شہید مظلوم “سید نا حضرت عثمان ابن غفان رضی الله و تعالیٰ عنہ “-

Posted on October 23, 2013



تاریخ اسلام کے اوراق خون سے رنگ چکے ، بی بی نائلہ کی انگلیاں کٹ چکیں ، مسلمانوں کی صفحوں میں ہمیشہ کےلیے دراڑ پڑ چکی ، جنت کا باسی لوٹ چکا –
١٨ زلحج ٣٥ ہجری اسلامی تاریخ کا مظلوم و غمگین دن ، شائد ایک ایسا دن جو نہ کبھی اس سے پہلے اسلامی تاریخ میں آیا تھا اور نہ بعد میں آئے گا – مدینہ رسول صلی الله علیہ و آلہ وسلم میں سناٹا چھایا ہوا ہے مکین گھروں کے اندر موجود ہیں لیکن زندگی خاموش – عبدللہ ابن سبا خارجی ایک ہزار سے زیادہ کوفی اور مصری ساتھیوں کے ساتھ بے نیام تلواریں لیے رسول الله کے شہر کو خون آلودہ کرنے کے لیے بے تاب – وقت کی سب سے زیادہ طاقت ور مملکت کے اکثر وزرا اور گورنر حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد مکہ ہی میں موجود ہیں – محاصرے کو آج چالیسواں زوز ہوا چاہتا ہے –
عالم اسلام کی افواج پانیوں سے ہوتی ہوئی سندھ اور خراسان تک پہنچ چکی ہیں فتوحات کا سلسلہ جاری ہے ملک میں امن و سکون ہے کئی نئے اداروں کا قیام عمل میں آ چکا ہے پہلا اسلامی بحری بیڑا اپنی پوری شان کے ساتھ عرب کے سمندر کا سینہ چیر کر کھڑا ازخود مسلمانوں کے عروج کی داستان بیان کر رہ ہے ملت اسلامیہ پہلی دفعہ اپنا اکانومی کا نظام واضح کر چکی – اس اثنا میں بغاوت کی صدا بلند ہوئی – بصرہ ، مصر ، کوفہ ، شام ،یمن اور دیگر اسلامی ریاست کے صوبوں میں انٹیلیجنس کے لوگ صورت حال جاننے کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں خلیفہ وقت خود تمام معملات کی نگرانی کر رہا ہے – اطلاعات آتی ہیں کہ کوفہ و مصر کے علاوہ ہر جگہ امن ہے –
بیر رومہ کا مالک آج چالیسویں زور سے پیاسہ ہے ، لاکھوں غلے کے اونٹوں کا مالک کئی روز سے بھوکا زورہ رکھنے پر مجبور ، ٣٠ لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے کا بادشاہ اور لاکھوں کی فوج کا کمانڈر انچیف حالات کو جاننے کے باوجود مدینہ رسول میں اپنی تلوار بے نیام کرنے کو تیار نہیں – نجب الطرفین ہاشمی یہ شخص جو تمام تر وسائل ہونے کے باوجود الله پر بھروسہ کیے بیٹھا ہے ، یہ شخص جسکی شان خود الله نے قران میں بیان کی ہے زندگی کی ٨٢ بہاریں دیکھ چکا جنت کا حقدار یہ شخص جسکے لیے خاتم المرسلین اپنے ہاتھ کو اس کا ہاتھ قرار دے کر بیعت کرتے ہیں جو بدر سے حنین تک ہمیشہ رسول الله کا ہمنواہ رہا جو غلے کے لدھے اونٹوں سے لے کر غلاموں تک سب اسلام پر نچھاور کر چکا جسکا حیا الله کے نزدیک محبوب ٹھرا جسکو یکے بعد دیگرے رسول اللہ کی دو بیٹیوں سے عقد کا شرف حاصل ہو چکا – دربار رسالت سے بار بار شہادت کی خوش خبری پانے والا یہ شخص جو رسول الله کی زندگی میں آپ کا نائب ٹھہرا جو صحابیت سے کاتب وحی اور کاتب وحی سے عشرہ مبشرہ تک کی منازل طے کر چکا آج مظلومیت کی انتہا بنا بیٹھا ہے –
انتقام انتقام کی آواز خارجی باغیوں کی طرف سے مدینہ رسول میں گونج رہی ہے حیدر کرار کو کرار نہیں حسنین کریمین کو عبدللہ بن زبیر اور عبدللہ بن عمر کے ساتھ دربار خلیفہ میں پیغام رساں بنا کر بھیجتے ہیں حیدر کرار کا پیغام جس میں یہ بات فرمائی گئی ہے کہ آپ طاقت کا استعمال کر کے اس اسلام دشمن خارجی فتنے کا خاتمہ کریں – لیکن دوسری طرف کمال ضبط ، سمندر جیسی گہری خاموشی ، خیالات میں رسول الله کی بشارتیں جواب پھر وہ ہی کہ میں نبی کے شہر کو مسلمانوں کے خون سے آلودہ نہیں کر سکتا – جواب سننے کے بعد حیدر کرار نے حسنین کو دیگر صحابہ کے ساتھ بادشاہ وقت کا دربان مقرر کر دیا ہاں دربان – مگر الله کا حکم پورا ہونا ضروری و لازم ہے – خارجی ابن سبا یہودی النسل گھر کے پچھلے حصے سے داخل ہو کر حملہ کرتا ہے شیعوں کی تلواریں چلیں نائب رسول کا خون سوره البقرہ کی آیت نمبر ١٣٨ پرہمیشہ کے لیے سچائی کی گواہی دینے کے لیے گر پڑا –
ہاں یہ کوئی اور نہیں زولنورین سید نا حضرت عثمان بن غفان تھے ، جانشین رسول تھے ، کاتب وحی تھے ، ہم زلف علی تھے – ہاں یہ کوئی اور نہیں مکہ ، مدینہ ، یمن ، مصر ،شام ، کوفہ ، بصرہ ،الجزائر ، افریقہ ، آذربئجان ، خراسان اور موجودہ سندھ کے کچھ حصے کی حکمران تھے – ہاں یہ وہ ہی صحابی ہیں جن کے لیے بیعت رضوان الله کے حکم سے رسول الله کی طرف سے عمل میں آئی ، ہاں یہ وہ صحابی رسول ہیں جنھوں نے الله کے لیے رسول الله کے حکم سے دونوں ہجرتیں کیں ، بیر رومہ کو ٢٠ ہزار درہم میں خرید کر الله کی رہ میں وقف کیا ، غزوہ تبوک کے لیے ہزار دینار نقد ، ہزار اونٹ ، کئی سو گھوڑے رسول اللہ کی خدمت میں پیش کیئے – ہاں آپ کو ہی قران نے السابقون الاولون قرار دیا- ہاں یہ عثمان ہی تو ہیں جنکو دربار رسالت سے غنی کا لقب عطا ہوا ، جنھوں نےمسلمانوں کو کلام پاک کے ایک رسم الخط اورایک طریقه تلاوت پر جمع کر کے امت کو ہمیشہ کے لیے متحد کر دیا – ہاں یہ امت کے مظلوم عثمان ابن غفان ہی تھے –
١٨ زلحج ٣٥ ہجری کو عالم اسلام پر چمکنے والے اس درخشاں ستارے کو یہودی سازش کا شکار کرکے انتہائی بے بسی کے عالم میں ٨٢ سال کی عمر شہید کر دیا گیا – آپکا جسد جنت البقی میں مدفون ہے –
انا للہ و انا الیہ راجعون –
” مظلوم امت سید نا عثمان غنی پر لاکھوں سلام ”
از الیاس بابر محمّد