طاہر القادر سچ کہتے تھے۔۔۔!!

Posted on November 14, 2013



ملت کا شیرازہ بکھر ا ہوا تھا ،نظریاتی وحدت منقسم تھی۔چھوٹے چھوٹے سیا سی و زاتی مفاد اتحاد کے رستے میں حائل تھے۔سیاسی قیادت کو یکجا کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں ۔مغرب میں تیار شدہ اور مشرق میں اپنایا ہوا نظام جمہوریت تمام تر قربانیوں کے باجود مختلف جانوں کو ایک قالب میں نہیں ڈھال سکا ۔2012 ء کے انتخابی نتائج چیخ چیخ کر گواہی دے رہے تھے کہ ہم گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔نفاق ہماری رگوں میں سرایت کر چکا ہے ۔کوئی میاں نواز شریف کا دلدادہ ہے،کوئی عمران خان پر فریفتہ ہے،آصف علی زرداری کے باوجود لوگ پی پی سے محبت رکھتے ہیں ۔الطاف حسین کا ڈنکا بجتا ہے۔مولانا فضل الرحمن بھی اپنے حلقوں میں چند ناکامیوں کے باوجود مقبول ہیں ۔
حکومت سازی کے عمل نے ناچاقیوں اور عداوتوں کو مزید فروغ دیا تھا۔دنیا کی درجنوں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مل کر ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا ۔ہم باہمی جھگڑوں سے باز نہ آئے ۔دنیا ہمارے خلاف اردگرد سازشوں کا جال بنتی رہی اور ہم خود پرستی اور انا کے غلام بنے رہے ۔لیڈران اور جماعتیں اسمبلی کے اجلاسوں کے علاوہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کو تیار نہ ہوئیں ۔تڑپتے ہوئے عوام ۔لوڈشیڈنگ کے جھٹکے ،ہر سال لاکھوں بچوں کی صحت کی سہولیات کے فقدان کے باعث اموات،گٹر کے پانی پر پلتی ہوئی غریبوں کی اکثریت اور آدھی سے زیادہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی قوم بھی ہمیں اکٹھا نہ کر پائی ۔خداوند تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ہمیں جھنجھورنے کی کوشش کی مگر ہم انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ منتشر رہنے پر پرُ عزم رہے۔دہشتگردوں نے گاؤں کے گاؤں اُجاڑ دیے،بے کس اور مجبور خلق خدا کو بد ترین حالات سے دو چار کر دیا ۔ہم نے چند ہفتے قومی حمیت اور غیرت کا مظاہرہ کیا ۔تصویریں بنیں،خبریں چلیں۔ہر کسی کی انفرادی واہ واہ ہوئی مگر اس کے بعد وہی آپا دھاپی اور گتھم گتھا سیاست کا آغاز ہو گیا۔
ہر کوئی ہر جگہ اپنی زات میں مگن مگر قوم کی ترستی ہوئی آنکھوں اور بلبلاتی ہوئی روح کی اس فریاد کو پورا کرنے سے قاصر کہ کوئی تو ہو جو ان بکھرے ہوئے موتیوں کوایک خوبصورت مالا میں تبدیل کر دے ۔مگر 2012 ء تک ایسی شخصیت کا دور دور تک کوئی نشان نظر نہیں آتا تھا جو انہیں ملک و قوم اور پاکستان کی سلامتی کیلئے اکھٹا کر سکتا ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
حضرت علامہ اقبال ؒ نے یہ شعر تاریخ ساز شخصیات کیلئے لکھا تھا۔ڈاکٹر محمد طاہر القادری جو تقریباً20 دسمبر2012کو رات 1 بج کر 45 منٹ پر لاہور کے ائیر پورٹ پر ایک حادثہ کی طرح رونماہ ہوئے ،صبح کی روشنی کے ساتھ مینار پاکستان میں انسانی سمندر کاہجوم اکٹھا ہونا شروع ہو اجو 23 دسمبر2012 ء کو پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑاجلسہ قرار پایا ۔ہماری خوش قسمتی ہے کہ 2013ء کے ٹھٹھرتے ہوئے دنوں میں ہمیں اپنے درمیان ایسی قابل ہستی کی موجودگہ کا علم ہوا ،جس کے آنے سے یہ عقل سے عاری منطق سے خالی سمجھ سے بالاتراور سوجھ بوجھ سے فارغ تمام حکمران سارے اختلافات بھلائے یکجان ہو گئے تا کہ حق کی آواز بلند ہونے سے پہلے ڈب جائے لیکن وقت کو کچھ اور ہی منظور تھا الزام تراشیاں اور سازشوں کے باوجود یہ سیاسی لٹیرے کوئی الزام سچ ثابت نہ کر سکے۔اور خود ساختہ قانون منظر عام پر آگیااور انہیں عوام الناس کے سامنے چہرہ داغدار دیکھائی دینے لگا۔پھر انقلاب کا رستہ خود ہی بنتا گیا ۔
14 جنوری 2013ء کو لاہور سے اسلام آباد تک 39 گھنٹے سفر جاری رکھتے ہوئے لاکھوں لوگوں نے اسلام آباد 4 دن ٹھہر کر تاریخ کا سب سے بڑا لانگ مارچ کیا ۔ایسا نظارہ اس سے پہلے کبھی دیکھا گیا نہ ہی دیکھا جا سکے گا ،مرد ،عورتیں ،بچے ،بوڑھے سب ایک ساتھ پُر امن اس مارچ میں شریک نظر آئے،کوئی پتہ ٹوٹا نہ کوئی گملہ سب ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور حفاظت کرتے دیکھائی دیتے تھے ،کسی کو کسی سے کوئی شکوہ تھا نہ اختلاف ۔اسلام آباد کی شاہرائیں گواہ ہیں ڈاکٹر محمد طاہر القادری چیختے رہے قانون کی دھجیاں اُرانے والوں پر ،خود ساختہ قانون بنانے والوں پر،الیکشن کمیشن کی نا انصافی اور اندھے پن پر ،تبدیلی کے خواہش مند ،تبدیلی کے نعرہ لگانے والوں کو تبدیلی کے عظیم مشن کی تکمیل کیلئے پکارتے رہے مگر کسی کے کان میں جوں تک نہ رینگی ۔۔میڈیا خریدا گیا ۔الزام تراشیاں ہوئیں مگر کوئی سچ ثابت نہ ہو سکا۔۔
آخر ملک کی سلامتی و بقا ء کی خاطر اسلام آباد کی شاہرائیں خالی کر دی گئیں ۔
چونکہ ڈاکٹر طاہر القادری کے بعقول ۔۔’’اس ملک میں 67 سالوں سے عوام دشمن نظام قابض ہے یہ نظام جاگیرداروں اور وڈیروں کا نظام ہے یہاں اقتدار نسل در نسل منتقل ہوتا ہے ۔67 سالوں میں جمہوریت کے نام پر ادوار بدلتے رہے ،کبھی فوجی آمرتیں آئیں اور کبھی سیاسی آمرتیں ،مگر اسمبلیاں اور اقتدار ان خانوادوں سے کھبی باہر نہیں گیا۔یہاں لوگ پانچ سال تک اس نظام کے خلاف اپنی نفرتوں اور غیظ و غضب کا پالتے رہتے ہیں تاکہ آئندہ ان سے نجات مل سکے مگر جو نہی پانچ سال مکمل ہوتے ہیں ۔اُن کا وہی دشمن نئے انداز سے دوستی ،وفاداری ،ہم دردی اور محبت کا لباس اوڑھ کر سامنے آجاتا ہے اور شعور کا چراغ بجھ جاتا ہے ۔پھر سے قوم مایوس دیکھائی دیتی ہے اور ان کرپٹ نا اہل حکمرانوں سے دھوکہ کھائے اگلے الیکشن کا انتظار کرتی ہے‘‘۔
اصل میں یہ حکمران بہت چالاک ہوتے ہیں یہ عوام کو سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتے ایک مسئلے سے نکلے دوسرے مسئلے میں اولجھائے رکھتے ہیں ،کبھی دہشتگردی،تو کبھی لوڈشیڈنگ،کبھی ڈراؤن حملے،تو کبھی امن کی آشا۔کھبی آفیہ کیس توکھبی ملالہ کیس،کبھی مشرف قرارداد توکبھی مذکرات۔ اسی دوران پانچ سال پورے ہو جاتے ہیں ۔ اس ملک میں جمہوریت،سوشلزم،سمیت تمام نظام آزما لئے گئے اس لئے پاکستان عوامی تحریک نے 11 مئی 2013 ء کے دن پاکستان بھر دھڑنا دے کر اس کرپٹ الیکشن سسٹم سے بائیکاٹ کا عملی مظاہرہ کیا ۔جس کا مقصد پاکستان کی بے بس اور لچارعوام کو شعور کی اُس سطح بلندی تک پہنچنا تھا جہاں سے تبدیلی کا مفہوم ہر خاص و عام کو با آسانی سمجھ آسکے ،اور یہ اپنی منزل آسانی سے طے کرسکیں۔جو وقت کے لحاظ سے صیح قدم ثابت ہوا ۔
لیکن آج ہم بھول گئے کہ الیکشن کب ہوئے تھے؟ حکومت کب بنی؟کس نے کتنے غیر ملکی دورے کئے؟کون جیتا کون ہارا؟کس کا کیا موقف تھا؟کون کس کو غلط اور کون کس کو صیح ثابت کرتا تھا ؟کون کہاں اور کس کے خلاف اکھٹے ہوئے ؟کس کا کیا ایجنڈا تھا؟
شاید ہمیں نہیں یاد۔۔۔؟
مگر ڈاکٹر طاہر القادری کی ہر بات سچ ثابت ہوئی اور ہو رہی ہے،پاکستان تحریک انصاف بڑی طرح ناکام ہوئی ،پاکستان میں تاریخ کی سب سے بڑی دھاندلی ہوئی،قانون کی دھجیاں بکھیریں گئی،آئین پاکستان کو مذاق بنا دیا گیا،عوام الناس کو پچھلے67 برسوں کی طرح دھوکہ دیا گیا،الیکشن کمیشن پر اعتراضات،صاف و شفاف الیکشن کا نہ ہو نا،لوڈشیڈنگ میں اضافہ،سرکاری اداروں کی نیلامی،ڈراؤن حملوں کا جاری رہنا،مشرف کی آزادی سمیت ہر
بات وقت کے ساتھ ساتھ سچ ثابت ہو رہی ہے ۔ ۔
اور یہ وہ باتیں ہیں جن کا زکر ڈاکٹر طاہر القادری مینار پاکستان اور لانگ مارچ سے پہلے کرتے رہے لیکن آج پاکستان کے نامور کالم نگارو تجزیہ نگار،اینکر پرسن،سیاستدان،علماء اکرام اور عوام الناس آئے روز طاہر القادری کی ہر بات سے اتفاق کرتے ہوئے افسوس کا رونا رورہے ہیں ،ختہ کہ چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان صاحب بھی بیسوں مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری ٹھیک کہتے تھے۔اب پھر سے عوام مایوس ہے،67 سالوں کی طرح اس بار بھی عوام کے جذبات سے کھیلا گیا،بجلی ،پٹرول،گیس ۔۔مہنگائی سی مہنگائی ہے،ہر شخص روزگار،صحت،تعلیم تمام بنیادی ضروریات سے محروم ہو چکا ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہر شخص تذبذب کا شکار ہے ،ہر طرف اندھیرا ،افراتفری کا دور دورہ ہے ۔اب نہ کوئی (ن) لیگ کا جیالہ ہے اور نہ پیپلز پارٹی کا جانثار اور نہ ہی ایم کیو ایم کے کوئی گیت گاتا ہے اور تحریک انصاف۔۔شاید کہنا بے جانہ ہو گا عمران خان صاحب اپنے پیروکاروں کوزہنی طور پر پُر امن انقلاب کا حصہ بننے کیلئے تیار کر رہے ہیں کہ طاہر القادری ٹھیک کہتے تھے۔۔

whoisNS

End