آزاد میڈیا کا کردار

Posted on November 23, 2013



آغا محبوب

آزاد میڈیا کا کردار
ایک وہ دور تھا جب 60-70 کی دہائی میں ہمارے پاک وطن میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہ تھا جس سے عوام کو پل دو پل کے حالات کی جانکاری مل سکتی ہو اور سرکاری ابلاغ کی نشریات کا یہ عالم تھا کہ وہ حکومت کی مرضی اور منشا کے بغیر کوئی خبر نشر نہیں کر سکتے تھے۔ اس دور میں حکومت کے مفاد والی خبروں کو نمایاں طور پر اخبارات میں شائع کیا جاتا تھا یا پھر ریڈیو پاکستان سے نشر کیا جاتا تھا۔ اس دور میں حکومت کے خلاف دو لفظ ادا کرنے سے بھی جیل جانے کا خوف رہتا تھا۔ اس لئےاُس دور کے باشعور عوام کا اعتماد اپنے ہی ملک کے ریڈیو اور اخبارات سے اٹھ چکا تھا اور وہ اپنے ملک کی نشریات پر یقین کرنے کے بجائے غیر ملکی نشریات سننے کےلیے بیتاب رہتے تھے۔ اُس دور میں BBC اور اس سے نشر ہونے والا پروگرام (سیربین) عوام کا پسندیدہ پروگرام تھے۔
وقت بدلتا گیا اور پھر آہستہ آہستہ ہمارے ملک میں بھی پریس آزاد ہوتے گئے اور دیکھتے دیکھتے پچھلے دس بارہ سال میں ہمیں الیکٹرانک میڈیا کے نام پر کئی پرائیویٹ ٹی وی چینل دیکھنے کو مل گئے جن میں کچھ تو انٹرٹینمنٹ کے اور کچھ نیوز چینل ہیں۔ ان نیوز چینلز نے شروع شروع میں انتہائی ایمانداری سے صحافت کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ جنگیں ہوں یا دہشت گردی کے واقعات ان پرائیویٹ چینلز کے کئی کیمرا مین اور رپورٹرس خبروں کی کوریج کرتے ہوئے اپنی جان کا نظرانہ بھی دے چکے مگر ہمیں پل پل کی خبروں سے آشنہ کرتے رہے۔
پھر جب ان نجی ٹی وی چینلز کو عوام سے بے حد پذیرائی ملی تو پھر کچھ پرائیویٹ چینلز نے جو ملک کے بڑے نشریاتی ادارے سمجھے جاتے ہیں وہ غرور و تکبر میں آ کر 60-70 والی پالیسی میں کچھ تبدیلیاں لا کر ایسے پروگرام نشر کرنے لگے ہیں جو ان چینلز کے مالکان کے مفاد میں ہو۔ اور کئی اہم واقعات اور حادثات کی خبروں کو عوام تک پہنچنے سے روک دیا جاتا ہے اور کچھ خبروں کو سنسنی خیز بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
ایسے چینلز کی تعداد کچھ زیادہ تو نہیں مگر ایک مچھلی بھی پورے تالاب کو گندا کر دینے کےلیے کافی ہوتی ہے۔ ایسے چینلز جو غرور و تکبر میں آگئے ہیں وہ ملک کی حکومتیں گرانے اور بنانے میں بھی اپنا مکروہ کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس وقت بھی ہمارے بیشتر ٹی وی چینلز ٹاک شوز میں اپنے پسندیدہ شخصیات کو بلا کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جبکہ نا پسندیدہ اشخاص کی مٹی پلیت کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ اس کے علاوہ اب ایسا دور بھی آگیا ہے کہ اب ہمارے پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے مہذب کہلانے والے اینکرز بھی ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنے پر تلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان اینکرز اور چینلز کی لڑائی میں عوام فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ ان میں کون حق پر ہے اور کون غلط ہے۔ چینلز کی ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات اب روز کا معمول بن چکا ہے تو پھر ایسی صورت میں عوام کا اعتماد ان چینلز سے آہستہ آہستہ اُٹھ رہا ہے اور عوام اب آزاد میڈیا اور چینلز دیکھنے یا ان پر یقین کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کا رخ اختیار کرتے ہیں جہاں انہیں انٹرنیٹ پر ایسی کئی خبریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں جو ہمارے آزاد میڈیا مصلحت کے تحت نشر نہیں کر پاتے۔ نہ صرف اتنا بلکہ عوام کو کچھ ایسی تصاویر بھی دیکھنے کو مل جاتی ہیں جو کوئی اخبار یا چینل خوف کے مارے نہیں دکھا پاتا ہے۔
ہماری آزاد میڈیا کو عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ انہیں سچائی اور ایمانداری سے پل دو پل کے حالات و واقعات سے آگاہ رکھنا ہوگا۔ انہیں معاشرے کی اصلاح کے لئے دو قدم آگے چلنا ہوگا۔ مگر یہ سب کچھ تب ممکن ہے جب ہماری آزاد میڈیا بلیک میلنگ چھوڑ دے۔ ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنا ترک کر دے اپنے ٹاک شوز میں تمام شرکاء سے یکساں سلوک اختیار کرے اور ملک و عوام کے مفاد کو اپنے مفاد پر ترجیح دے۔ [email protected]