وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے

Posted on January 29, 2014



وعدے تو سب کرتے ہیں لیکن ان کو پورا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ اور جب بات سیاسی وعدوں کی ہو تو پھر میرے خیال سے ان کے پورے ہونے کا سوچنا بیوقوفی کے زمرے میں آتا ہے۔ کیونکہ سیاستدان (چاہے اس کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو)کی طرف سے کبھی بھی اچھے کی امید نہیں کی جاسکتی کیونکہ اگر وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرلیں تو ان کی ریپوٹیشن کم ہوجاتی ہے اور پھر وہ کامیاب سیاستدانوں کی لسٹ سے نکل جاتے ہیں کیونکہ اگر پاکستان کی سیاست کی بات کی جائے تو موجودہ دور میں تمام کامیاب سیاستدان اپنے وعدوں کی پاسداری میں بہت مشہور ہیں ۔الیکشن سے پہلے تو عوامی محبت کے نعرے لگائے جاتے ہیں عوام کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچانے کے خواب دکھائے جاتے ہیں لیکن جوں ہی اقتدار کے ایوانوں میں جاتے ہیں تو اپنا ماضی ایسے بھولتے ہیں جیسے ابھی نیا جنم لیکر آئے ہوں اور انہوں نے اب نئی زندگی شروع کرنی ہے وہ بھی اقتدار میں رہ کر۔ بقول شاعر کے ۔ دنیا مطلب دی او یار ، مطلب ہووے تے پیار وی کردے ظالم دنیا دار۔یہی حال موجودہ حکومت کا ہے۔ اب چونکہ ان کا مطلب نکل گیا تو عوام ان کے لئے ( تو کون) بن گئی ہے ۔ اگر سات آٹھ ماہ کی حکومتی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلے گا کے ان کے سارے وعدے سیاسی نعرے ثابت ہورہے ہیں سوائے اس کے کہ وہ عوا م کو ترقی کی بلندیوں پر پہنچائیں گے لیکن بد قسمتی سے اس فقرہ سے ترقی لفظ کو نکال دیا گیا اور صرف بلندی پر پہنچانا شروع کردیا گیا۔ اور ایسی بلندی جہاں سے واپسی بھی ناممکن ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس میں حکومت کا ہاتھ ہے لیکن اگر ان حکمرانوں سے ملک میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کنٹرول نہیں ہو رہی تو ان کو مستعفی ہوجانا ۔ کیونکہ جب سے یہ اقتدار میں آئے ہیں تب سے سینکڑوں معصوم دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔زیادہ دور نہیں اگر صرف ۲۰۱۴ کی بات کی جائے تو ابھی ایک ماہ مکمل ہونے کو ہے اور تقریبا ۱۰۰ افراد جاں بحق اور ۱۲۹ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی وعدوں کی پاسداری کی تو الیکشن سے پہلے بڑے بڑے وعدے کئے گئے ۔ ایک وعدہ تھا کہ چھ ماہ کے اندر اندر بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں گے لیکن ۸ ماہ مکمل ہوچکیں ہیں اور ابھی دور دور تک کوئی امید نظر نہیں آتی ۔ حالانکہ پچھلے دور حکومت میں موجودہ حکومتی کارندے چیخ چیخ کر بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اب انہوں نے چپ سادھ لی ہے۔مطلب یہ کہ ان کو اپنی کارکردگی پر شائد یقین نہیں کہ اب عوام ان کو دوبارہ اپنے ووٹ سے نہیں نوازے گی۔ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے مسئلے پر بھی کافی جماعتوں نے سیاست کی تھی اور میاں صاحب نے تو وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو واپس لائیں گے لیکن صاحب اقتدار ہونے کے بعد وہ اپنا یہ وعدہ بھی بھول گئے۔ اور سننے میں آرہا ہے کہ اب تو عافیہ صدیقی کی فیملی کا فون سننا بھی بند ہوگیاہے۔
لوڈشیڈنگ کے حاتمے کے بھی وعدے کئے گئے اور نام تبدیل کرنے کا دعویٰ بھی سیاسی شخصیات کرتی رہی لیکن نہ توبجلی کی صورتحال بدلی اور نہ ہی ابھی تک کسی نے اپنا نام تبدیل کیا ہے۔ ملک انرجی کے بحران کا شکار ہے۔ اور اس پر قابو پانے کے لئے ابھی تک کوئی لائحہ عمل بھی نہیں تیار کیا گیا۔ کالاباغ ڈیم کے نام پر بھی کئی جماعتوں نے سیاست کی اور لیکن اس کے بارے میں تواب کبھی بات بھی نہیں کی جاتی مطلب ایک اور وعدہ جو وفا نہ ہوسکا ۔
کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہنا شر وع کردیا ہے کہ سیاست نام ہی جھوٹ کا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اگر دیکھا جائے تو دنیا میں بہت عظیم لوگ گزرے ہیں جو سیاست سے وابسطہ تھے ۔ نیلسن میڈیلا بھی تو ایک سیاست دان تھے جن کانام تاریخ کے باب میں سنہری خروف سے لکھا جائے گا۔ ماؤ زے تنگ کا شمار بھی سیاستدانوں میں ہی ہوتا ہے ، ایرانی سپریم لیڈر امام خمینی نے بھی اسی میدان میں آکر اپنی قوم کی تقدیر بدلی تھی ۔ لازمی نہیں کہ ہر سیاستدان موجودہ لیڈروں کی طرح ہو۔ بات صرف اخلاص کی ہے کہ کون اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہے اور ان کے درد کو سمجھتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو تو عوامی درد کا احساس ہی نہیں ۔ ان کی تجوریاں جو بیرون ملک بینکوں میں پڑی ہیں ان کو بھرنے کے لئے سب نے اپنی اپنی باریاں رکھی ہیں ۔ عوام تو صرف تماشہ بن کر رہ گئی ہے ۔ تجوری سے یاد آیا کہ کسی نے وعدہ یہ بھی کیا تھا کہ سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پڑی رقوم کو ملک واپس لایا جائے گا اور اس کو عوامی فلاح وبہبود میں خرچ کیا جائے گا لیکن الیکشن کے بعد تو جیسے سب اس قصے کو بھول ہی گئے ہیں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن نے بھی خاموشی اپنائی ہے۔ اور عوام کو تو انھوں اس قابل چھورا ہی نہیں کہ وہ کسی ایشو پہ آواز اٹھا سکے ۔ افراط زر نے اس کی سوچ کو محدود کردیا ہے جس سے آنے والی نسل کی صلاحیتیں بھی مانند پڑنے کا خدشہ ہے۔
مجھے تو افسوس ہے اس قوم پر جو بار بار ان کے جھانسے میں کیسے آجاتی ہے ۔ کوئی ان سے روٹی کے نام پر ووٹ لے رہا ہے کسی نے تبدیلی کے نام پر بلیک میل کیا اور کوئی شریعت نافذ کرنے کا نعرہ لگاتا رہا اور آخر ہوا کیا ان سب کی حقیقت کو جانتے ہوئے عوام نے ان کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا ۔ حالانکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوسری دفعہ نہیں ڈسواتا لیکن یہاں تو پتا نہیں کتنی دفعہ ان چہروں نے ہمیں ڈس لیا لیکن پھر بھی ہماری سوئی ان پر اٹکی ہوئی ہے۔ بیچاری عوم ہر دفعہ ان کے وعدوں کے جھانسے میں آجاتی ہے اور پھر بھول جاتی ہے کہ انہی امیدواروں نے اپنے سابقہ دور میں کیا گل کھلائے ہیں
اور کونسے وعدے پورے کئے ہیں کیونکہ ہمارے سیاست دانوں کا ایک ہی تو نعرہ ہے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے۔۔۔
[email protected]