امریکہ کا ستر سال کے بعد شیعہ بلاک کی سپورٹ اور اسکے اثرات

Posted on December 30, 2013



شیعہ سنی کے فساد کا بیچ اسوقت بویا گیا جب آخری نبی رسول اللہ ﷺ فوت ھوے، اور یہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے وقت تک اتنا تناور درخت بن چکا تھا کہ اس کے کالے سایوں نے پوری ریاست کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اور اسکے منفی اثرات آج بھی محسوس کیے جا رھے ھیں۔ اور امت کی ساری کوششیں کہ اسکو ختم کیا جاسکے مکمل طور پر ناکام ھوے، کیونکہ کرنے کا کام یہ نہیں تھا اورنہ ھے، کہ ھم اس کا انکار کریں، بلکہ کام کرنے کا یہ تھا، کہ ھم اپنی قوم کو(اپنے اپنے فرقوں کو دوسرے فرقوں سے) مل کر، برداشت کا درس دیتے۔ لیکن ھم نے یا تواس مسیلےکا انکار کیا یا اس پرپٹی چڑھا کر اس کو بھول جانے کی کوشش کی۔ آج کے دور میں یہ مسیلہ خاص طور پر مڈل ایسٹ اور پاکستان کے حوالے سے خاصا اھم ھے، اور اب اسمیں خاصی شدت آ رھی ھے، اور امریکہ شاید اب اپنے مفادات کے پیش نظرستر سالہ سنی اشتراک کے بجاے، اب شیعہ بلاک کو سپورٹ کرنے جا رہا ھے۔ اسکے خطے پر اثرات کا اس بلاگ میں جایزہ لیا جاے گا ۔

عرب دنیا میں گذشتہ تین سال سے زاید عرصہ جاری انقلابی تحریکوں نے عرب ممالک کے اکثر حکمرانوں کواور انکے انداز کویی خاص اثر نہیں ڈالا۔ لیبیا اور مراکو وہ ملک ھیں جہاں ایک مکمل تبدیلی آیی، لیکن اس تبدیلی سے عوام جو چاہ رھی تھی، سوچ رہی تھی وہ تو بالکل بھی نہ ھوا۔ مصر اس تبدیلی میں ایک عجیب طرح کی داستان ھے، یہاں ایک وقت میں تو ایسا لگا کہ شاید ھر چیز ہی تبدیل ھونے جا رھی ھے، اور پھر مسلم برادرھڈ (اخوان المسلموں) کو ایک سال کی حکومت کے بعد ہی رخصت کر دیا گیا، اس میں اور بہت سارے فیکٹرز اسمیں حصہ دار ھیں، لیکن ایک چیز تو طے ھے کہ مصر کی ملٹری اور اسٹیبلشمنٹ بہت مضبوطی سے قایم ھے اوراقتدار اتنی آسانی سے عوام کو ٹرانسفر نہیں ھونے والا۔ بحرین میں شیعہ آبادی خاصی شدت سے مظاھرے کر رہی ھے۔ لیکن سب سے اھم پوزیشن شام کی ھے۔ جہاں آج سب سے بہتر لایحہ عمل شاید بشار الاسد کو دمشق میں رکھنے میں نظر آرھا ھے۔ کیونکہ آج شام میں حکومت مخالف تنظیمیں القاعدہ کے رنگ میں رنگی گیی ھیں۔

قطر، ترکی اور سعودی عرب کھلم کھلا شام میں شیعہ حکومت کے خلاف کھڑے ھوے، اور انکو ھر محاز پر شیعہ ایران نے بھرپور مزاحمت کی۔ اور اس معاملے میں امریکہ ایک مخمصے کا شکار ھے، آج اسے یا تو سعودی عرب اور سنی ممالک کے ساتھھ مل کر حزب اللہ ، اور شام میں اسد سے جان چھڑانی ھے، اور ایران کو اکیلا کرنا ھے، اس صورت میں اسے جہادی تنظیموں سے ھاتھھ ملانا ھو گا، جو شیعہ ایران کے لیے اور اسراییل کے لیے برابر کے گھاٹے کا سودا ھے۔ اور دوسری صورت میں اسے ایران سے ھاتھھ ملانا ھوگا، اسکے لیے ایران کو ایٹمی پروگرام پر شرایط تسلیم کرنا ھونگی اور حزب اللہ کو اسراییل کے بجاے جہادی تنظمیوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اگرچہ آج امریکہ ایران کو شام کے مسیلے کے حل کے لیے استعمال کرنے پر راضی نظر نہیں آرھا ھے، لیکن ایران کے ایٹمی پروگرام پر ابتدایی معایدہ کے بعد، ایران امریکی مفادات (القاعدہ کی طرح کی تنظیموں کو مڈل ایسٹ میں جگہ نہ دینے کی پالیسی) اور اسراییلی مفادات (اسراییل کے لیے آخری عملی مشکل حزب اللہ کو کنٹرول کرنا) کے لیے بہتر پوزیشن میں ھے۔ اس میں ایران کے لیے شام میں حمایتی حکومت کا قیام، عراق میں سنی آبادی کو کنٹرول کرنا اور سعودی عرب میں سعود فیملی کے لیے اندرونی اور بیرونی مسایل پیدا کرنا، نہایت آسان ھو جاے گا۔ کیا امریکہ کی سنی بلاک سے ستر سالہ دوستی اب شیعہ بلاک کے حق میں قربان ھونے جارہی ھے؟

مصر کے مسیلے پرسعودیہ اور ترکی بہت مختلف پواینٹ آف ویو رکھتے ھیں۔ سعودی عرب نے مصرکی فوجی حکومت کے لیے امریکہ کی بظاھر ناراضگی کے بعد پانچ بلین ڈالر کی امداد او۔ کے کردی،اور وہ اخوان کو ھر صورت سیاست سے باہر کرنا چاھتا ھے۔ جبکہ ترکی فوجی مداخلت کے خلاف ھے، اور جلد از جلد جمہوریت کی بحالی چاہتا ھے۔ ایران اس پر خاموش ھے، جبکہ امریکہ اخوان کے اقتدار سے خارج ھونے پر انتہایی مطمین ھے اورسونے پر سہاگہ کہ اب اسکو جو امداد مصر میں فوجی حکومت کو دینی تھی وہ سعودی خزانے سے ادا ھو رہی ھے۔

اورایسا امریکہ، جس کے معاشی مسایل ختم نہیں ھو رھے ،صدر سیاسی طور پر کمزورھو چکا ھے، اقوام متحدہ میں امریکہ کی من مانیاں کم تر ھو رھی ھیں، اورجسے چین اور روس چیلنج پر چیلنج دے رھے ھیں،جو مڈل ایسٹ میں اپنی اھمیت اور جہاد سے خایف ھے۔ اور اس پر مزید یہ کہ شام میں شیعہ اور شام مخالف جہادی تنظیمیں جڑ پکڑ رھی ھیں۔ ایران کے لیے ایک سنہری موقع تھا.کہ وہ اپنے مفادات کی حفاظت کرے، جسمیں ایراں کے لیے مغرب کو قریب کرنا، شام میں اسد کی حکومت کو قایم رکھنا، حزب اللہ کوسنی جہادی تنظیموں سےتحفظ فراھم کرنا شامل ھے۔ اسکے لیے دو عوامل بہت ضروری تھے ایک ایٹمی پروگرام پرکچھھ رعایتیں دینا اور دوم حزب اللہ کو اسراییل کے معاملے پر خاموش رکھنا۔ تو اسطرح سے کیی دھاییوں میں پہلی دفعہ امریکہ اور ایران کے مفادات ایک ھوتے نظر آ رھے ھیں۔ اگرایران یہ دو کام کر سکتا ھے،جن میں سے ایک پر(ایٹمی پروگرام) کام ھو رھا ھے، اور دوسرا (حزب اللہ اور اسراییل کا ایک دوسرے سے لا تعلق رھنا ) بھی عین ممکن ھے، تو پھر ایران کی پوزیشن انتہایی اھم ھو جاے گی۔ اور ایک طاقتور ایران مسلمانوں، خطے اور پاکستان کے لیے بہت سارے عوامل کا سبب بنے گا۔

مستقبل میں ان تبدیلیوں کے کیا اثرات مرتب ھو سکتے ھیں؟

۔ ایران کے پاس مڈل ایسٹ کو متوازن رکھنے کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت زیادہ کارڈ ھونگے، خاص طور پر جہادی تنظیموں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے۔
امریکہ اور ایران ایکدوسرے کے قریب آییں گے، حزب اللہ اسراییل کے بجاے آل سعود ، القاعدہ اور سنی گروپوں کو نشانہ بناے گی۔
شام میں ایک لمبی، خونریز لڑایی ھو گی۔ اسد کو حکومت کو ایران اور ویسٹ کی حمایت حاصل ھو گی۔
سعودی عرب جو امریکی مخالفت میں مصر اور لبنان کو بہت بڑی امداد او۔ کے کر چکا ھے، بتدریج جہادی تنظیموں کو ایران، شام اورعراق مخالف رول پر استعمال کرے گا۔
سعودی عرب کے جنوبی حصے، بحرین، کویت، یمن میں شیعہ تنظیمیں بتدریج مضبوط کی جاییں گی، اور جنگ کوآل سعود کے گھر تک لے جایا جاے گا۔
کیا اس بات کے بھی چانشز ھیں کہ سعودی ٴ اسراییل گٹھھ جوڑ سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنایا جاے، شاید نہیں۔ اسلیے کہ اسراییل کی شدید خواہش کے باوجود، ایک کنٹرولڈ ایرانی ایٹمی پروگرام امریکہ کی کتاب میں جہادی تنظیموں سے کم نقصان دہ ھو گا۔
امت مسلمہ میں ایک بہت گھمبیر لمبی لڑایی کا آغاز ھونے والا ھے۔ جس سے لا تعلق رھتا پاکستان کے لیے ناممکن ھوگا۔ اگر پاکستان مکہ و مدینہ کے لیے افواج بھیجے گا تو اس کا مطلب ایک مضبوط ایران کے لیے کیا ھو گا؟
پاکیستان کے لیے صرف لوکل شیعہ سنی فساد ناقاپل حل ھیں، اور جب اس کے ٹریگرمکہ مدینہ اور نجف اور قم سے متحرک ھونگے تو پھر کیا ھو گا؟ یاد رکھنے کی بات یہ ھے کہ جب ۱۹۷۹ کا انقلاب ایران برپا ھوا تھا تو اسوقت نیے جزبے سے سرشار فقہ جعفریہ کی کتابوں نے بہت سارے ملکوں میں مقامی زبانوں میں جو نفرت کے بیج بوے، اسکے اثرات آج تک قایم ھیں۔ اگر انکو طاقتور ایران نے نیا ٹیکہ لگایا، تو پھر سنی تنظیموں کی فنڈنگ کو بڑھنے سے کون روکے گا؟