تحریر:انعام الحق . تیرا فرقہ، میرا فرقہ

Posted on January 1, 2014



تیرا فرقہ، میرا فرقہ

تحریر:انعام الحق
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد سے آج تک پاکستان کے حالات پر توجہ دیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستان واقعی آزاد ہوا اور پاکستان بظاہر.! مگر حقیقت میں نہیں۔ایسا صرف اس لئے محسوس ہوتا ہے کیونکہ پاکستانی قوم میںا ٓزاد قوموں والی کوئی بات نظر نہیں آتی اور نہ ہی پاکستانی قوم آزادی سے اپنے فیصلے کر سکتی ہے۔پاکستان کے نامور دانشور اور سکالرز اس ملک میں بسنے والوں کو قوم ہی نہیںمانتے۔بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ گروہوں میں بٹے ہوئی لوگ ہیںاور بالکل ویسے زندہ رہ رہے ہیں جیسے ہر شخص اپنے کُنبہ کا پیٹ پالنے کے لئے زندہ رہتا ہے۔یعنی ہرشخص اپنے گروپ کو مضبوط کر نے کے لئے کوشاں ہے۔گروہوں کی اقسام دیکھی جائیںتو سیاسی اور مذہبی گروہوں میں بٹے ہوئے لوگ جذبات اور جوش کے نشے میں اس قدر جکڑے ہوئے ہیں کہ سامنے آنے والی ہر رُکاوٹ کو پارہ پارہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کوہندوستان سے الگ کرنے کے لیے دو قومی نظریہ کو بنیاد بنایاگیا تھا۔ جس میں اِس چیز پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ ہمارا رہن سہن، کھانا پینا، عبادت کے طریقے وغیرہ،سب ہندوئوں سے الگ ہیں لہٰذا مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن ہو ناچاہئے تاکہ اسلامی اقدار کی پاسداری ہو۔لیکن کیا ہم اب ایک جیسا رہن سہن، کھانا پینا ، عبادات کے طریق رکھتے ہیں؟ ایک جیسے اسلامی اقدار کی پاسداری کرتے ہیں؟ کیا ہم پاکستان میں رہنے کے باوجود ایک متحد قوم ہیں؟ہر صاحبِ عقل کا جواب یہی ہوگا ۔نہیں!!!الگ وطن میں اسلامی اقدار کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے ہمارے اندر اس قدر تضادہے کہ اپنے مسلمان بھائی کا خون بہانا واجب بلکہ ثواب سمجھا جاتاہے۔جو کام آج مسلمان مسلمان کا خون بہا کر رہے ہیں وہ تو ہندو مسلمان کا خون بہا کر بھی کر رہے تھے۔ تب مسلمانوں کا خون جوش میں کیوںآیا تھا ؟ اور اب کیوں نہیںآتا؟
فرقہ بندی کی پکڑ اس قدر مضبوط ہے کہ مذہب ایک ہے اور نماز پڑھنے کے طریقے کئی۔ایک ہی شہر میں جتنے فرقے ہیں اتنی ہی نمازکے لئے مختلف اوقات میں اذانیںدی جاتی ہیں۔ ایک فرقہ محرم میں سوگ کرتا ہے تو دوسر ا فرقہ خوشی منا رہا ہوتا ہے۔ایک فرقے کے لوگ میلاد منا رہے ہوتے ہیں تو دوسرے فرقے کے لوگ اس میلاد میں شرکت تو دور اُس گلی یا محلے میں بھی جانا پسند نہیں کرتے۔ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکال رہا ہو،تو دوسرے فرقے کا مولانا ممبر رسول پہ بیٹھ کر گالیاں دے رہا ہوتا ہے۔ یہی کام اگرہندو کرتے تھے تو ہمارے دل جلتے تھے، ہما ری روح کو ٹھیس پہنچتی تھی، لیکن آج یہی کا م مسلمان خود ایک دوسرے کے لئے کر رہے ہیں۔اُس وقت مسلمانوں کا اوڑھنا شلوار قمیض تھااب شلوار خصوصاعورتوں میںچھوٹی ہوتی ہوتی گھٹنوں تک اور قمیض چھوٹی ہوتی ہوتی پیٹ تک آ گئی ہے، اب مسلمانوں کی غیرت نہیںجا گتی اورتب کیوں جا گی تھی؟یعنی جب مسلمان عورتیں ہندوئوں کی طرح ساڑھی پہنتی تھیں؟ہم نے اُن سے بظاہرآزادی حاصل کرلی لیکن فرقہ بندی کی قید میں اس قدر پھنس گئے کہ اب آزادی ناممکن نظر آتی ہے.!