فوٹو شوٹس یا درد مندی

Posted on April 13, 2014 Articles



حیرت ہوتی ہے جب پڑھے لکھے “صاحب نظر ” افراد بھی شہباز شریف صاحب کی فوٹو شوٹس کو بھی درد مندی سمجھنا شروع ہو جائیں
وگرنہ اضطراری اور اضطرابی فوٹو شوٹ میں فرق کرنا کچھ ایسا مشکل تو نہیں
دیدہ بینا نہیں ، بس ایک “طائرانہ “نظر ہی کافی ہے

تب جب سیلاب کے دوران خادم اعلیٰ دور دراز کے ایک قصبےمیں موٹر سائیکل پر اچانک ہی پہنچیں اور وہاں اچانک ہی ٹی وی کیمرے بھی پہنچ جائیں
اچانک ہی ان کو خیال آے کہ کیوں نا میٹرو بس پر سفر کر لیا جاۓ اور جیو کا کیمرہ مین بھی اتفاقا ہی بغیر ٹکٹ کے اسی بس میں اچانک گھس جاۓ
عوام کو سرپرائز دیتے ھوے اچانک ہی قطار میں کھڑے ھوں، اور اچانک ہی مسکرا کر کیمرے کو پوز بھی دے دیں
اچانک ہی لانگ بوٹ منگوائیں ، شلوار چڑھائیں اور لاہور کی سڑکوں پر چار فٹ کھڑے پانی میں اچانک کود پڑیں، کیمرہ مین صرف ایک ہو لیکن دوسری صبح تمام اخبارات کے صفحہ اول پر وہ تصویر اچانک ہی چھپ جاۓ

چلیے، یہ سب تو اچانک ہو گیا لیکن کیا تمام ادوار ملا کر پنجاب پر ان کی حکمرانی کے بیس برس بھی اچانک ہی گزر گۓ
فوٹو شوٹ ھنی مون پیریڈ میں ہی اچھا لگتا ہے، دو دہایاں کھدائی کرنے کے لئے کافی نہ تھے
کس منہ سے آج پولیس زیادتی کا شکار ہونے والے خاتون کے ساتھ بیٹھ کر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں ، پولیس اصلاحات کے لئے بیس برس ناکافی تھے کیا ؟
کیونکر فرقہ وارانہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے خاندان کو جھوٹے دلاسے دیتے ہیں کہ یہ پودا ان کے پیر و مرشد مرد مومن مرد حق کے دور میں پروان چڑھا اور برسوں تک یہ اس کی آبیاری کرتے رہے ؟
جعلی دوائی سے مرنے والے بچے کی والدہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے انہیں ذرا شرم نہیں آتی، صحت کے شعبے میں بہتری کے لئے کیا صدیاں درکار تھیں ؟
لیپ ٹاپ چونکہ متاثر کرنے والی شے ہے ، لہٰذا وہ ضرور تقسیم کرنا …پنجاب کے اسی فیصد سکول ٹائلٹ جیسی بنیادی سہولت سے محروم، اس جانب کوئی توجہ نہیں
بیس برس کی محنت شاقہ کے باوجود نکاسی کا نظام بیشک درست نہ کرنا، پانی میں کھڑے شلوار اٹھا کر سمائل ضرور دینا

محترم خادم اعلیٰ :غریب کے بچے کے ساتھ بیٹھ کر روٹی ضرور کھانی چاہیے لیکن اس غریب کے حصے کی نہیں