رویوں میں تضاد کیوں؟

Posted on January 26, 2014



تحریر: محمد حبیب
جب سے ہوش سنبھالا ہے ہمارے ذہن میں صرف یہ بات ہے کہ انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے۔ کرکٹ کا میدان ہو تو ہم اس کو بھی کھیل کی جگہ جنگ کا میدان سمجھتے ہیں اور ہماری زندگی کا مقصد صرف انڈیا کوشکست دینا بن جاتا ہے۔ دونوں طرف اپنے اپنے مذہبی طریقہ کہ مطابق دعائیں کی جاتی ہیں منتیں مانی جاتی ہیں ۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو یہ تو صرف ایک گیم ہے جس میں ہار جیت تو ہونی ہی ہے۔ چاہے پاکستان ہار جائے یا انڈیا اس معاملے میں ہمیں اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہیئے۔ اگر انڈیا سے مقابلہ کرنا ہی ہے تو اور بھی بہت سے میدان ہیں جیسے ٹیکنالوجی جس میں ہم انڈیا سے سو برس پیچھے ہیں۔
پچھلے کچھ دنوں سے مجھے بہت حیرانی سی ہو رہی ہے جب آئے روز پاکستان کے ہر نیوز چینل پر انڈین فلم دھوم۳ کی دھوم مچی ہوئی ہے اور اس کام کو سارے چینل والے اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر پورا کر رہے ہیں۔
آج پھر نیوز پر چل رہا تھا کہ پاکستانی سینما گھر ہاؤس فل جارہے ہیں ۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ وہ پاکستانی قوم جو اپنے ہی گاؤں کی کسی دوسرے فرقہ کی مسجد کو دس روپے چندہ دینا گوارہ نہیں کرتی کہ اس سے دوسرا فرقہ مضبوط ہوگا۔ اور کس طرح اس ملک کی فلمیں پاکستان میں کروڑوں کا بزنس کر جاتی ہے جس کہ ساتھ ہماری ازلی دشمنی ہے ۔ اگر اس ملک سے ہماری کرکٹ ٹیم میچ ہار جائے تو پورے ملک میں سوگ کا سما ہو تاہے کرکٹرز کو لعن طعن کی جاتی ہے۔ کبھی کبھی تو کچھ محب الوطن پاکستانی اپنے ٹیلیویژن توڑ دیتے ہیں اوریہاں تک پچھلے ورلڈکپ میں جب پاک انڈیا ٹیمیں آمنے سامنے تھیں تو یہاں تک کہا گیا تھا کہ کمزور دل والے لوگ یہ میچ نہ دیکھیں۔قصہ مختصر یہ کہ ایک ملک جس سے اس حد تک دشمنی پھر اسی ملک کی فلم ریلیز ہوتی ہے تو ہماری قوم کا مستقبل یہ نوجوان پاگلوں کی طرح سینیما گھروں کا رخ کرتے ہیں ۔ وہاں پاؤں دھرنے کی جگہ نہیں ملتی ۔ اور بعد میں پتہ چلتا ہے کہ صرف پاکستان سے یہ فلم پچاس کروڑ کما گئی۔ کیا اس سے ہمارے دشمن ملک کی معشیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ؟ کیا اس سے آپ کے ملک کی معشیت کمزور نہیں ہوتی جب ایک ایک دن میں یہ فلمیں کروڑوں کما کر لیجارہی ہیں۔کیا اس سے ہمارا دشمن ملک مضبوط نہیں ہوگا؟
ہم کیسی قوم ہیں اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے دشمن کو مضبوط کر رہے ہیں ۔جیسے ہماری حکومت بھی اس کو پسندیدہ ملک کا درجہ دیتی ہے ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم لاکھ دوستی کا ہاتھ بڑھالیں لیکن وہ ایک تعصب پسند قوم ہے اور کبھی بھی پاکستان کو دل سے قبول نہیں کرسکتی۔ اس سے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی نہیں دیکھی جاتی ۔ جس طرح کل اس نے مشرقی پاکستان کو الگ کرنے میں اپنا ایک خاص کردار ادا کیا اسی طرح آج بھی پاکستان میں جو ایک دہشت گردی کی لہر ہے،ہر طر ف بدامنی ہے اس میں ہماری حکومت کے پسندیدہ ملک کا پورا پورا ہاتھ ہے۔ ایک طرف پاکستان کو خانہ جنگی میں مبتلا کیا جارہا ہے اور دوسری طرف پانی کی جنگ جو وہ ہمارے ساتھ لڑ رہا ہے جب ان کا جی چاہا ہمارے ملک میں ہر طرف سیلاب آجاتا ہے جس سے ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اور جب ان کا دل کرے ہماری فصلوں کو پانی کی قلت کی وجہ سے برباد کردیا جاتا ہے۔
مطلب وہ ملک ہمیں معاشی طور پر کمزور کئے جا رہا ہے اور ہم اس کی فلموں پر پاگلوں کی طرح بڑے فخر سے کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں ۔اور پھر بھی یہ دعوہ کرتے ہیں کہ انڈیا ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس سے میچ نہیں ہارنا! کتنی مضحکہ خیز بات ہے۔
اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو پچھلے دنو ں ہمارے ملک میں بھی ایک فلم ہٹ ہوئی تھی شائد کسی کو یاد ہو ۔ وار فلم نے پاکستان میں پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئے تھے لیکن ہمارے پسندیدہ ملک نے تعصب پرستی کی جو انتہا کردی وہ جو لوگ انڈین نیوز چینل دیکھتے ہیں۔وہ بخوبی جانتے ہونگے ۔ ان کے چینل چیخ چیخ کر اس فلم اور پاکستان کے خلاف بیان دے رہے تھے۔ اصل میں ایک وجہ تو اسکی یہ تھی کہ اس سے ہماری فلم انڈسٹری میں کچھ استحکام نظر آنے لگا تھا جو ان سے ہضم نہیں ہوا اور دوسرا اس میں اس حقیقت کو دکھایاگیا کہ پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی کی لہر ہے اور یہ جو تحریک طالبان پاکستان نامی گروپ پاکستان میں کام کر رہا ہے اس کو دہلی میں بیٹھ کر کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہ بھی ایک ایسا سچ تھا جو ہضم کرنا مشکل تھا اس لئے انہوں نے اپنی بھڑاس اس فلم پر نکالی۔
اس سارے قصے میں پاکستانی میڈیا کا کردار بھی نہایت مایوس کن ہے جب اپنی ہر ہیڈلائن میں کترینہ کہ ٹھمکے دکھائیں جائیں گے تو یہ بیوقوف نوجوان تو سینماؤں کی طرف بھاگیں گے ہی۔ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہمارا میڈیا ہمارے ہی ملک میں بیٹھ کر کس کے لئے کام کر رہا ہے۔ ایک طرف پورے ملک میں دہشت گردی کا سما ہے اور دوسری طرف ان کی دھوم فلم دھومیں مچارہی ہے۔
اس میں ہم کسی کو بھی قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے نہ تو اپنی گورنمنٹ کو اور نہ ہی اپنے میڈیا کو بلکہ ہمیں خود میں بدلاؤ لانا چاہیئے۔ تعلیم کے میدان میں ہم ان سے انتہائی پیچھے ہیں خاص کر آئی ٹی کامیدا ن ا یسا ہے جس میں ہم ا نڈیا سے سو برس پیچھے ہیں ۔ اگر انڈیا سے مقابلہ کرنا ہی ہے تودھوم ۳دیکھنے کی بجائے ہمیں تعلیم پر زور دینا ہوگا۔