خودکش حملہ ہر حال میں حرام ہے اور فدائی اور خودکش حملہ ایک ہی چیز نہیں(تحقیقی جائزہ)

Posted on April 17, 2014 Articles



بسم اللہ الرحمن الرحیم

خودکش حملہ ہر حال میں حرام ہے
اور
فدائی اور خودکش حملے ایک ہی چیز نہیں۔

خودکش حملہ۔
یعنی کسی کو مارنے سے پہلے خود کو مارنا۔۔۔۔۔
دین میں اس کی کوئی دلیل نہیں۔۔۔
اور جو لوگ خودکش حملوں کے فدائی ہونے کا شائبہ ڈالتے ہیں انکو معلوم ہونا چاہیئے کہ
فدائی حملہ میں پہلے کافر کو مارا جاتا ہے اور پھر اس کے ہاتھوں قتل ہوا جاتا ہے مگر خودکش حملہ میں کافر مرے یا نہ مرے بندہ خود کو مار ڈالے۔۔۔۔جسے دین میں واضح طور پر خودکشی کہا جاتا ہے۔
جب دین میں فدائی حملے موجود ہیں تو پھر خود سے ایک ایسی قسم ایجاد کرنا کہ جس کے جائز ہونے میں ہی اشکالات و شکوک وشبہات ہوں اور دلائل باوجود تراش خراش کے بھی نہ بن پا رہے ہوں تو اس عمل کا کیا فائدہ؟؟؟
اور اللہ قرآن میں واضح منع فرماتا ہے کہ:
ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة ( البقرة/ 195)،
” اپنی جان کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں مت ڈالو”۔
تو پھر خودکش ہو یا خودکشی ایک ہی بات ہے۔۔۔
کثیر علماء سلف اسے حرام قرار دیتے ہیں
اور جو اس کے جواز کی راہ نکالتے ہیں وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ اس کا جواز تب بنے گا جب :
ا۔ انتہائی مجبور ہو اور کفار کو نقصان پہنچانے کو کوئی اور ذریعہ نہ بچا ہو۔۔۔
ب۔ یہ مسلم ممالک میں مسلمان معاشروں میں نہیں بلکہ حربی کفار کے خلاف صرف میدان جہاد میں ہو۔۔
ج۔ ا س سے بہت بڑا نقصان متوقع ہو نہ کہ ایک دو بندے مارنا جیسا کہ آجکل رواج بن چکا ہے، کوئی انڈر ویئر میں ڈالتا ہے کوئی پیٹ میں نگل کر، وغیرہ وغیرہ۔۔۔
د۔ ا س کو کراہت سمجھ کر کرنا نہ کہ اپنے جہاد کا شعار بنا لینا۔۔جیسا کہ آجکل عام ہے اور کچھ جہادی تنظیمیں صرف اپنے اسی عمل کی وجی سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں
ر۔ اس کو معمول بنانے کی بجائے ، صرف ناگزیر حالات میں اختیار کرنا۔۔
لیکن جواز اس رائے کہ باوجود ، باکثرت علماء اس کے مجبوری میں بھی حرام اور ناجائز ہونے کے قائل ہیں ۔

اس بارے جاننے کے لئے یہ لنک : ملاحضہ فرمائیں
خودکش حملے ہر حال میں حرام ہیں
جید وممتاز سلفی علماء کرام
ان علماء کے مطابق ، اگر جہاد میں کسی مجبوری کی حالت میں خودکشی جائز ہوتی تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدان جہاد میں کفار کے خلا ف اس شخص کو خودکشی کرنے پر جہنم کی وعید نہ سناتے کہ جس نے اپنے زخموں سے تنگ ہو کر اور مجبور ہو کر خود ہی اپنے آپ کو مار لیا تھا ۔
اور یہ کام ہم آج بھی دیکھتے ہیں کہ جب کوئی خودکش بمبار فوج یا پولیس کے درمیان گھر جاتا ہے تو وہ گرفتاری کے ڈر سے خود کو اڑا لیتا ہے جو کہ واضح خودکشی کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ

میرے خیال میں :
تو اس کے حرام اور ناجائز ہونے پر دلائل واضح اور زیادہ قوی ہیں۔جب کہ حلال ہونے پر توکوئی دلیل نہیں ، محض مجبوری میں جواز ضرور نکالا جاتا ہے
باقی لوگ اکثر اس مسئلہ پر شک و شبہات کا شکار ہیں کہ یہ جائز ہیں کہ نہیں تو انکو میری نصحیت ہے کہ:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جو شک والی چیز سے بچ گیا ،گویا اس نے ایمان بچا لیا۔۔۔۔۔
لہذا، جب دوسری طرف یقینی زرائع اور طریق جہاد و شہادت موجود ہوں تو اس شک والے عمل کو شوق و شعار بنانا اور اس کے کرنے والوں کو عظیم فعل قرار دینا چہ معنی دارد
ایک بات ضرور یاد رہے:
باقی اگر کوئی یہ عمل کرتا ہے ، تو وہ حرام کام کا مرتکب ہی ہوتا ہے یعنی گناہ گار ہوتا ہے نہ کہ کفر و ارتداد کا مرتکب ہوتاہے۔
اور اسکا معاملہ اللہ پر ہے جو اسکا پیدا کرنا والا ہے کہ وہ اسے کتنا عذاب دیتا ہے یا نہیں دیتا۔۔۔۔۔ہم یقینی صرف یہی کہہ سکتا ہیں کہ اس نے حرام کام کیا ۔ ۔ ۔جو کہ اسلام میں کوئی دلیل نہیں رکھتا بلکہ قابل مذمت ہے۔
آخری بات
اور آخر میں رہی بات راشد منہاس والا واقع بلکہ ایک اور میری طرف سے بھی ایڈ کر لیں کہ ۱۹۶۵ کی پاک- بھارت جنگ میں پاک فوج کے جوانوں کا سیالکوٹ سیکٹر پرع سینوں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹنا۔۔۔۔۔۔۔
یہ عمل کتنےہی مفید کیوں نہ تھے مگر ،،،
ہم تو خوب جانتا ہیں کہ یہ اللہ کا اصول ہے کہ وہ اپنے دین و جہاد کا کام کسی فاسق و فاجر سے بھی لے لیتا ہے۔۔۔بلکہ فاسق و فاجر کیا کافر سے بھی لے لیتا ہے
یعنی یہ خودکش حملے والا عمل فسق و فجور ہی ہے نہ کہ کفر و ارتداد۔
اللہ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے اللہ ہی جانے ، مگر ہم اس عمل کو قابل ستائش اور قابل تقلید نہیں کہہ سکتے کہ جس کی خود اللہ اور اسکا رسول واشگاف الفاظ میں مذمت کرتا ہو۔۔
بس میرے علم میں اتنا ہی تھا جو مین نے نیک نیتی سے پہنچا دیا۔۔۔۔اس مقصد نہ کسی پر فتوی لگانا تھا اور نہ کسی کے جنتی و جہنمی ہونے کا فیصلہ سنانا۔۔۔۔بلکہ مسئلہ کی وضاحت درکار تھی۔۔۔
اللہ کمی کوتاہیوں اور زیادتیوں سے درگزر فرمائے۔۔۔۔

سبحانک اللھم وبحمدک اشہدوان الاالہ الا اللہ انت استغفرک واتوب الیک۔