خوارج کے ہاتھوں پاکستان میں بہتا ناحق خون مسلم

Posted on March 25, 2014



بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام ایک ایک مکمل دین ہے اور ہر معاملے میں اپنے پیروکاروں کی رہنمائی فرماتاہے۔ دور جہالت میں ، جب ابھی رحمۃ للعالمین کا ظہور نہیں ہوا تھا تو معاشرے کا سب سے بڑا اور گھمبیر مسئلہ امن و امان کا تھا۔ ہر طرف انسانی خون کا بہنا ، اموال کالٹنا اور دہشت کے اندھیرے سائے تھے۔
“لاالہ الا اللہ ” وہ مقدس کلمہ تھا کہ جس نے ان تاریک معاشروں میں امن و امید ایک نئی صبح ظاہرکر دی تھی۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ کے آنے بعد ظلم وستم اور دہشت گردی کے بادل چھٹنا شروع ہوگئے اور لوگ اس “امن والے دین” کی امان میں آنے لگے۔
اور پھر دنیا نے وہ عجب نظارہ دیکھا کہ جو لوگ باہم دست و گریبان تھے ، ایک دوسرے کا معمولی معمولی باتوں پر خون بہانے میں مصروف تھے ، “لا الہ الااللہ ” کے اظہار سے اسلام کے ہار میں موتیوں کی طرح یکجاں و یکساں نظر آنے لگے تھے۔

کتب احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو جا بجا اس بات کی نصیحت و واعظ فرماتے نظر آتے ہیں کہ کلمہ لا الہ الا اللہ کے حامل کی حرمت کیا ہے،اسکی اللہ کے ہاں قدر و قیمت کیا ہے؟

پھر کسی مقام پر کلمہ پڑھنے والوں سے ہاتھ و تلوار روک لینے کی نصیحت اور اگر کہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے کسی ساتھی کے ہاتھوں جان بوجھ کر تو دور کی بات،محض خطا یا غلطی سے بھی کسی کلمہ توحید کے اقراری کے قتل ہونے پر ان صحابہ کے عمل سےاعلان برات کررہے ہیں۔اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو اس لہجے میں تنبیہ فرمارہے ہیں کہ صحابہ پریشانی و پچھتاوے میں ڈوبے نظر آرہے۔

اور جب دوسری جانب دیکھتے ہیں تو جہادی کاروائیوں کے تیار لشکروں کو بستیوں پر حملہ آور ہونے سے پہلے “اذان کی صدا” سے خبردار کر رہے ہیں اور جہادی سفر میں راستوں میں مجاہدین اسلام پر سلام کرنے والوں سے تلوار کو ہٹالینے کا حکم صادر فرمارہے اور انکے اموال کو حرام ٹھہرا رہے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک اہل اسلام کے خون کی اتنی قدرو قیمت ہےکہ اس بات پر اپنے ساتھیوں کی بھرپور تربیت فرمائی تاکہ کہیں کسی سے جان بوجھ کر تو کیا خطاء یا غلطی سے بھی کسی اسلام کے نام لیوا کا کو ضرر نہ پہنچے۔
حتی کے اسلامی اصولوں پر ایسی تربیت فرمائی کہ بعض اوقات کچھ نام نہاد مسلمانوں نے واضح اور جان بوجھ کر اسلامی سے منافی امور و اقوال کا ارتکاب کیا ،جیسا کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اور اسکے حواریوں کا حال و معمول تھا۔ اور وہ غیر اسلامی اقوال و افعال ایسے تھے کہ صحابہ اکرام فورا ان بدبختوں کی گردنیں اڑانے کے لئے خود کو پیش کرنے لگے ، مگر قربان جاوں جان سے بھی زیادہ عزیز نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ آپ نے اپنے مخلص صحابہ کو اس منافقین سے محض صرف انکے اظہار اسلام اور کلمہ کے اقرار کی بنا پر، تلوار کو روکنے لینے کا حکم جاری کیا۔ اور کوئی بھی غلیظ سے غلیظ منافق کوبھی قتل نہ کیا گیا۔ اور اسکی وجہ زبان نبوت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی بیان فرما دی ” لوگ کیا کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا ہے”۔

اہل اسلام تو ایک طرف، اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایسا کفار کے خون کی بھی بے پناہ حرمت بیان فرمائی ہے، جو چاہے بلاد کفار یا محارب بلادکفار سے تعلق ہی کیوں نہ رکھتے ہوں ، پس اگر وہ مسلمانوں کو نہ تو انکے دین سے روکتا ہو، نہ ہی انہیں گھروں سے بیدخل کرتا ہو اور نہ ہی ان سے شمشیر زن ہوتا ہو، تو ایسے کفار کی جان و مال کو بھی ایمان والوں پر حرام ٹھہرایا گیا ہے اور اس سے انحراف کرنے والوں کے لئے جنت سے دوری اور عذاب الہی کی وعیدیں قرآن و سنت میں وارد ہیں۔

پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جہادی لشکروں کو رسول اللہ صلی اللہ کفار کی عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں ، انکی فصلوں اور باغوں ،عبادت خانوں اور راہبوں کو جان بوجھ کر قتل وبرباد نہ کرنے کی نصیحت فرماتے نظر آتے ہیں۔
یہی وہ اسلام کی روشن تعلیمات تھیں کہ جن سے ایک گمراہ اور کشت و خون میں ڈوباےمعاشرے امن کے ایک عظیم گہوارے کی شکل میں دنیا کے نقشے پر ابھرتے ہیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انہی تعلیمات سے انحراف نے اس پہلے انکار حدیث اورظالم گمراہ گروہ کو جنم دیا کہ جس کے بارے میں پیشگوئی قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لئے کر دی گئی ہے۔ یہ تھا خوارجکا گروہ۔
خوارج نے گناہ کبیرہ کی وجہ سے اور قرآن کے اپنے خودساختہ مفہوم و تشریح کی بنیاد پر مسلمانوں کی تکفیرکی اور انکا خون اور اموال اپنے لئے حلال ٹھہرا لیا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی بھرپور مذمت فرمائی تھی اور ان سے مسلمانوں اور بالخصوص صحابہ کرام کو متنبہ فرمایا تھا۔
یہ خوارج ہر دور میں نئی نئی شکلوں اور لبادوں میں مسلمانوں میں وارد ہوتے رہے ہیں اور انکانعرہ ہمیشہ یکساں رہا ہے اور وہ ہے “ان حکم الا اللہ”اور ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون “۔

آج ہم اپنے دور میں انہیں خوشنما نعروں کے سائے تلے پھر ایسے گرہوں کو دیکھتے ہیں کہ جو مسلم معاشروں میں دہشت و بد امنی پھیلانےمیں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ۔ بلکہ مسلمان کفار کی بجائے ان کو اپنے لئے زیادہ باعث خطرہ و خوف سمجھتے ہیں۔
پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں ، اس وقت جو خون کی ہولی جاری ہے، اس کی بنیاد ی وجہ “لا الہ الا اللہ” بارے اسلامی تعلیمات سے انحراف ہےاور ناقص الایمان مسلمانوں کے خون کو بے وقعت جاننا ہے۔
اس فکر کی بنیاد پر پاکستان میں عسکری کاروائیوں ، بم دھماکوں ، خودکش حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور اسے مسلم معاشروں میں اسلام کے نفاذ کا
راستہ جتلایا جاتا ہے۔ حالانکہ مسلم معاشروں میں اس طریقہ سے اسلام کے نفاذ کا نعرہ و تاریخ ہمیشہ خوارج کی رہی ہے۔

دین محمدیہ میں شریعت و اسلام کے احیاء و نفاذ کے لئے کفار مشرکین سے قتل و قتال کا راستہ بلا شبہ ایک حقیقت ہے مگر مسلمان ملکوں ،ریاستوں میں اپنے ہی حکام کے خلاف قتل و قتال سے شریعت کے نفاذ کی تحریک خالصتا خوارج کا عقیدہ و منہج ہے اور خارجیوں کا کام ہے ، چاہے وہ کس بھی دور میں کیوں نہ ہو۔اس پر تاریخ گواہ ہے۔

اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو حق بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام اہل اسلام کی حفاظت فرمائیں۔ آمین