پاکستان کے چند یزیدی کردار

Posted on November 10, 2013



محرم الحرام امام علی مقام کی بے مثال قربانی کی یاد دلاتا ہے دس محرم سن ۶۱ ہجری میں جب امام عالی مقام نے دیکھا کہ اسلامی اصولوں پر عمل نہیں ہو رہا اور اسلامی اصولوں کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا رہا ، اسلام کو تماشہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے تو آپ ان حالات میں اسلام کا چہرہ مسخ کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے یزید کے خلاف قیام پر یزیدی افواج نے ظلم کی وہ تاریخ رقم کی کہ جس کی مثال نہیں ملتی فرزند رسول کو ان کے اصحاب اور اعزا سمیت بے دردی سے شہید کر دیا یزیدی درندوں نے چھ ماہ کے بچے کو بھی انتہائی فجیع انداز میں شہدی کر دیا یزید نے امام عالی مقام کو شہید کر کے لعنت کا طوق اپنے گلے ڈال لیا آج بھی ہر مسلمان حسینی ہونے پر فخر جبکہ یزیدی کردار پر لعنت بھیجتا ہے۔

امام عالی مقام نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے تمام مسلمانوں کو یہ درس دیا کہ جب اسلامی اصولوں کو مسخ کیا جائے اور اسلام کو تماشہ بنا کر رکھ دیا جائے تو میری طرح اسلام کی بقا کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دو۔
مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہےکہ مسلمانوں کو امام عالی مقام کی شہادت سے باطل کے خلاف ڈٹ جانےکا وہ حوصلہ ملا ہےکہ یہ جذبہ موت کے بعد بھی خاموش نہیں ہوتا اسلام کے لیے دی جانے والی مسلمانوں کی قربانیوں نے آج تک اسلام کوزندہ رکھا ہے وہ اسلام جس کی بقا کے لیے سرور کاینات کے نواسے نے اپنی جان دی تھی آج بھی پوری دنیا کا باطل اسلام کو نقصان پہنچانےکے در پے ہے۔

اگر وطن عزیز پاکستان کو دیکھا جائے تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک اسے لاتعداد یزیدوں کا سامنا رہا ہے جنہوں نے اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک کے خلاف اپنی مذموم کاوشیں جاری رکھیں تا کہ اس ملک سے اسلام کی جڑیں کاٹ دی جائیں لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف لڑنے والے یزیدوں کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑا پاکستان کے موجودہ حالات پر نگاہ ڈالیں تو پاکستان ہمیں میدان کربلا دکھائی دیتا ہے جہاں اسلام کے نام لیواؤں کو تہہ تیغ کیا جا رہا ہے اور بدبختی کی انتہا ہےکہ قتل عام کو اسلام کی خدمت کا نام دیا جا رہا ہے خود کو اسلام کا ٹھیکیدار سمجھنے والے اسلام کی دھجیاں اڑا رہے ہیں مجھے اس وقت پاکستان میں دو ہی وقتیں نظر آتی ہیں ایک حسینی قوت اور دوستی یزیدی قوت ۔

پاکستان میں ایک خاص فکرکے لوگوں نے ہزاروں پاکستانی عوام کو انتہائی فجیع انداز میں قتل کر کے یزیدی مظالم کی یاد تازہ کر دی ہے کتنے بے گناہ لوگوں کے گلے کاٹے گئے کتنے ہی معصوم لوگوں کو بم دھماکوں اور خود کش بم دھماکوں میں شہید کیا گیا انہی درندوں کا لیڈر جب ایک جہنم واصل ہوتا ہے تو اسلام کے ٹھیکیدار اس کو شہید قرار دیتے ہیں اور مسند اقتدارپر فائز بڑے یزید بھی اس درندے کی موت پر افسردہ نظر آتے ہیں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے اپ کو دھراتی ہے اور یہ کہ تاریخ استاد کی حیثیت رکھتی ہے تاریخی حقایق کی روشنی میں پاکستان میں موجود بہت سارے لوگ ہمیں یزیدی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں وہ لوگ جو میڈیا میں سر عام ایسے درندوں کی حمایت کرتے ہوں جن کے ہاتھ ہزاروں بےگناہوں کے خون سے رنگین ہیں ان کو یزیدی کے علاوہ کیا قرار دیا جائے؟

اسی طرح وہ لوگ جو وطن عزیزمیں درندوں کے دفتر کھولنے پر بضد ہوں ان کو یزیدی نہیں تو کیا کہاجائے؟
پاکستان کےمیدان کربلا میں قوم چاروں طرف سے یزیدوں کے درمیان گھری ہے لیکن ان تمام یزیدوں کو یادرکھنا چاہیے کہ یی جتنا بھی خون بہا لیں انہیں ان کے یزیدی اہداف میں ہرگزکامیابی حاصل نہیں ہو سکے گی خاص طور پر وہ میڈیا طالبان جنہوں نے طالبان کے جہالت کے نظام کے نفاذ کے خواب دیکھنا شروع کر دئیے ہیں وہ ہزاروں کیا لاکھوں بے گناہوں کو مروا تو سکتے ہیں جہالت کا نظام نافذ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔