ایران بس سروس معطل

Posted on January 25, 2014



ایران بس سروس معطل
پاکستانی حکام کے مطابق شیعہ زائرین کو صوبہ بلوچستان سے ایران لے جانے والی بسوں کو سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر معطل کر دیا گیا ہے۔
منگل کو ایران سے آنے والے زائرین کی بس پر مستونگ کے علاقے میں بم حملے میں 25 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک اور زخمی افراد کا تعلق ہزار ہ قوم سے تھا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کو 700 کلومیٹر لمبی ہائی وے ایران سے جوڑتی ہے جہاں شیعہ برادی کی کئی زیاارت موجود ہیں۔
ان زیارتوں کے لیے ایران جانے والے زائرین پر درجنوں خودکش اور سڑک کے کنارے نصب بموں سے حملے ہو چکے ہیں جن کی ذمہ داری انتہا پسند سنی گروہوں نے قبول کی ہے۔
صوبائی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم نے سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے تک عارضی طور پر اس ہائی وے پر بسوں کی آمدو رفت معطل کر دی ہے۔‘
بس سروس کی معطلی کے بعد ایرانی سرحد پر پھنس جانے والے درجنوں زائرین کو طیارے کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق ان افراد کو 150 زائرین کو دالبندین سے ایک سی ون تھرٹی طیارے پر کوئٹہ لایا گیا۔
ڈپٹی کمشنر چاغی سیف اللہ کھیتران نے اے پی پی کو بتایا کہ سات کوچز پر سوار 300 زائرین ایران سے تقتان پہنچے تھے اور ان میں سے 150 کو کوئٹہ پہنچا دیا گیا ہے۔
ادھر پاکستان کےصوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائی جاری ہے جس میں اب تک متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
فرنٹیئر کور بلوچستان کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک اس آپریشن میں 20 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ترجمان نے بتایا ہے کہ کارروائی مستونگ کے علاقے کانک اور درین گڑھ میں کی جا رہی ہے۔
کارروائی میں اطلاعات کے مطابق نیم فوجی فرنٹیئر کور کے علاوہ انسداد دہشت گردی فورس اور لیویز اہل کار بھی حصہ لے رہے ہیں۔
انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سنہ 2013 میں 400 سے زیادہ شیعہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں شیعہ ہزاراہ برادی کے افراد بھی شامل ہیں۔
whoisNS

End