مذاکراتی رومانس اور سنت فضلیہ

Posted on November 7, 2013



طالبان سے مذاکرات کے لیے حکومت پاکستان کی کاوشیں تاریخ میں سنہری الفاظ سےلکھی جائیں گی حکومت پاکستان نے طالبان سےمذاکرات کے ایشو پر جتنی محنت کی اس پر عوام کی طرف سے حکومت کو ایوارڈ ملنا چاہیے حکومت نے طالبان سے مذاکرات کو اپنا آخری ہدف قرار دیتے ہوئے بار بار نا صرف مذاکرات کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے طالبان کی منتوں اور ترلوں پر اتر آئی اور طالبان کے ترلے کرتی رہی کہ طالبان بھائیو! اب مذاکرات کر بھی لو لیکن طالبان نے کسی ضدی بچے یا اناڑی محبوبہ کی طرح ناں! ناں! کی رٹ جاری رکھی حکومت کی طرف سے مذاکرات کا یہ رومانسی عمل جاری تھا کہ امریکہ نے حکومت کی ساری محنتوں پر پانی پھیر دیا اور طالبان لیڈر کو ڈرون حملے میں مار دیا اب جبکہ حکومت پاکستان کی محبوبہ یعنی طالبان لیڈر امریکی ڈرون حملہ کی نذرہو گیاہےتوظاہر ہے اس اناڑی محبوبہ کا اچانک داغ مفارقت دے جانا حکومت کے لیے کسی بڑے سانحہ سے کم نہیں ہے اسی لیے وزیر داخلہ صاحب نے اس محبوبہ کی جدائی پر پریس کانفرنس کی صورت میں ایک بھرپور نوحہ کہا حکومت پاکستان بیک وقت کئی ایک حسیناؤں کی محبت میں گرفتار ہے ایک طرف طالبان تو دوسری طرف امریکہ۔
جبکہ پاکستان کی عوام ان تینوں کے درمیان قربانی کا بکرا بنی ہوئی ہے پاکستان کی عوام سے نا تو حکومت کو کوئی غرض ہے نہ امریکہ اور طالبان کو ان سب کا رومانس جاری ہے اور ان تینوں کے رومانس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

دنیا بھرکی حکومتوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی بھی حکومت نے اپنے داخلی دشمنوں کے ساتھ اتنا نرم رویہ روا نہیں رکھا جتنا پاکستانی حکومت نے طالبان کے ساتھ روا رکھ ہوا ہے مذاکرات کے عمل کی کوئی بھی صاحب عقل انسان نفی نہیں کرسکتا لیکن مذاکرات کا کوئی سر پیر بھی تو ہونا چاہیے! حکومت طالبان کے ساتھ کس چیز پر مذاکرات کرنا چاہتی ہےکیا اس بات پر مذاکرت ہوں گے کہ طالبان اپنے مطالبات بتائیں تا کہ قابل عمل مطالبات کو حکومت پورا کر سکے؟یا یہ کہ طالبان کی تمام تر شرائط کو حکومت ماننے کے لیے تیار ہے؟انتہائی افسوس کی بات ہے ابھی تک حکومت مذاکرات کا ایجنڈا ہی نہیں بتا سکی۔
دوسری طرف طالبان نے حکومت کی مذاکرات کی پیش کش کا جواب گولی سے دیا اور ساتھ ہی الٹی سیدھی شرائط عائد کر دیں جن کو حکومت چاہتے ہوئے بھی قبول کرنے سے عاجز ہے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے رومانسی عمل میں نواز شریف حکومت اور بقول کسے طالبان خان میدان سیاست کے شہسوار حضرت مولانا فضل الرحمن کی سنت تحفظ اقتداریہ پر عمل کر رہے ہیں حضرت مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا ایک زمانہ معترف ہے اور ان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ ایک طرف شدت پسند مذہبی طبقے کو یہ کہہ کر مطمئن کرتے ہیں کہ وہ ان کے مذہبی نظریات کے مطابق اسلامی نظام کےنفاذ کے لیے کوشاں ہیں جبکہ دوسری طرف صاحبان اقتدار اور سیکولر قوتوں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ اگر مولانا صاحب کا وجود نہ ہوتا تو خاص نظریات کے لوگ نہ صرف حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں بلکہ ملک میں قتل و غارت کا بازار گرم کر کے ملک میں انارکی پھیلا دیں۔

اسی فضلیہ نظریہ کی بنیاد پر مولانا صاحب کو دونوں طرف سے خاطر خواہ کامیابی ملتی ہے کوئی بھی حکومت ہو مولانا صاحب اقتدار میں رہتے ہیں دوسری طرف عوام مولانا صاحب کی اسلام کے خدمات پر ان کوخراج تحسین پیش کرتی رہتی ہے۔
سنت فضلیہ پر عمل کرتے ہوئے حکومت نےطالبان سے مذاکراتی رومانس میں ایک طرف امریکہ کو یہ باور کروایا ہے کہ طالبان پاکستانی عوام کو قتل کر رہے ہیں ، ایسے ظالموں سے نا صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہیں، کیونکہ ہم طالبان سے بر سر پیکار ہیں اس لیے ہماری مدد کی جائے رہی بات ڈرون حملوں کی تو وہ آپ جاری رکھیں لیکن ہمیں احتجاج کا حق عطا فرما دیں تا کہ آپ ڈرون حملے کرتے رہیں اور ہم ڈرون حملوں کی مذمت کر کے پاکستانی عوام اور اقوام عالم کو مطمئن کرتے رہیں۔ دوسری طرف حکومت سنت فضلیہ کے مطابق طالبان سے مذاکرات پر نا صرف زور دے رہی ہے بلکہ اس کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔

اس سارے مذاکراتی رومانس میں پاکستانی عوام پس رہی ہے جو یہ بات بخوبی جانتی ہے کہ طالبان پاکستان کے اندرونی دشمن ہیں تو امریکہ پاکستان کا بیرونی دشمن۔یہ دونوں دشمن پاکستان کے وجود کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔

ان دونوں دشمنوں کے درمیان گھری عوام کبھی مذاکرات سے امید لگاتی ہے تو کبھی حکمرانوں سے یہ امید کرتی ہے کہ وہ امریکہ کو ڈرون حملوں سے باز رکھیں گے لیکن حکومت تو سنت فضلیہ پر عمل کرتے ہوئے دونوں دشمنوں سے رومانس لڑا کر اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔
اے کاش عوام کی دی ہوئی طاقت استعمال کرتے ہوئے حکمران ریاست کو چیلنج کرنے والے اپنے اندرونی دشمنوں سے آہنی ہاتھوں سے نبٹتے اور اسی طرح اپنے بیرونی دشمن امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے!
اس بہادرانہ عمل میں پوری قوم حکمرانوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوتی لیکن جب اقتدارکا تحفظ ہی ہدف بن جائے تو پھر حکمرانوں سے کسی بہادرانہ عمل کی توقع رکھنا فضول ہے لیکن ایسی بہادری کی خواہش کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے کہ بقول شاعر
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے