(بھوکے ننگے کروڑ پتی! (اے حق ۔ لندن

Posted on January 1, 2014



بھوکے ننگے کروڑ پتی!

اے حق۔لندن
دُنیا میں بھوکے ننگے صرف وہ نہیںجن کے پاس کھانے پینے کو کُچھ نہیں،پہننے کو کُچھ نہیں،سر پر چھت نہیں یا پھر ضروریاتِ زندگی کی اشیائ سے محروم ہیں۔دُنیا کے ایک ملک پاکستان میں وہ لوگ بھی بھوکے ننگے ہیں جن کے پاس کروڑوں کی جائیدادیں ہیں،لگثری گاڑیاں ہیں،عالی شان بنگلے ہیں،دو دو ممالک کی قومیت حاصل کر رکھی ہے۔یہ پاکستان کی عوام نہیں ہیںبلکہ یہ وہ سیاستدان ہیں جنہوں نے عوام پر حکمرانی کرکے خود کو اس قسم کا بھوکا ننگا بنا لیا ہے کہ منہ پر لاچاری کی مہریںلگائے گھوم رہے ہیں۔اور ٹی وی اور ٹالک شوز میں آکر اپنی مفلسی کارونا روتے ہیںکہ ہمارے گھر میں یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے۔کسی کے پاس ذاتی گاڑی نہیں ہے مگر جب سڑکوں پر دیکھیں تو آگے پیچھے کئی کئی گاڑیاں ہوتی ہیں۔کسی کے پاس ذاتی گھر نہیں ہے مگر جب گھر ملنے جائیں توکئی کئی سیکیورٹی دروازوں سے گزرنا پڑتا ہے۔کسی کو دہشت گردوں سے خطرہ ہے مگر ارد گرد اتنے سیکیورٹی گارڈ لے کر پھرتا ہے جیسے ملک کا سربراہ ہو۔یہاں تک کہ عہدہ پانے کے بعد چپڑاسی بھی’’اَکڑ‘‘کر چلتا ہے۔
اس وقت وہ لوگ جو پاکستان کی سیاست کا حصہ ہیں سبھی کم از کم کروڑ پتی ہیں۔عرب پتی یا کھرب پتی وہ ہیں جو حکومت کے دور کا ایک آدھ رائونڈ پورا کر چکے ہیں۔پاکستان میں سیاست کرنا ایسے ہی ہے جیسے ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘پروگرام میں حصہ لینا۔لیکن یہ وہ کھلاڑی ہیں جو پروگرام میں آنے سے پہلے بھی سلم ڈاگ رہتے ہیں اورجیتنے یعنی کروڑ پتی بننے کے بعد بھی سلم ڈاگ ہی رہتے ہیں!!!
گذشتہ چند دن قبل پاکستان کے حکمرانوں کے اثاثوں کا ذکر ہورہا تھا۔اس بارہ میں تحریر کرنا چاہتا ہوں مگر پہلے اس طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ اثاثوں کی پڑتال کا نظام الیکشن سے پہلے کرنا چاہئے اور میڈیا کے ذریعے الیکشن سے پہلے عوام کو دیکھانا چاہئے کہ کس کے پاس کتنی جائیداد ہے۔وہ رونا جو یہ حکمران آج رو رہے ہیں یہ اُس وقت رونا چاہئے جب اپنے علاقوں میں ووٹ مانگنے جاتے ہیں اور لاکھوں روپے تشہیری مہموں پر لگاتے ہیں۔تب انہیں کہنا چاہیے کہ ہمارے پاس گاڑی نہیں یا گھر نہیں وغیرہ۔اب حکمرانوں کے اثاثوں کا ذکر کرتا ہوں۔اگر نام لے لے کر بتائوں کہ کس کے کتنے اثاثے ہیں تو ایک کالم آٹے میں نمک کے برابر ہوگا۔بڑی بڑی مچھلیوں کا نام لوں گا تو اندازہ نہیں لگایا جاسکے گا کہ اس حمام میں کتنے ننگے ہیں۔لہٰذا میں وہ بات کرتا ہوں جوریکارڈ میں موجود ہے اور ریکارڈ کے مطابق چھوٹی مچھلیاں اور بڑے مگر مچھ سبھی نے اپنے اثاثوں کی جگہ جھوٹ کی بوریاں جمع کروا رکھی ہیں۔صرف اور صرف ٹیکس ادا نہ کرنے کی خاطر یا ٹیکس سے بچنے کی خاطر کسی نے یہ لکھوا رکھا ہے کہ کرایہ کے گھر میں رہتا ہوں تو کوئی کہتا ہے کہ ذاتی جائیداد میں گاڑی تک نہیں ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ عوام میڈیا کے سامنے اس وقت گندی گالیاں نکالنے پر مجبور ہے اور سوشل میڈیا پر ایسے کئی ویڈیو پیغامات ملاحضہ کرنے کو ملتے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ عوام کا ڈر اور خوف ان حکمرانوں سے ختم ہو تا جا رہا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ کس طرح ممکن ہے،حاکم ٹیکس چوری کرے اور عوام کوٹیکس ادا کرنے کا حکم دے۔حاکم اثاثوں کے معاملے میں جھوٹ بولے اور عوام کو صحیح اثاثے اور سارے کاروبار سچ کی بنیاد پر ظاہر کرنے کا حکم دے۔کس طرح ممکن ہے کہ حکمران تو بھیک مانگے اور عوام کو بھیک مانگنے سے منع کرے۔جس ملک کے حکمران کھرب پتی ہونے کے باوجود بھوکے ننگوں والی حرکتیں کریں اُس ملک کی عوام سے بھی بھوکوں ننگوں والی اُمیدیں رکھنی چاہئیں۔