پھانسی کا پھندا۔۔۔۔۔آرٹیکل ۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ گردن؟

Posted on April 7, 2014



یہ ایک کہانی ہے، افسانہ ہے، کہاوت ہے یا حکایت ہے! چلو جو کچھ بھی ہے راوی ہی کی گردن پے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی بادشاہ کا زمانہ تھا یا ایک زمانے کا بادشاہ تھا، بادشاہ ، بادشاہ ہوتا چاہے کسی بھی زمانے کا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن کہانی میں مذکورہ بادشاہ کے اوصاف پاکستانی حکمرانوں سے ضرور مشابھت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس بادشاہ کے زمانے میں ایک مجرم پکڑا گیا اور پھانسی کا سزاوار بنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جب پھانسی کا پھندا اس کی گردن سے چھوٹا پڑ گیا یا بڑا، میرا اس سے کوئی سرو کار نہیں کہ پھندا چھوٹا تھا یا بڑا لیکن راوی کے بقول وہ پھندا اس خوش نصیب کی گردن میں فٹ نہ آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا وزیروں اور مشیروں کو کہا گیا کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔۔۔۔۔۔ بہت غور و خوض اور سوچ و بیچار کیا گیا لیکن اس وقت کی کابینہ یہ مسئلہ حل نہ کر سکی، آخرکار اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بادشاہ سلامت سے رابطہ کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔ تھا کہ اب کیا کیا جائے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے کہانیوں میں پڑہا ہے کہ اگلے زمانے میں یا تو بادشاہ بہت عقلمند ہوا کرتے تھے یا اگر کوئی نااہل بادشاہ راعیا کے سر لگ جاتا تھا تو دربار میں ایک وزیر با تدبیر ایسا ہوتا تھا جو بادشاہ سلامت کو آئے ہوئے بحرانوں سے سلامتی کے ساتھ نکال لیتا تھا۔۔۔۔۔۔لیکن اس مرتبا درباری تو نا اہل تھے لیکن بادشاہ بہت ہی سیانا بندہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر کاربادشاہ سلامت نے بغیر وقت ضایع کرنے کے فرمان جارے کیا کہ بنایا گیا پھندا جس کو بھی فٹ آئے اس کو پھانسی دی جائے!!!!!!! بادشاہ سلامت کے فیصلے کی جے جے ہوگئی۔۔۔۔۔۔ آخرکار ایسی گردن مل گئی جسکو پھانسی پے لٹکایا گیا۔ یہ مت پوچھنا کہ گردن کس کی تھی اس کے لیے آپ کو کہانی پڑھنی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
قصے کہانیوں میں درج ہے کہ پاکستان کا پہلا مارشلا ایوب خان نے لگایا، دوسرا یحی خان نے، تیسرا ضیاء الحق نے اور چوتھا مارشلا جنرل مشرف کے حصے میں آیاـــــ یہ پاکستان کا واحد مارشلا ہے جو فوج نے اپنے آرمی چیف ضیاء الدین بٹ کے خلاف نافذ کیا!!!!!!!!!!!!!! ہے نا یہ نئی بات ـــــ آپ نے کبھی نہیں سنی ہوگی۔ لیکن یہ میری ذاتی راء یا اوپینین ہے کہ نواز شریف کو ہٹانے سے پہلے اس کو اپنا فیصلہ واپس لینے کو کہا گیا ہوگاـــــــ جب جواب انکار میں آیا توـــــــ اس کو جیل جانا پڑا، اور ادھر سے سیدھا جدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب میری اوپر بیان کی گئی کہانی کے منطقی انجام کا کچھ راز فاش ہو گیا ہےـــــــ لیکن یارو! اللہ بھلا کرے اس قوم کا بہت ہی سمجھدار اور عقلمند لگتی ہے سمجھنے میں برسھا برس گذر جاتے ہیں لیکں پھر بھی سمجھنے کے لیے ان کو ان لوگوں کو لنا پڑتا ہے جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فا افھم!!
اللہ بھلا کرے مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا جس نے اس قوم کو تین چیزیں فراھم کیں، ۱۔ آئین پاکستان ۱۹۷۳، ۲ـ عوامی شعورـ ۳۔ ائٹم بم۔۔۔۔۔۔۔۔ آئین بنایا اس میں آرٹیکل ۶ ڈال کر نعرہ بلند کیا کہ اب کوئی بھی مائی کا لال مارشلا نہیں لگائے گا اور اگر مارشلا لگائی تو پھانسی پے لٹکایا جائے! صرف چار سال کے بعد بھٹو حکومت ختم، اور ۱۹۷۹ میں بھٹو خود پھانسی کے پھندے میں آگیا اور لٹکا دیا گیا! اللہ کی شان کہ ٹھیک گیارہ سال بعد پی۔پی۔پی کی حکومت آگئی لیکن ضیاء کی بہت سی روحانی اولاد کے خلاف وہ آئین کے اس آرٹیکل کو چھیڑنے کی ھمت نہ کر سکی۔ پھر باریاں لگ گئیں کبھی پی پی پی تو کبھی مسلم لیگ۔ــ یہ میوزیکل چیئر کا کھیل۱۹۹۹ تک چلتا رہاـــــــــــــــ باقی کہانی تو سب کو یاد ہوگی یا نہیں بھی تو پرویز مشرف کا لایا میڈیا کہانی کو پیش کرنے کے لیے کافی و شافی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آرٹیکل چھ کو پوری طرح سے لاگو کیا جائے تو سارے اسیمبلیوں بیٹھے ہوئے ایم این اے، ایم پی اے اور جرنیل، ججز، آفیسرز، میں تو کہوں گا کہ کلرک تک سب کو پھانسی ہونی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب میری کہانی سمجھ میں ائی جانی! نہیں آئی تو اس کا منطقی انجام یہ ہے کہ جو پھانسی کا پھندہ بنایا گیا ہے وہ ان میں سے کسی کو بھی فٹ نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔ اب چونکہ بادشاہ سلامت نے حکم دیا ہے کہ ایسا بندہ حاضر کیا جائے جس کی گردن میں یہ پھندہ آسکےـــــــ بادشاہ سلامت کے بندوں نے پرویز مشرف کو اسکے لیے پیش کیا ہے ــــــــــــ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ پھانسی کا پھندہ مشرف کے گلے میں فٹ ہوتا ہے یا کسی اور کے لیے اسپیئر کر لیا جا تا ہے! یہ پھانسی کا پھندے ک ذکر میں نے سزا کے تناظر میں کیا اس سے میری مراد کوئی بھی سزا ہے عمر قید یا موت کی سزا، کیونکہ آرٹیکل چھ یہ ہی فرماتا ہے۔