کل اسلام آباد میں کیا ہوا ؟

Posted on February 11, 2014



خبر سنی تو یقین نہ آیا
درجنوں بار عمران اور کارکنوں کی بحث و تکرار ہوتے دیکھی ، خان صاحب کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات تو ممکن مگر یہ کیا کہ کسی کو دھکے دے کر محفل سے ہی نکال دیا جاۓ
کیا واقعی ایسا ہی ہوا ؟ نہیں جناب، ہرگز نہیں

خان صاحب نے نہایت سکوں و اطمینان سے آڈٹ رپورٹ کے بارے میں حقائق بتاۓ
لیکن واقفان حال بتاتے ہیں کہ محبوب صاحب کا انداز کچھ یوں تھا کہ جیسے آج ہی اپنے محبوب سے جھاڑ یا جھاڑو کھا کر آے ہوں، ماتھے پر رعونت ، لہجے میں فرعونیت ، باچھوں پر جھاگ . دانت پیستے ھوے یوں توں تڑاک اور بازاری زبان میں گویا ہووے جیسے عمران ان کا زر خرید غلام اور وہ حاکم الوقت
“تو جھوٹ بول رہا ہے”
عمران نے سر اٹھایا اور صرف اتنا کہا کہ آپ یہاں سے جا سکتے ہیں

بات کا بتنگڑ اور رائی کو پہاڑ بنانا ہو تو خوشی سے بنایے کہ یہی آپ کا محبوب مشغلہ ٹھہرا
لیکن اس سے پہلے کچھ توجہ ادھر بھی
ذرا حمزہ شہباز کی زیر صدارت قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران کے اجلاس کا نقشہ بھی ملاحضہ کیجئے

جھکے سر ، سلے لب . ہمہ تن گوش کان اور عجز و انکسار میں لپٹے چہرے
دربار عالیہ کا مقدس ماحول ، نورا نی محفل، با برکت ساعتیں
با ادب ، با ملاحضہ ، ہوشیار
پیر صاحب نہ سہی ، صاحبزادہ صاحب، شہزادہ عالم تو گدی نشین ہیں ھی

کیا بولا ؟ درجنوں برسوں سے دربار سے منسلک ہونے کی تڑی دیتا ہے ؟
اپنی تعلیم اور قابلیت کا رعب جھاڑتا ہے ؟
ارے و ناہنجار ، آداب غلامی سے نابلد جاہل
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
کیا ہوا جو تیس ، تیس ، چالیس چالیس برس “بھنگ” کوٹنے کا تجربہ ہو
صاحبزادہ صاحب کی نظر کرم نہ ہوئی تو سب چلے ، سب مراقبے ، سب ریاضتیں غارت

ہے کسی میں میں جرأت رندانہ ، ہمت مرداں کہ صاحبزادہ صاحب سے اجویر روڈ کی کوٹھیوں ، مین ہیٹن کے اپارٹمنٹس اور الفورڈ کے پلازوں کے بارے میں کوئی سوال دریافت کر سکے

چلیے . یہ بھی چھوڑیے ، کوئی بندہ خدا اتنا تو پوچھ لے

چھوٹے میاں ، یہ سرخاب کے پر آپ نے کہاں سے لگواۓ کہ آپ مقام معرفت کے اس درجہ پر فائز ہو گۓ ، جو چالیس چالیس برس کی تپسیا کے باوجود ہماری دسترس سے بہت دور