بجلی کی بڑھتی قیمتیں اور ھماری حکمت عملی

Posted on October 23, 2013



موجودہ حکومت نے انتخابات سے پہلے سب سے بڑے نعرے اور وعہدے انرجی کرائسز کو حل کرنے کے لیے کیے لیکن وہ بھی جوش خطابت نکلے حکومت میں آنے کے بعد آئ ایم ایف سے قرض اور بجلی کی قیمتوں میں کئ گنا اضافے نے اعوام کی چیخیں نکال دی ۔موجودہ حکومت کی حکمت عملی جہاں کا جو مجھے اندازہ ھوتا ھے وہ یہ ھے کہ بجلی کی سبسٹدی حکومت پر بوج ھے بجلی کی قیمت میں اتنا اضافہ کر دو کہ سوئیچ آن کرتے صارف 100 بار سوچے جب صارف بجلی کم استعمال کرے گا تو بجلی کم استعمال ھوگی اور اس طرح ھم اعوام کے آگے سچے ھو جائیں گے کہ دیکھوں بجلی کا مسلہ ھم نے حل کر دیا۔ لیکن یہ سب انکی بھول ھے بجلی کا مسلہ ھی اس حکومت کا تختہ گرا دے گا کیونکہ انہوں نے ووٹ ھی بلٹ ٹرین میٹرو اور بجلی کو ختم کرنے کشکول توڑنے پر لیے سب جوش خطابت نکلے۔

لیکن اب اعوام کیا کرے 200 یونٹ کے اوپر چاھے غریب ھو یا امیر ھوچیخیں سب کی نکلنی ھیں جب بل ھزاروں میں آئیں گے اتنی مہانہ انکم نہی ھوگی جتنا بل آ جاے گا اب پاکستان کی اعوام کے پاس ایک حل ھے بل ھزاروں میں دینے کے بجاے اب سولر انرجی سے کم سے کم اپنی لائیٹنگ اور پنکھے چلانے کی کوشش کرے 1کلو واٹ بجلی پر ایک لاکھ تک لاگت آتی ھے اور 200 واٹ تک 30 ھزار تک لاگت آتی ھے کم سے کم دو تین کمروں کی لائٹنگ کے لیے خود بجلی پروڈیوس کر سکتے ھیں۔

اگر ھم نے سولر پاور سسٹم پر اپنے گھر کی لائٹینگ نہ کی تو بجلی کے بل جب آنے ھیں مزاج سب کے درست ھو جانے ھیں۔ اب اعوام کو حکومت سے توقع چھوڑ کر خود انحصاری اور خود کفالت کی طرف دھان دینا ھوگا ۔ اپنے گھروں میں سبزیاں لگائیں ۔ بجلی خود بنائیں جتنی بنا سکتے سولر سسٹم پاکستان میں دستیاب ھیں اتنا تو کر سکتے ھیں کہ گھر کے انرجی سیورز سولر سسٹم سے چلائیں۔

اگر ھم نے خود انحصاری کی راہ نہ اپنائ تو یہ حکومت پتھر کے دور میں پہنچانے کا پورا بندوبست کیئے ھوے ھے ۔

ھومیو ڈاکڑ قاسم سیف