Ummat-e-muslimah k maujoodah halaat sahee hadeeth ki roshni main

Posted on November 15, 2013



امت مسلمہ کے موجودہ حالات صحیح حدیث کی روشنی میں:تابعی امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، پھر ایک نوجوان نے ان سے پوچھا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا،مفہوم:”….جس قوم میں بھی فحاشی ظاھر ہوگی،پھر وہ اسے (علانیہ) کریں گے تو اس قوم میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جائیں گی، جو ان کے آباؤ اجداد میں نہیں تھیں، جو لوگ ناپ تول میں کمی کریں گے تو انھیں قحط سالی، رزق کی تنگی اور حکمرانوں کے ظلم کے ساتھ پکڑ لیا جاۓ گا. اور جو لوگ زکوۃ نہیں دیں گے تو آسمان سے بارش کے قطروں کو روک لیا جاۓ گا اور اگر جانور نہ ہوتے تو بارش ہی نہ ہوتی. اور جو لوگ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معائدہ توڑ دیں گے (یعنی لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ پر عمل نہیں کریں گے) تو اللہ غیروں سے ان کے دشمن (کفار) ان پر مسلط کر دے گا اور وہ ان کے ہاتھوں سے بعض چیزیں (مثلا علاقے، مال وغیرھ) لے لیں گے. اور جب ان کے حکمران کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے تو اللہ انہیں آپس میں لڑا دے گا. پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ایک فوجی گروہ تیار کریں جس پر آپ کو امیر بنایا…”

(حوالہ: المستدرک للحاکم جلد 4 صفحہ 540، حدیث نمبر 8623 اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللہ نے صحیح کہا
اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی، وسندہ حسن، المخطوط المنصور جلد 4 صفحہ 241،240) المستدرک کے مطبوعہ نسخے (اور مخطوطے) میں علی بن حمشاذ اور ابو الجماہر کے درمیان عبید (بن محمد الغازی العسقلانی) کا واسطہ رہ گیا ہے، دیکھیں اتحاف المھرہ جلد 8 صفحہ 590 حدیث نمبر 10015.

اصل سمجھنے کا نقطہ یہ ہے کہ اس روایت میں جن تین چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی فحاشی کا ظاھر ہونا اور اسکو علانیہ کرنا، ناپ تول میں کمی کرنا، اور زکوۃ نہ ادا کرنا یہ تینوں باتیں مسلم امہ میں بالعموم موجود ہیں اسی لیے حدیث میں بیان کیے گیے ان کے مضمرات بھی موجود وظاھر ہیں مثلا فحاشی کے علانیے ظاھر ہونے کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں کا پھیل جانا مثلا طرح طرح کے کنسر،کم عمری میں دل کے امراض اور ایڈز جیسے موضی امراض کا ظاھر ہوجانا وغیرہ. ناپ تول میں کمی سے جن مضمرات کا حدیث میں ذکر ہے وہ بھی ظاہر ہیں مثلا قحط سالی بھی عام ہے، رزق کی تنگی موجود ہے یا اسکی قیمت اتنی زیادہ ہے کے ہر بندے کی پہنچ اس تک نہیں ہے، حکمرانوں کا ظلم بھی عام ہوچکا ہے (اگر چہ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ حکام کے خلاف خروج جائز نہیں الا کہ ان میں 8 شرائط پائیں جائیں جسکا ذکر پھر کسی وقت کیا جاۓ گا، ان شاء اللہ) اسی طرح حکومتیں ٹیکس کے پیچھے تو بہت تگو دو کر رہی ہیں مگر شرعی زکوۃ اکٹھی کرنے کو پس وپشت ڈال دیا گیا ہے اور اسکا مضر بھی موجود ہے یعنی بارش بھی اپنے وقت پر نہیں ہوتی، اور جب ہوتی ہے تو اس سے نقصان ہوتا ہے اور سیلاب آجاتے ہیں. اللہ کے ساتھ کیے گیے وعدے کو توڑنے کی وجہ سے آج ھم پر کفار بھی مسلط ہو گیے ہیں.

اللہ مسلمانوں کو توحید پر مجتمع و متحد فرماۓ اور ان باتوں سے انفرادی اور اجتماعی طور پر بچاۓ جن کا ذکر حدیث میں ہوا اور جن کو ھم نے سمجھنے کی کوشش کی، اور یقینا توفیق دینے والا تو اللہ رب العزت ہی ہے

واللہ اعلم