاک فوج کو بھی سرحدوں کی حفاظت کے بجائے ارض پاک کے گلی کوچوں میں مصروف کرکے ، قبائلی علاقوں میں الجھا کر کئی ایک مقبوضہ کشمیر پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ تاکہ جب انڈیا یا امریکہ اچانک حملہ کرے تو افواج پاکستان اپنے ہی شہروں میں پھنس چکی ہو ۔ اور یہ کام ایک مضبوط پلاننگ کے تحت کیا جا رہا ہے ۔ جسکا ناچاہتے ہوئے بھی اظہار امریکہ کی طرف سے کیا جاچکا ہے کہ “ہمارا اصل ہدف افغانسان وعراق نہیں بلکہ پاکستان تھا ” !!! ۔ اور وہ پاکستان کے خلاف ڈرون حملوں اور داخلی خودکُش دھماکوں کے ذریعہ محاذ گرم کیے ہوئے ہیں ، کیونکہ کرگسوں میں اتنی جرأت کہاں کہ وہ میرے شاہینوں اور شہبازوں سے پنجہ آزمائی کرسکیں بلکہ انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی سکت سے بھی محروم ہیں ، ہاں پتھر کے دور میں پہنچانے جیسی گیدڑ بھبکیاں ضرور لگاتے رہتے ہیں ۔ جبکہ مفت کے مفتی جنکے فتووں کا کوئی بھی بھاؤ نہیں ہے ، وہ کتاب وسنت کے دلائل کو توڑ مروڑ کر اس خانہ جنگی کے لیے جواز فراہم کر رہے ہیں ، اور ان دھماکوں کو نفاذ اسلام اور غلبہء اسلام کی کوششوں سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔ مسلم امت کے ناحق خون کو کبھی قتل خطا کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی اسکے جواز کی بودی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں اور کبھی اس جرم بے جرم کی پاداش میں بہنے والے خون کو اپنی مجبوری کے رنگ میں چھپانے کی سعی لاحاصل کی جاتی ہے ۔
یاد رہے کہ ملک پاکستان شریعت اسلامیہ کے نفاذ کے لیے ہی معرض وجود میں آیا تھا لیکن کچھ داخلی و خارجی مجبوریاں اور کچھ اپنوں کی کرم فرمائیوں کے نتیجہ میں یہ خواب تا حال صحیح طور پر شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ۔ اور ہر سچا مسلمان اپنے سینہ میں آج بھی یہ تڑپ اور طلب لیے ہوئے ہے کہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا جانے والا قطعہء ارضی اللہ کے نظام پر چلنے والی مثالی ریاست بن جائے ۔ لیکن اسکا طریقہ کار جو اہل فساد نے اپنا رکھا ہے تمام تر اہل نظر اس سے اختلاف رکھتے ہیں کیونکہ شریعت کا نفاذ صرف اور صرف اس طریقہ سے ممکن ہے جسے رہبر شریعت ، امام الانبیاء جناب محمد مصطفى ﷺ نے اپنایا تھا ۔ اور وہ طریقہ ومنہج قتل وغارت گری ، مسلمانوں کی جان ومال کے ضیاع ، خوف ہراس پھیلانے ، اور بغاوت کرنے والا نہ تھا ، بلکہ وہ طریقہ عقیدہ وعمل کی احسن انداز میں دعوت دے کر دلوں پر تسلط قائم کرنے کا تھا کہ جسکے نتیجہ میں پہلی اسلامی حکومت مدینہ منورہ میں قائم ہوئی اور جسکے نتیجہ میں تلوار چلائے بغیر مکہ فتح ہوا ۔
اسلام نے تلوار صرف وہاں اٹھائی ہے جہاں اسے دعوت کے راستے مسدود نظر آئے اور زور بازو آزمانے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ بچا ، یا پھر دشمنوں کے حملوں کو روکنے کے لیے جہاد کیا گیا ۔ لیکن اس میں بھی قتل عام کی اجازت نہ تھی ، بلکہ عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں کو قتل کرنا تو سرے سے ہی ممنوع تھا ، حتى کہ ان جوانوں کو بھی تہ تیغ کرنے روک دیا گیا جو ہتھیار گرا دیں اور مسلمانوں پر حملہ آور نہ ہوں۔ جبکہ فسادیوں کے ان دھماکوں اور خودکُش کاروائیوں میں جان بوجھ کر بے گناہ بچوں اور عورتوں کو قتل کیا جاتاہے ، نہتے شہریوں کو خاک وخوں میں نہلا دیا جاتا ہے ۔ اور اکثر وبیشتر اپنے اس ہدف تک رسائی میں ناکامی ہی ہوتی ہے کہ جسے ہدف بنانا شرعی طور پر بھی درست نہیں ہوتا ۔
زیر نظر کتابچہ میں ہم اسی بات پر بحث کریں گے کہ :
1. کسی بھی مسلمان کو جان بوجھ کر یا انجانے میں قتل کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
2. جاہل مفتیوں نے ان دھماکوں کے جواز میں جو فتاوى دیے ہیں انکی کیا حقیقت ہے ؟
3. دھماکے کے انداز اور طریقہ کار کو اسلام میں کیا حیثیت حاصل ہے ؟
4. پاکستان میں کیے جانے والے دھماکوں کا فائدہ کسے اور نقصان کس کو ہوا ہے ؟

جابر علی عسکری
دامانِ پشتو، پشاور
۲۰شعبان۱۴۳۴ھ

خونِ مسلم کی حرمت

اللہ تعالى کے ہاں مسلم جان کی بہت ہی زیادہ قدر وقیمت ہے حتى کہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان ذی شان کے مطابق ساری دنیا کا تباہ ہو جانا ایک مؤمن کے قتل کی نسبت اللہ کے ہاں معمولی ہے ۔
(سنن نسائی : ۳۹۸۶)
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالى ایسے شخص کو ابدی جہنم کی وعید سنائی ہے جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے ۔( النساء : ۹۳) اور اگر کوئی غلطی سے کسی مؤمن کو قتل کر بیٹھے تو اسے بھی اللہ رب العزت نے غلام کو آزاد کرانے اور دیت ادا کرنے کے بھاری جرمانہ کی سزا سنائی ہے (النساء : ۹۲)۔ اور کسی مسلمان کو قتل کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی ہاں بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر صرف تین قسم کے مسلمانوں کا قتل جائز قرار دیا یعنی شادی شدہ زانی ، قاتل ، اور مرتد کو قتل کرنے کی اجازت دی ہے لیکن یہ کام بھی ہر ایک شخص کے سپرد نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف مسلمان حکمران اور عدلیہ کی ذمہ داری ٹھہرائی ہے کہ وہ یہ کام سر انجام دیں ۔ (صحیح بخاری : ۴۷۴۵) لیکن اس سے قبل اتنی شدید پابندیاں اور چھان بین کا اصول مقرر فرمایا ہے کہ محض شک یا ا لزام کی بناء پر کسی کو قتل نہ کر دیا جائے۔ مثلا زنا کے بارہ میں چار ایسے عادل گواہوں کی شرط رکھی ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے زنا ہوتے ایسے دیکھا ہو جیسے سرمچو سرمہ دانی میں داخل ہوتا ہے ۔ (سنن ابی داود : ۴۴۲۸)
اور پھر صرف یہی نہیں کہ مسلمان کے قتل سے روکا گیا ہے بلکہ مسلمان کے معاہدات کی بھی تکریم کی گئی اور اگر کسی کافر کو کوئی بھی مسلمان پناہ دے دے تو تمام تر مسلمانوں پر لازم کر دیا گیا کہ وہ اس کافر کی جان ومال کی بھی حفاظت کریں (صحیح بخاری :۳۱۷۹)۔ اور اگر کوئی شخص ایسے کافر کو قتل کر دیتا ہے جسے کسی مسلمان نے پناہ دی ہو یا اسکے ساتھ امن معاہدہ کر رکھا ہو، تو اسکے لیے جنت تو کجا جنت کی خوشبو سے بھی محرومی کی وعید سنائی گئی ہے (صحیح بخاری : ۳۱۶۶)۔ اور اگر کوئی شخص غلطی سے کسی معاہد(امن معاہدہ والے) کافر کو قتل کر دیتا ہے تو اسے بھی سو اونٹ بطور دیت ادا کرنا ہونگے اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہوگا اور اگر اسکی استطاعت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے ۔ (النساء : ۹۲)
جبکہ ان خود کُش دھماکوں میں صرف اور صرف یہی لوگ ہدف بنتے ہیں یعنی بے گناہ مسلمان ، یا پھر مسلمان ملک کے ساتھ امن معاہدہ کرکے آنے والے کفار ، اور یہ جاہل حملہ آور اس کبیرہ گناہ کو ثواب عظیم سمجھ کر سر انجام دیتا ہے ۔ حالانکہ اسلام میں ان لوگوں کا قتل کسی بھی صورت جائز نہیں ہے ۔ اور پھر ستم بالائے ستم کہ یہ دھماکے کیے بھی ایسی جگہوں پر جاتے ہیں کہ جنکے بارہ میں کوئی ذی شعور مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا ۔ اللہ کے گھر مساجد ، اسلام کی چھاؤنیاں مدارس ، اور عوام الناس کے جمع ہونے کی جگہوں مثلا مارکیٹوں، بازاروں کو ہدف بنایا جاتا ہے ۔ یا پھر دیگر ممالک سے آنے والے غیر مسلم جو ایک امن معاہدہ کے تحت یہاں داخل ہوئے ہیں اور انکا کام ہمارے ہی ملک کی تعمیر وترقی ہے ، یا سیر وسیاحت انکا مشغلہ ہے ۔
اور پھر اسلام نے تو کسی مسلمان کو ڈرانے اور دہشت زدہ کرنے سے بھی منع فرمایا ہے ۔ (سنن ابی داود : ۵۰۰۴) جبکہ ان دھماکوں اور حملوں کے نتیجہ میں پوری امت مسلمہ بالعموم اور اسلامیان پاکستان بالخصوص دہشت کا شکار ہیں ۔ہر کوئی اسی پریشانی کے عالم میں کہ نہ جانے کب کوئی خودکش بمبار کسی جگہ سے برآمد ہو اور انسانی جسموں کے چیتھڑے بکھر جائیں ۔ خوف وہراس کی اس فضاء نے کارو بار زندگی کو معطل کر دیا ہے ۔ بے روزگاری بڑھ گئی ہے ۔ سرکاری ونیم سرکاری اداروں کے ملازمین موت کے بادلوں کو سر پہ منڈلاتا دیکھ کر فرائض منصبی کو صحیح طور پر ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ اور غیر سرکاری ادارے اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ سیکورٹی پہ صرف کرنے پر مجبور نظر آتے ہیں ۔ان شر انگیزوں کی شرارتوں سے کوئی پاکستانی محفوظ نہیں ہے ، حتى کہ یہ خود بھی ایک دوسرے سے محفوظ نہیں ! کتنے ہی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ آپس میں ایک دوسرے کو شک کی بناء پر یہ لوگ قتل کرتے چلے جاتے ہیں کیونکہ تحقیق وتفتیش اور حوصلہ وحکمت سے یہ لوگ عاری ہیں ۔ یعنی محض انسانی خون کے پیاسے اور قتل وغارت کے خوگر یہ درندے بنی آدم کے لاشوں کے انبار لگا کر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں ۔ اور ان موجود ازبکی ٹولہ سے تو یہ خود بھی خائف رہتے ہیں ، کہ انہیں تو صرف گردنیں کاٹنے کا بہانہ چاہیے ۔ اپنے پرائے کی تفریق کیے بغیر ایک دوسرے پر جاسوسی کا الزم دھرتے کاٹتے چلے جاتے ہیں ۔انکی اس خونخواری پر وحشی درندے بھی حیرت زدہ ہیں ۔

طاغوت نواز مفتیوں کے فتاوى کی حقیقت
ان سب نقصانات اور شرعی و اخلاقی قباحتوں کے باوجود عصر حاضر میں ایسے طاغوت نواز، خارجی فکر کے حامل مفتیوں نے جنم لیا جنہوں نے اس خانہ جنگی کو سند جواز فراہم کی۔ اور کفر کا شروع سے یہی وطیرہ رہا ہے کہ ٹکے دو ٹکے کے ملاؤں کو خرید کر ان سے من پسند فتوے حاصل کیے جاتے ہیں اور پھر مسلمانوں میں سے کمزور عقیدہ وایمان کے لوگوں سے ان فتووں پر عمل درآمد کرایا جاتا ہے۔ اور یہی کہانی ارض پاک میں دہرائی گئی کہ حکمرانوں اور افواج پاکستان کو طاغوت قرار دیا گیا اور پھر پاکستانی عوام کے ایمان واسلام کو بھی مشکوک بنا دیا گیا اور ان سب کومرتد حکمران ، مرتد افواج اور مرتد عوام کہہ کر انکے قتل کا بے دلیل جواز پیش کیا گیا ۔ ذیل میں ہم انکے فرسودہ دلائل کی قلعی کھولیں گے۔
پہلی دلیل :: عوام مرتد ہو چکی ہے ۔:
ان دھماکوں میں جوبے گناہ لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں انکے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ لوگ طاغوتی حکمرانوں کی اطاعت اور انکے نظاموں کو تسلیم کرنے کی وجہ سے مرتد ہو چکے ہیں ۔ لہذا اگر ان دھماکوں میں عوام الناس کو ہدف بنا لیا جائے یا ہدف کے حصول کی خاطراگر انکی جانیں ضائع ہو جائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
عوام الناس کے پاکستانی حکمرانوں کے ماتحت چلنے کی وجہ سے انکے ایمان کی نفی اسامہ بن لادن نےاپنے ایک بیان میں بھی کی ہے جسے تکفیری ابو علی المہاجر نے اپنی کتا ب ” جہاد پاکستان پر اٹھائے جانے والے شبہات کا مدلل رد” کے صفحہ ۲۰ اور ۲۱ پر نقل کیا ہے۔ اور اسی قسم کا تأثر اسد اللہ قاسمی نے اپنی کتاب” کیا ہمارے حکمران کافر ہیں ” کے صفحہ ۲۸ تا ۳۰ پر دیا ہے کہ کفار کی کسی بھی مدد کرنے والا شخص کافر ہو جاتا ہے ، اور عوام الناس بھی پاکستانی نظام کو تسلیم کرکے “طاغوتی عدالتوں ” سے فیصلے کروا کر ، امریکی جنگ میں مدد کے لیے ٹیکس اداکرکے اس کفر کی مرتکب ہور ہی ہے ۔ اور پاکستانی افواج ، عدالتیں ، پولیس وغیرہ کے کفر میں شک کی تو کوئی گنجائش باقی نہیں بچی ۔ اور اس پر اس نے مفتی نظام الدین شامزئی جیسے لوگوں کے فتاوی بھی نقل کیے ہیں ۔اور پھر صفحہ ۵۹تا ۶۱ پر وکلاء اور ججوں کو سب سے بڑا کافر یعنی طاغوت قرار دیا اور اسکے لیے مالاکنڈ ڈویژن کے دیوبندی مفتی ولی اللہ اور دیگر کے فتاوى کا سہارا لیا ۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے انصاران طاغوت ص ۱۶ تا ۱۸ ، اور آسمانی قوانین سے اعراض ، از ابوجنید۔
اس دلیل کا تجزیہ۔:
اس دلیل میں جو بات مفتیانِ کج فہم کہنا چاہتے ہیں سادہ لفظوں میں وہ یہ ہے کہ تمام تر اہل پاکستان کافر ہو چکے ہیں ۔ اور اب انکی جان ومال کی کوئی قدر وقیمت باقی نہیں رہی ۔
اس دلیل میں جو فکر پیش کی گئی ہے وہ عین تکفیری اور خارجی فکر ہے ۔ خوارج کبیرہ گناہ کے ہر مرتکب کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے تھے اور انکی جان ومال کو ا پنے لیے مباح سمجھتے تھے ۔ اور کائنات کے تمام تر تکفیریوں کی بنیاد خوارج پر ہی ہے اور وہ بھی عوام الناس کی تکفیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور تکفیر کے اصول وضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لوگوں کی بے جا تکفیر کرتے ہیں۔ پاکستانی عوام کا قصور ہی کیا ہے کہ یہاں کے ملاؤں نے انہیں عقیدہ وعمل سکھانے اور انکی رہبری کرنے کی بجائے ان پر کفر کے فتووں کی توپ چلا رکھی ہے ۔ اور عوام بے چارے اپنی جہالت و لاعلمی کی بناء پر ایسے کاموں کی مرتکب ہو رہی ہے ۔ حالانکہ نبی مکرم ﷺ کی سیرت طیبہ اس بات کا سبق دیتی ہے کہ اگر کوئی شخص لاعلمی و نادانی کی بناء پر ایسا کام کر بھی لے تو اسے سمجھایا جائے نہ کہ اسے کافر کہہ کر تہ تیغ کر دیا جائے ۔
سیدنا معاذ بن جبل t جب شام سے واپس آئے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو سجدہ کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بڑی محبت سے انہیں سمجھایا کہ یہ کام درست نہیں ہے (سنن ابن ماجہ : ۱۸۵۳)
لیکن آج کے فتوى باز تکفیریوں کے پاس ایسے شخص کے لیے سوائے کافر / مشرک کے اور کوئی الفاظ نہیں ہیں ۔ اور اگر بس چلے تو غیر اللہ کے سامنے سجدہ ریز شخص کا سر اٹھنے سے پہلے ہی تن سے جدا کر دیں ۔
یہی ایک بنیادی فرق ہے ان تکفیریوں کے منہج اور رسول اللہ ﷺ کے منہج کے مابین ۔ یعنی شریعت اسلامیہ کا تقاضہ ہے کہ اگر کوئی شخص کفریہ یا شرکیہ کام کرتا پایا جائے تو اسے فی الفور کافر ومرتد کہہ کر موت کے گھاٹ نہ اتار دیا جائے بلکہ اسکی اصلاح کی جائے ، اگر وہ لا علمی میں ایسا کر رہا ہے تو اسے کتاب وسنت کے دلائل سے سمجھایا جائے کہ یہ کام انسان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے ، اور اگر وہ قرآن یا حدیث سے ہی استدلال کرکے غلط نتیجہ نکالے ہوئے ہے تو اسکی اس تاویل کو ختم کیا جائے اور اگر وہ کسی بڑی طاقت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے مجبور ہو کر کفریہ کلمہ کہتاہے یا کفریہ کام کرتا ہے تو اسے اس وقت تک ایسا کرنے کی اجازت دی جائے جب تک اس طاقت کا خوف ختم نہیں ہو جاتا ۔
نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کفریہ کلمات کہنے کی اجازت دی تھی کیونکہ انکا دل اسلام پر مطمئن تھا اور وہ صرف کفار کے ظلم سے بچنے کے لیے ایسا کرتے تھے (مستدرک حاکم : ۳۳۶۲)
الغرض اسلام کسی بھی کلمہ گو شخص کو کافر یا مشرک قرار دینے سے پہلے بہت ہی زیادہ تحقیق وتفتیش کا حکم دیتا ہے ۔ اور جب تک مرتد پر حجت قائم نہ کر لی جائے اسے قتل کرنے سے منع کرتا ہے ۔ حتى کہ اگر کوئی شخص کفار کی صف میں کھڑا ہو ، اور واضح طور پر کافر ومشرک ہو ، اس نے کبھی اسلام کا کلمہ نہ پڑھا ہو ، اور مسلمانوں کو تہ تیغ کرتا چلا جا رہا ہو ، لیکن میدان جنگ میں ہی وہ کسی مسلمان کی زد میں آجائے اور اپنے آپ کو قتل ہوتا دیکھ کر فورا کلمہ پڑھ لے تو بھی اسلام اسے قتل کرنے سے روکتا ہے ۔ اور اگر کوئی اسے ایسی صورت حال میں قتل کر دیتا ہے تو اسلام اس قاتل کے عمل سے اظہار براءت کرتا ہے ، اور اسے سخت سرزنش کرتا ہے (صحیح مسلم : ۹۷)۔
لیکن دوسری طرف یہ تکفیری اور خارجی ٹولہ ہے کہ جو محض اہل اسلام کے خون کا پیاسا نظر آتا ہے ۔ مسلمانوں میں خون کی ہولی کھیلنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا ۔اور بہانے بہانے سے اسلامیان پاکستان کے خون سے ہاتھ رنگتا ہے ۔اور اس میں سے سب سے بڑا بہانہ یہ کہ “اسلامیان پاکستان مرتد ہو چکے ہیں ” -انا للہ وانا الیہ راجعون-
سیدنا خالد بن الولید t کو نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے لشکر دے کر بنی جَذِیمہ کی طرف بھیجا ۔ انہوں نے وہاں جا کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی ، لیکن وہاں کے رہنے والے چونکہ یہ سنتے تھے کہ جو بھی محمد ﷺ کے دین کو اپناتا ہے اسے صابی یعنی بے دین کہا جاتا ہے ۔ تو انہوں نے بھی بجائے اسکے کہ وہ کہیں ہم مسلمان ہوگئے ، یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم بے دین ہو گئے ، حالانکہ انکا مقصود اسلام کا اظہار کرنا ہی تھا لیکن انہیں اظہار اسلام کا صحیح طریقہ نہیں آیا ۔ تو خالد t نے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا اور کچھ کو قیدی بنا لیا ، اور پھر ایک دن قیدیوں کو بھی قتل کرنے کا حکم دے دیا ، لیکن عبد اللہ بن عمر t نے انکا یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ نہ میں اپنے قیدی کو قتل کروں گا اور نہ ہی میرا کوئی ساتھی ایسا کرے گا ۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور آپ ﷺ کو سارا واقعہ سنایا گیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور دو مرتبہ فرمایا ” اے اللہ خالد نے جو کچھ کیا ہے میں اس سے بری ہوں ” (صحیح بخاری : ۴۳۳۹)
اور آج اسلامیان پاکستان کا بھی یہی حال ہے کہ وہ بیچارے اسلام سے سچی محبت رکھتے ہیں ، عشق نبوی کا سچا جذبہ انکے دلوں میں موجزن ہے ، دین سے محبت انکے رگ وپے میں گردش کرتی ہے ، وہ اسلام کی خاطر اور ناموس رسالت کی خاطر اپنا تن من دھن سب کچھ لُٹانے کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں ۔ مگر افسوس کہ پاکستان کے کچی روٹی پکی روٹی پڑھنے والے ملاؤں نے انہیں اسلام پر عمل پیرا ہونا سکھایا ہی نہیں کہ وہ صحیح مسلمان بن سکیں ، جس قدر ٹوٹے پھوٹے عقائد و اعمال انہیں معلوم ہیں وہ انہیں ہی اسلام سمجھتے ہیں ۔ اور ان پر مضبوطی سے عمل پیرا ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی کفر کی طرف لوٹ کر نہیں جانا چاہتا ، وہ کفر و اہل کفر سے شدید نفرت رکھتے ہیں ، بلکہ غیظ وغضب کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ مگر وائے ناکامی کہ ایسے محبان اسلام ، عاشقان رسول مقبول ﷺ ، جانثاران صحابہ واہل بیت] ، فدائیان ملت اسلامیہ کو صرف نادانی اور جہالت وکم علمی کی بناء پر کافر قرار دے کر ہمیشہ کی نیند سلایا جا رہا ہے ۔
حالانکہ قاتل بھی جانتے ہیں کہ جب بھی کفر واسلام کا معرکہ بپا ہوگا یہ سب اسلام کی صفوں میں کھڑے ہونگے ، مسلمانوں کے ہی دست وبازو بنیں گے ، انکا وزن اہل ایمان کے پلڑے میں ہی گرے گا ، یہ دین کے مجاہد ثابت ہونگے ۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود ، امریکہ وانڈیا نواز مفتیوں کے فتوے ڈالروں کے حساب سے بکتے ہوئے نظرآتے ہیں ، اور اسلامیان پاکستان موت کی وادیوں میں دھکیلنے کے لیے اسرائیلی و امریکی اسلحہ بھی انکے پاس پہنچ جاتا ہے ، اور اہل ایمان کو خوں میں نہلا کر اپنے آقاؤں کو خوش کیا جاتا ہے ۔ اور اپنے سوا باقی سب کو کافر کہہ کر انکے مال بھی لوٹے جاتے ہیں اور جانیں بھی ضائع کی جاتی ہیں ۔
جبکہ سابقہ سطور میں ہم قرآن وسنت کے جو دلائل پیش کر آئے ہیں ان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اہل پاکستان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوئے ، بلکہ وہ سچے مسلمان ہیں ، اور انکا قتل کرنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے ۔
“اے اللہ ہم بھی ان تکفیریوں اور خارجیوں کے کالے کرتوتوں سے تیر سامنے اعلان براءت کرتے ہیں ”

دوسری دلیل : غیر ارادی طور پر مسلمان کا قتل
کہا جاتا ہے کہ رات کے وقت مشرکین پر حملہ کے دوران مشرکوں کے بچوں اور عورتوں کا بھی غیر ارادی طور پر قتل ہو جاتا تھا ، اس کے بارہ میں نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا “وہ بھی انہیں میں سے ہیں ” ۔ لہذا جب دھماکہ کیا جاتا ہے تو اصل ہدف کو نیست ونابود کرنے کے لیے کچھ بے گناہ لوگ بھی اگر قتل ہو جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ یہی بات ناصر بن حمد نے اپنی کتاب میں کہی ہے جسکا اردو ترجمہ عمار صدیقی نے “کفار پر عام تباہی مسلط کرنے کا حکم ” کے نام سے کیا ہے اور یہ بات مترجم کتاب کے صفحہ ۶۹ پر موجود ہے ۔
تجزیہ
اسے کہتے ہیں “اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی” قتل کرنا ہے بے گناہ مسلمانوں کو ، اور اسکے جواز میں دلیل پیش کی گئی ہے بے گناہ مشرکوں کو قتل کرنے کی ! یا للعجب …!
ع اس “علمیت” پہ کون مر نہ جائے اے خدا ….!
ایک تو انکا ہدف بھی مسلمان ہی ہے نہ کہ کافر یا مشرک ، جیسا کہ ہم پہلی دلیل کے تجزیہ کے دوران ثابت کر چکے ہیں ، کیونکہ یہ اس ہدف پر حجت قائم کیے بغیر اس فرد معیَّن کو کافر ومرتد قرار دے بیٹھتے ہیں جو کہ شرعی تقاضوں اور دینی اصولوں کے خلاف ہے ۔ اور دوسرے وہ مسلمان جنہیں کبھی تو یہ کافر کہتے ہیں اور کبھی احساس ہونے کے بعد مسلمان تسلیم کر لیتے ہیں ، اور اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بناتے بناتے بیسیوں ایسے افراد کو مشق ستم بنا ڈالتے ہیں ۔ جبکہ دین اسلام نے ایسی جگہ پر ہلہ بولنے یا غارت گری کرنے سے منع کیا ہے جہاں مسلمان بھی موجود ہوں چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالى نے فرمایا ہے :
وَلَوْلَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ لَمْ تَعْلَمُوهُمْ أَنْ تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُمْ مِنْهُمْ مَعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ لِيُدْخِلَ اللهُ فِي رَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (سورة الفتح : 25)
ترجمہ : اور اگر مؤمن مرد اور مومن عورتیں جن کے بارہ میں تمہیں معلوم نہیں اگر یہ نہ ہوتا کہ تم نہیں بھی روند ڈالو گے اور تم پر لا علمی میں انکی وجہ سے عیب لگ جائے گا (تو ان پر حملہ کر دیا جاتا) تاکہ اللہ جسے چاہے اپنے رحمت میں داخل کرے ، اور اگر وہ (مؤمن اور کافر) الگ الگ ہوتے تو ان میں سے جو کافر ہیں ہم انہیں ضرور درد ناک عذاب دیتے ۔
یعنی جب کافروں کے ساتھ مؤمن بھی موجود ہوں تو اللہ تعالى اسے علاقہ پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دے رہے کہ کہیں لا علمی میں کوئی مسلمان ہی قتل نہ ہو جائے اور اہل اسلام پر یہ تہمت نہ لگ جائے کہ یہ لوگ اپنے ہی ہم مذہب لوگوں کو قتل کرتے ہیں ۔ ہاں جب مسلمان اور کافرالگ الگ ہو جائیں تو پھر کافر کو سزا دینا، انکے خلاف لڑنا درست ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالى نے فرمایا ہے کہ اگر یہ کافر ومسلم الگ الگ ہوتے تو ہم انہیں درد نا ک عذاب دیتے ۔ یعنی مسلمانوں کی کافروں کے درمیان موجودگی کافروں کے لیے بھی جان بخشی کا باعث بن جاتی ہے نہ کہ مسلمانوں کے لیے وبال جاں ۔ مگر طاغوتی مفتیوں نے معاملہ الٹ کر رکھا ہے کہ کافر کو قتل کرنے کے لیے مسلمان کا خون بہانا بھی انکے لیے کوئی گناہ نہیں ہے ۔
حالانکہ نبی کریم ﷺ ایسی بستی پر حملہ نہ ہوتے تھے جہاں سے اذان کی آواز سن لیتے کہ یہاں کافروں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی بستے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ لشکر اسلام کی تلواروں کی زد میں کوئی مسلمان بھی آ جائے ۔
الغرض مفتیان خوارج کا استدلال بھی نہایت ہی کمزور ہے بلکہ انکی علمیت کا منہ چڑاتا ہے اور کتاب وسنت کے واضح دلائل بھی ایسی کاروائیوں کی حرمت پر صریح دلالت کرتے ہیں ۔
تیسری دلیل : منجنیق سے حملہ کرنے کی رخصت
نبی کریم ﷺ نے اہل طائف پر منجنیق سے حملہ کیا ، حالانکہ منجنیق سے حملہ ایسے ہی ہے جیسے بمباری ہوتی ہے کیونکہ اس میں بھی بے دریغ ہلاکتیں ہوتی ہیں ، عورتیں اور بچے بھی مارے جاتے ہیں جنکا قتل بنیادی طور پر اسلام میں منع ہے ۔ یہی بات ناصر بن حمد نے اپنی کتاب میں کہی ہے جسکا اردو ترجمہ عمار صدیقی نے “کفار پر عام تباہی مسلط کرنے کا حکم ” کے نام سے کیا ہے اور یہ بات مترجم کتاب کے صفحہ ۶۷ پر موجود ہے ۔

تجزیہ
اس دلیل کی حالت بھی سابقہ دلیل ہی کی طرح ہے ، کیونکہ جہاں مسلمان موجود ہوں نبی کریم ﷺ وہاں تو حملہ ہی نہیں کرتے ، اور اس منجنیق کے نتیجہ میں جو بچے یا عورتیں ہلاک ہوئے وہ سب مشرکین کے بچے اور عورتیں تھیں ، نہ کہ مسلمانوں کے ۔ جبکہ یہاں مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جاتا ہے اور وہ بھی بچوں اور عورتوں پر نہیں بلکہ مسلمانوں کے نوجوانوں پر ! ، اور ایسے مسلمانوں پر جن میں کوئی بھی کافر موجود نہیں ہے !!!۔ اور اگر کوئی کافر ہوتا بھی ہے تو وہ یا تو ذمی ہوتا ہے یا مستأمن یا معاہد اور یا پھر سفیر ، کہ جن کا قتل اسلام نے سختی منع کر رکھا ہے جیسا کہ ہم پہلے واضح کر آئے ہیں ۔
چوتھی دلیل : ڈھال بنائے جانے والے مسلمانوں کا قتل
اس بارہ میں کتاب وسنت سے کوئی دلیل ان جہلاء کو نہیں مل سکی ، ہاں کچھ ائمہ دین کے فتوے انہیں میسر آئے ہیں کہ اگر کسی مسلمان کو کافر بطور ڈھال استعمال کر رہے ہوں تو ایسے مسلمان کو قتل کر کے کافروں تک پہنچنے کا راستہ کھولا جا سکتا ہے ۔ یہی بات ناصر بن حمد نے اپنی کتاب میں کہی ہے جسکا اردو ترجمہ عمار صدیقی نے “کفار پر عام تباہی مسلط کرنے کا حکم ” کے نام سے کیا ہے اور یہ بات مترجم کتاب کے صفحہ ۶۹ پر موجود ہے ۔
تجزیہ
لیکن یہ بات بھی محل نظر ہے ، کیونکہ ائمہ دین گوکہ ہمیں انکی شان وعظمت کا اعتراف ہے لیکن بہر حال وہ انسان ہی ہیں اور ان سے غلطی ہونا ممکن ہے ۔ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ڈھال کے طور پر استعمال ہونے والے ہر مسلمان کو قتل کرنا درست نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر اسے درست قرار دے دیا جائے تو مسلمانوں کے قتل عام کا دروزاہ کھل جاتا ہے ۔
پھر دوسری دلیل کے تجزیہ کے دوران ہم جو دلائل بیان کر چکے ہیں ان سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اگر کافروں کے ہاں اسیر ہوں یا کافروں کے درمیان رہائش پذیر ہوں یا کافروں نے انہیں ڈھال بنا رکھا ہو ، تو ایسی صورت میں اگر مسلمانوں کے قتل ہونے کا اندیشہ ہو تو وہاں حملہ نہ کیا جائے ۔ اور اگر یہ خدشہ نہ ہو کہ مسلمان بھی قتل ہو جائیں گے تو پھر وہاں حملہ کرنا جائز ہے ۔ جیسا کہ سورۃ الفتح (آیت نمبر : ۲۵) کے حوالے سے فرمان باری تعالى ہم نقل کر آئے ہیں ۔ کہ اللہ تعالى نے اسی خدشہ کی بناء پر کہ مسلمان قتل ہو جائیں گے لشکر اسلام کو فوج کشی سے منع کر دیا ۔ لہذا جب کسی مسلمان کو کافروں نے اپنے لیے ڈھال بنایا ہو تو ایسے طریقے سے کاروائی کی جائے کہ وہ مسلمان بچ جائے ، اسے کافروں کی قید سے رہائی مل جائے اور کفر بھی نیست ونابود ہو جائے ۔ ہاں اگر اس دوران کافر ہی اس مسلمان کو قتل کر دیں تو وہ درجہء شہادت پر فائز ہو جائے گا اور مسلمان کسی مؤمن کو قتل کرنے کے گناہ سے بھی بچے رہیں گے ۔
دھماکوں کے طریقہ کار کا شرعی جائزہ
ان دھماکوں اور حملوں کی حرمت تو قرآن مجید اور سنت رسول ﷺ کے دلائل سے ہم ثابت کرچکے ۔ لیکن یہاں ایک اور بات بھی بہت اہم اور قابل توجہ ہے اور وہ ہے ان حملوں اور دھماکوں کے طریقہ کار کی شرعی حیثیت ! ۔ جی ہاں ! ایک تو یہ دھماکے خلاف شرع ہیں اور دوسرا ان دھماکوں کا طریقہ کار بھی خلاف شرع ہی ہے ۔ کہ اس میں انسان جان بوجھ کر اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے ۔ جبکہ خود کُشی دین اسلام میں ایک بڑا جرم ہے ۔ حتى کہ میدان قتال میں زخمی ہو جانے والا بھی اگر اپنے زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے خود سوزی کر لیتا ہے تو بھی اسکا اجر ضائع ہو جاتا ہے ۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے آپ کو جس چیز سے قتل کرے گا اسے جہنم میں بھی اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا ( صحیح بخاری : ۱۳۶۴) اور پھر میدان جنگ میں ایک کلمہ گو شخص نے زخموں سے چور ہونے کے بعد جب درد وتکلیف بڑھنے لگی تو اس نے اپنی ہی تلوار کو زمین پر رکھ کر اس پراپنا سینہ رکھا اور پھر اپنا سارا وزن اس تلوار پر ڈال دیا اور خودکُشی کر لی ، تو نبی کریم ﷺ نے اسکے بارہ میں فرما دیا کہ یہ جہنمی ہے (صحیح بخاری : ۲۸۹۸) ۔
جبکہ یہ خودکُش بمبار دشمن کا نقصان کریں یا نہ کریں البتہ اپنے آپ کو ضرور موت کے گھاٹ اتار کر جہنمی ہونے کی وعیدِ نبوی کے مستحق بن جاتے ہیں ۔ کیونکہ انکا یہ خود کُش حملہ صرف اپنے آپ کو قید سے بچانے کے لیے ہوتا ہے ۔
مگر صد افسوس کہ ایسے قبیح عمل کو بھی جواز بخشنے کے لیے خوارج عصر کے مفتیان بے لگام کے قلم حرکت میں آئے اور انہوں نے اصحاب اُخدُود والے واقعہ سے باطل استدلال کرتے ہوئے اس طریقہ کار کو سند جواز فراہم کی ، کہ اصحاب اخدود والے اس بچہ نے خود بادشاہ کو کہا تھا کہ اگر تم بسم اللہ پڑھ کر تیر چلاؤ گے تو تب تم مجھے قتل کرنے میں کامیاب رہو گے ۔
مجھے تو ان فقیہانِ کج فہم کے استدلالات پر تعجب ہوتا ہے کہ اس بچے کی اس حکمت عملی کے نتیجہ میں لوگ جوق در جوق مشرف بہ اسلام ہوئے ، رب کی توحید کے علمبردار بنے اور اپنی جان کی بازی ہار گئے مگر توحید الہی سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے ۔ جبکہ ان ظالمان کی سفاکانہ کاروائیوں کے بعد تو لوگ اسلام اور اسلام کے میناروں یعنی جہاد و توحید سے بیزار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “ایسی توحید سے ہم یوں ہی بھلے ” اور جہاد کو دہشت گردی سمجھ کر اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں ، بلکہ اس کے نام سے بھی خائف ہو جاتے ہیں ۔
اور دوسری طرف قابل غور بات یہ بھی ہے کہ اس بچہ نے اپنے آپ کو خود قتل نہیں کیا تھا بلکہ بادشاہ کے ہاتھوں شہید ہوا تھا !۔ یعنی کہاں خود سوزی اور کہاں سزائے موت کو بخوشی قبول کرنے کی مجاہدین اسلام کی ادائے دلنواز …!
چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک …..!
الغرض ان دھماکوں کا طریقہ کار بھی ایسا گھناؤنا ہے کہ اسکا جواز بھی اسلام میں کہیں موجود نہیں ۔

پاکستان میں ہونے والے دھماکوں کےنتائج
ان خونخوار درندوں کی وحشت پر روح چنگیز بھی حیران وسرگرداں ہے کہ اس نے تو قتل انسانی کا پھر بھی کوئی نہ کوئی معیار مقرر کیا تھا لیکن انکے ہاں انسانیت کو نابود کرنے کے لیے کوئی بھی معیار مقرر نہیں ہے ۔ انکی اس بربریت کا فائدہ کسے ہو رہا ہے اور یہ جانے یا انجانے میں کن کے لیے استعمال ہو رہے ہیں حالات حاضرہ سے واقف ہر شخص اس بات کا بخوبی اندازہ کر سکتا ہے کہ ان فسادات کے نتیجہ میں :
1) مسلمانوں کا امن تباہ ہوا ۔
2) مسلمانوں کی املاک اور جانوں کا نقصان ہوا ۔
3) اسلام اور بالخصوص اسلام کا اہم ترین فریضہ جہاد فی سبیل اللہ بدنام ہوا۔
4) اسلام اور اسلامی شعائر سے نفرت نے جنم لیا۔
5) کفار کے خلاف جاری جہاد میں کمزوری وکمی واقع ہوئی۔
6) پاکستان کی معاشی حالت ابتر ہوئی ۔
7) ان دھماکوں اور عسکری کاروائیوں کی روک تھام لیے ملک کے بجٹ کا بیشتر حصہ استعمال ہوا ۔
8) غیر ملکی تخریب کار ایجنسیوں کو پنپنے کا نادر موقع میسر آیا ۔
9) افواج پاکستان اور انٹیلی جنس ادارے دشمن سے ٹکرانے اور ان پر نظر رکھنے کی بجائے اپنے ہی گھر میں الجھاؤ کا شکار ہوئے ۔
10) پاکستان کی سرحدیں قدرے غیر محفوظ ہوئیں اور غیر ملکی گوریلوں کو ارض پاک میں کاروئیوں کا موقع ملا ۔
11) دشمن ممالک کو اس مذہبی دہشت گردی کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد تک پہنچے میں آسانی ہوئی
12) بلکہ دشمنوں کے بہت سے اہداف جن تک وہ نہ پہنچ سکتے تھے ان فسادیوں کے ہاتھوں انہیں بھی نشانہ بنایا گیا ۔
جی ہاں یہ سب ایسے فوائد ہیں جو کفار نے حاصل کیے ہیں اور دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں بلکہ اخبارات کی زینت بنے ہیں ۔ اور اسلامیان پاکستان کا اتنا خون اس ملک کے معرض وجود میں آنے سے لے کر ۲۰۰۷ء کے اوائل تک نہیں بہا تھا جتنا اسکے بعد سے لے کر اب تک بہہ چکا ہے ۔ نہ ہی اتنی ہلاکتیں پاک وہند کے مابین ہونے والی جنگوں میں ہوئیں اور نہ اسکے علاوہ کسی اور موڑ پر ۲۰۰۷ء سے اب تک تقریبا ایک ہزار سے زائد خودکش دھماکے ہو چکے ہیں اسکے علاوہ مذموم عسکری کاروائیاں ایسی ہیں جنکی کوئی حتمی تعداد نہیں ہے۔ اور ان میں ۴۵۲۸۹ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز ہے ۔ جس کے نتیجہ میں ہزاروں بیوائیں بے آسرا ، بچے یتیم ، اور والدین اپنے بڑھاپے کا اکلوتا سہارا کھو بیٹھے ہیں ۔ بازاروں اور مارکیٹوں میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجہ میں کئی خاندانوں کی عمر بھر کی کمائی انکی دکانوں سمیت جل کر راکھ ہوئی اور وہ کشکول گدائی اٹھانے پر مجبور ہوئے ۔
معاشی حالت ایسی ابتر ہوئی کہ سرمایہ دار اپنی رقم منڈیوں میں لانے سے ڈرنے لگے کہ کہیں زندگی بھر کی محنت نذر آتش نہ ہو جائے ۔صرف کوچہ وبازار ہی نہیں بلکہ مسجد ومدرسہ اور منبر ومحراب بھی اس فساد کی لپیٹ میں آئے نمازیوں کے مقدس خون سے مساجد رنگیں ہوئیں ، ننھے معصوم فرشتوں کے چیتھڑے مدارس کی چٹائیوں پر بکھرے ، قرآن کے پاکیزہ اوراق دہشت گردی کا نشانہ بنے ، ان سفّاک درندوں کی خونخواری نہ اللہ کے گھر بچ سکے نہ اللہ کے بندوں کی رہائش گاہیں محفوظ رہ سکیں ، اور نہ ہی گلی محلہ کا امن قائم رہ سکا ۔
بد امنی کا ایسا سیاہ دور شروع ہوا کہ قاتل کو بھی معلوم نہیں کہ میں انہیں کیوں قتل کر رہا ہوں اور مقتول بھی یہ نہیں جانتا کہ مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے ۔ اور یہ سارا خون خرابہ صرف نفاذ اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے ۔
لیکن درحقیت نفاذ اسلام کے نام پر کیے جانے والے ان فسادات کے نتیجہ میں غلبہ اسلام کی حقیقی تحریکیں کمزور پڑیں ، لوگ اسلام اور جہاد سے متنفر ہوئے ، اصل جہادیوں کو بھی فسادی سمجھا جانے لگا ، اسلام کی طرف مائل ہوتے لوگ نام نہاد مسلمانوں کی خونخواری دیکھ کر مسلمان کا لفظ سنتے ہیں اپنے ذہنوں میں وحشی درندے کا تصور کرنے لگے ، لوگوں کو اسلام اور اسلامی نظام سے نفرت پیدا ہوئی ، حتى کہ اسلامی سزاؤں اور شرعی حدود کو بھی وحشیانہ سزائیں سمجھا جانے لگا ، اور اسلام چہرے پہ سیاہی ملنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی گئی ۔ جسکے نتیجہ میں مجاہدین اسلام کی کمک میں کمی واقع ہوئی ، لوگوں نے تعاون سے ہاتھ کھینچا ، میڈیا والوں نے جہادی کاروائیوں کو کوریج دینا اپنے لیے باعث عذاب سمجھنا شروع کر دیا ، کفار کے حوصلہ بلند ہوئے ، مسلمانوں پر افسردگی چھانے لگی ۔ اور یہ سمجھ لیا گیا کہ امریکہ کے افغانستان آنے کے بعد اصل جہاد ختم ہو گیا ہے ، اور اب صرف ان بم دھماکوں اور قتل وغارت گری پر ہی زور ہے۔ اور طاغوتی طاقتیں یہی چاہتی تھیں کہ اسلام ، اسلامیان ، جہاد اور مجاہدین کو بدنام کرکے ، مسلمانوں کے دلوں سے ان کی محبت کی جگہ نفرت بھر دی جائے ۔ لیکن یہ کام وہ خود نہ کرسکتے تھے اسکا بہترین موقع ان تکفیری فسادیوں نے فراہم کیا ۔
اور ایک طرف پاکستان ، اسکے حکومتی ادارے اور بے کس و لاچار عوام ہے تو دوسری طرف ان سے برسرپیکار امریکہ ، انڈیا ، اسرائیل ، اور تحریک طالبان پاکستان ہے ۔ اور اسکا واضح ثبوت گزشتہ سال سے افغان سر زمین پر بیٹھ کر امریکی اوراتحادی فورسز پر حملے کرنے کی بجائے پاکستانی سرحدی علاقوں پر گوریلا کاروائیاں کرنا ہے ۔ اور ان میں جو اسلحہ استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی سارا امریکی اور نیٹو ساختہ ہے ۔ چترال ، دیر اور سوات کے علاقے اکثر ان فسادیوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ۔
یہ ظالمان بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ روس کے خلاف جنگ میں تم نے امریکہ سے اسلحہ لیا تھا تو کیا “شریعت یا شہادت” کے لیے ہم نہیں لے سکتے ؟ ۔ حالانکہ روس کےخلاف جنگ صریح کفر کے خلاف جنگ تھی جبکہ ان فسادیوں کے توپوں کا رخ صرف مسلمانوں کی طرف ہے ۔
الغرض فائدہ اگر ہوا ہے تو صرف کفار کو ، امریکہ وانڈیا کو اور پاکستان دشمن قوتوں کو ان دھماکوں سے فائدہ ہوا ہے ۔ اور نقصان اگر ہوا ہے تو صرف اسلام کا ، اہل اسلام کا ، اہل پاکستان کا اور ارض پاکستان کا۔ حکومت کو یہ دھماکے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں فنڈز صرف کرنے پڑے ، جسکے نتیجہ میں ترقیاتی کام رکے ، مہنگائی بڑھی ، بے روزگاری عام ہوئی ، صنعت اجڑی ، بے یقینی پھیلی ، منڈیاں سرد پڑ گئیں ، کاروبار معطل ہوئے اور نتیجہ: گھروں کے گھر اجڑ گئے ۔
ایسے افراتفری کے ماحول میں دشمن کی خفیہ ایجنسیاں ارض پاک میں اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھیں ، انہیں ایجنٹ پاکستان کے اندر سے ہی میسر آگئے ۔ بلیک واٹر ، سی آئی اے ، را ، اور جےساک جیسی خطرناک دہشت گرد تنظیموں نے وطن عزیز میں اپنے پنجے گاڑنے شروع کیے اور یہ سب اسی تحریک ظالمان پاکستان کی شہ پر ہوا ۔ جسکا واضح ترین ثبوت یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے موبائل فون سے برآمد ۸۰فیصد رابطہ نمبرز جنوبی وزیرستان کے فسادی ظالمان کے ہی تھے ۔
پاکستان کی اس اندرونی مخدوش صورت حال نے بیرونی جارح یعنی امریکہ کے حوصلے بلند کر دیے اور وہ پاکستان میں خفیہ عسکری کاروائیوں کے بعد کھلے عام درجنوں حملے کر چکا ہے جن میں انگور اڈے پر سحری کے وقت روزہ داروں کا قتل اور سلالہ حملہ بطور مثال موجود ہیں ۔ اور آئے روز ہونے والے ڈرون حملے بھی کسی سے مخفی نہیں ہیں ۔ اور اسکا حواری انڈیا بھی کئی دفعہ سرجیکل سٹرائیک کی دھمکیاں دے چکا ہے ۔ اور اسکے طیارے کئی بار پاکستان کی فضاؤں میں در اندازی کر چکے ہیں ۔
اور اسی طرح انڈیا وامریکہ کی شہ پر تحریک ظالمان کے دہشت گردوں نے ایسے اہداف پر بھی حملہ کیا ہے جن تک غیر ملکیوں کا پہنچنا جوئے شیر لانا تھا جسکی مثالیں کراچی نیول بیس ، جی ایچ کیو ، پشاور ایئر پورٹ ، آئی ایس آئی کے دفاتر پر حملہ کی صورت میں موجود ہیں ۔
محترم قارئین کرام ! آپ نے دیکھا کہ نہ تو اسلام میں ان دھماکوں کی اجازت ہے ، اور نہ ہی انکا طریقہ کار شرعی طور پر درست ہے اور نہ ہی ان سے اسلام یا اہل اسلام کو کوئی فائدہ آج تک ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب یا بعید میں نظر آتا ہے ۔ بلکہ اسلام ان حملوں کو حرام اور انکے طریقہ کار کو خودکشی قرار دیتا ہے اور زمینی حقائق کے مطابق ملت کفر ہی ان کاروائیوں سے فائدہ اٹھاتی نظر آتی ہے ۔