معافی کے بعد تلافی

Posted on April 16, 2014



آج کل، معافی کا تذکرہ خیر ہماری الیکٹرانک میڈیا میں زور اور شور سے جاری و ساری ہے۔ جب سوال اٹھایا جاتا ہے کہ، بھٹو صاحب نے بھی تو ڈکٹیٹر ایوب خان کا ساتھ دیا تھا اور وہ خود بھی سول چیف مارشل لا ایڈ منسٹریٹر بھی رہ چکے ہیں تو جواب اتا ہے کہ اس نے بعد میں جمھوریت کی خدمت کی اور پھر سولی چڑھ کر اپنے گناہ دہو ڈالے۔ جب نواز شریف کی کئمپ سے سوال کیا جاتا ہے کہ بھائی آپ نے بھی تو ڈکٹیٹر کا ساتھ دیا اور یہ ساتھ ۱۹۹۸ تک ضیا کی قبر پے کھڑے ہو کر اس کا مشن پورا کرنے کے وعدے تک قائم و دائم رہے۔ جواب پھٹ سے دیا جاتا ہے کہ اس نے قوم سے معافی مانگ لی اور وہ بھی اپنے گناہوں سے بری الزمہ ہو گئے۔ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ بھائی جان آج کل جو اسیمبلیون میں بیٹھے ہوئے ہیں اور آپ کی کابینہ میں بھی ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو مشرف کے ساتھی تھے تو جواب عجیب دیا جاتا ہے کہ بھائی انہوں نے اپنا قبلہ درست کرلیا ہے! اورــــــ جب پرویز مشرف کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے بھائی اس نے بھی اپنی سیاسی پارٹی بنائی اور جھمہوری ذہن بنایا ہے تو جواب بہت ہی عجیب و غریب دیا جاتا ہے کہ بھائی وہ تو قومی مجرم ہے، ھم نے تو ذاتی گناہ معاف کردیا باقی قومی گناہ کا حساب و کتاب کورٹ میں ہوگا! عجیب منطق ہے۔۔۔۔۔ بھائی یہ منطق تو تم پے بھی لاگوہوتی ہے کہ تم لوگوں نے بھی دو گناہ کیے ایک قومی اور دوسرا ذاتی، ذاتی گناہ تو معاف ہوگئے بھائی قومی گناہ کے لیے خود کو قانون کے حوالے کرو کیونکہ یہ تمہاری اپنی ہی تو منطق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اصول ہوتا ہے کہ جب کوئی اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہے اور معافی مانگتا ہے تو پھر معافی کے بعد تلافی بھی ضرور کی جاتی ہے۔۔۔ معافی مانگ کر ووٹ لیکر اقتدار حاصل کرکے پھر ملکی خزانے کو لوٹنا یہ تلافی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب مرد کے بچے بنو اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کرکے معافی کی تلافی بھی کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی اس قوم کو بے وقوف تو تم لوگ ۱۹۴۷ سے بنا رہے ہو لیکن ایک دن آنے والا ہے جب آپ سب کو حساب کتاب دینا پڑیگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم نا رہے تو تمھاری اولاد سے معافی بھی ہوگی اور تلافی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔