دہشت گردی کا سرچشمہ

Posted on January 18, 2014



dr. abis hassan

امریکی وزیر خارجہ جان کیری یقینا دنیا کو احمق و بے وقوف سمجھتے ہیں تبھی تو انہوں نے سعودی عرب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوریہ اور عراق میں برسرپیکار “القاعدہ خطے کی سب سے خطرناک کھلاڑی ہے” انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان بھی داغا کہ عراق کے مغربی صوبے الانبار کے بعض شہروں کا کنٹرول واپس لینے میں امریکہ عراقی حکومت کی پھرپور مدد کرے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ القاعدہ کے انہی دہشت گردوں کو سرکوب کرنے کے لیے شامی حکومت جنگ میں مصروف ہے لیکن امریکہ کی طرف سے انہیں اس قسم کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی کیونکہ وہاں پر امریکہ کا ہدف بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہے۔ امریکہ کے پاس اپنی اس دہری پالیسی کا کیا جواب ہے؟ عراق میں القاعدہ خطرہ ہے لیکن یہی القاعدہ شام میں کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کو خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔
جان کیری کی پریس کانفرنس میں سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ انہوں نے القاعدہ اور دہشت گردی کے خلاف بیان ایک ایسے ملک میں بیٹھ کر دیا جس پر الزام ہے کہ وہ دنیا بھر میں شدت پسندوں کی ہر حوالے سے امداد کرتا ہے۔ ابھی چند ہی مہینے پہلے کی بات ہے جب وکی لیکس میں بغداد میں تعینات سابق امریکی سفیر کی جانب سے بھیجے جانے والے مراسلے میں خبردار کیا گیا تھا کہ سعودی عرب عراق میں موجود القاعدہ کے گروہوں کو اسلحہ اور مالی امداد دے رہا ہے۔ کرسٹوفر ہل نے اپنے مراسلے میں واضح طور پر تحریر کیا تھا کہ سعودی عرب عراق میں نوری المالکی کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے ملک میں فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دے رہا ہے۔
القاعدہ نے عراق میں اپنا نام القاعدہ سے تبدیل کرکے داعش یا آئی ایس آئی ایل رکھ لیا ہے جس کے شام میں موجود شدت پسند گروپس النصرہ فرنٹ، احرار الشمس، لواء الاسلام وغیرہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ عراق اور شام میں موجود یہ متعدد شدت پسند گروہ فکری حوالے سے سعودی عرب کی شدت پسند آئیڈیالوجی سے متاثر ہیں اور انہوں نے بعض علاقوں پر کنٹرول کے دوران، شیعہ، سنی اور عیسائی افراد پر مسلکی اختلاف کی بنیاد پر ایسے ظلم ڈھائے ہیں جن کا تذکرہ کرتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان گروہوں کی ان تمام کاروائیوں کے دوران صرف تمام مراحل میں سعودی عرب نے ان کی بھرپور حمایت جاری رکھی البتہ اس دوران ان کی طرف سے ہمیشہ یہ راگ الاپا گیا کہ ہم شام میں موجود فری سیرین آرمی نامی معتدل گروہ کی حمایت کررہے ہیں۔ لیکن ناقابل انکار حقیقت یہی ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک امریکہ کے سابق سفیر کے بقول القاعدہ کے آکٹوپس نیٹ ورک کا مرکز ہے۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو دنیا کے مختلف اخبارات کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہی چنانچہ اکتوبر ۲۰۱۳ میں نیویارک ٹائمز میں چھپنے والی رپورٹ میں امریکی حکام کی جانب سے اعتراف کیا گیا کہ فری سیرین آرمی کے لیے سعودی کی طرف سے بھیجا جانے والا اسلحہ بڑے پیمانے پر شدت پسند گروہوں کے ہاتھ میں پہنچ رہا ہے۔اسی ہفتے عراق کی طرف سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ دہشت گردوں کے پاس سعودی اسلحہ ہے۔ بات واضح ہے کہ امریکی اسلحہ خفیہ طور پر سعودی عرب اور وہاں سے القاعدہ کے سپرد ہوتا ہے جو خطے میں شام اور عراق کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود امریکی وزیرخارجہ سعودی عرب میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ القاعدہ خطے کے سب سے خطرناک کھلاڑی کا روپ دھار چکی ہے۔ اس جنگ کے بارے میں جان کیری کا یہ کہنا کہ یہ عراقیوں کی جنگ ہے درست نہیں ہے بلکہ درست یہ ہے کہ یہ جنگ امریکی اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے عراقی حکومت کو امداد کی پیشکش حقیقت میں ایک مذاق ہے۔ ہنسی آتی ہے یہ سن کر جب امریکہ خود کو دہشت گردوں اور القاعدہ کے مخالف کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ وہ القاعدہ جسے واشنگٹن اور ریاض کے باہمی تعاون سے سوریہ اور عراق میں پہنچایا گیا ہے۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ صورتحال عجیب پیچیدہ اور دلچسپ ہے کہ ایک طرف امریکہ عراقی حکومت کی مدد کررہاہے اور ہل فائر نامی میزائل سے لیکر ڈرون طیارے تک دہشت گردی کے خلاف مقابلے کے لیے عراقی حکومت کو دے رہا ہے اور دوسری طرف دہشت گردوں کی مدد بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔! امریکہ کی اس حرکت کو صرف ایک ظاہری تناقض تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ زمینی حقائق کی روشنی میں امریکہ کی یہ دہری پالیسی اس کی اسلحہ سازی کی صنعت کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔ امریکہ کی حکمت عملی کچھ یوں ہے کہ پہلے دہشت گردی پر مبنی ایک مسئلہ وجود میں لایا جائے پھر اسے حل کرنے کے لیے اپنا جدید اسلحہ فروخت کے لیے پیش کیا جائے۔یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے امریکہ گذشتہ تین دہائیوں سے ریاض اور لندن کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر القاعدہ میں شدت پسندی کو پروان چڑھاتا رہا ہے۔ امریکہ کی یہ پالیسی افغانستان میں سویت یونین کے خلاف مزاحمت کے دوران ستر کی دہائی کے آخر میں شروع ہوئی ۔ اس کے بعد سے اب تک القاعدہ نے نظریاتی بنیادوں پر کیپٹل ازم کے اہداف کے لیے مشرق وسطی سمیت دنیا بھر میں کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ مغربی اور صہیونی مشترکہ پالیسی کے نتیجہ میں جنم لینے والے یہ گروہ ان کے لیے ایک ایسا آلہ کار ہیں جنہیں یہ لوگ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنا دشمن قرار دے سکتے ہیں اور انہی کے ذریعہ جنگ کی آگ بھڑکا کر اپنی مخالف حکومت کو ہٹا سکتے ہیں۔ امریکہ وغیرہ کا یہ حربہ چند سال پہلے تک تو بہت کارآمد تھا لیکن اب اقوام عالم بیدار ہورہی ہیں۔ جان کیری اور ان کے سعودی دوست ممکن ہے اس قسم کے بیانات کے ذریعہ خود کو فریب دے لیں لیکن اس طرح وہ دوسروں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔