پاکستانی عوام کی بصیرت و بصارت نشانے ہر

Posted on October 22, 2013



(از ابن رحیم)اللہ تعالی نے انسان کو بےشمار نعمتوں سے نوازا ہے ان نعمتوں میں انسانی بصیرت اور بصارت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔بینائی کی نمعت سے سرفراز ہر انسان پر بصارت کی اہمیت عیاں ہے۔دنیا میں موجود مظاہر فطرت کا نظارہ اسی نعمت پر منحصر ہے جو لوگ اس نعمت سے محروم ہیں وہ دنیا کی خوبصورتیوں دیکھنے سے قاصر ہیں۔بصارت کےبعد بصیرت کی اہمیت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے جس انسان کو اللہ رب العزت نے بصیرت کی نعمت سے نوازا ہوتا ہے وہ اسی عظیم نعمت کے بل بوتے دنیا میں اپنے ہدف خلقت کے پیش نظر کارہائے نمایاں سر انجام دیتا ہے تاریخ میں زندہ رہ جانے والے انسانوں نے اسی بصیرت کوبروئے کار لاتے ہوئے اپنی صلاحتیوں سے فائدہ اٹھایا اور خود کو تاریخ کا ایک زندہ کردار بنا دیا
ممکن ہے ہمیں بہت سارے چلتے پھرتے لوگ زندہ محسوس ہوں لیکن یہ بھی ممکن ہےکہ وہ زندہ نہ ہوں بلکہ اپنے ہدف خلقت سے عاری ہوں اور ان کا شمار مردہ انسانوں میں ہوتا ہو دنیا میں زندہ لوگوں کی تعداد بہت کم ہے دنیا میں ایسے لوگوں کی بہتات ہے جو اپنے ہدف خلقت سے عاری ہیں اور جانوروں کی سی زندگی گزار رہے ہوں یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے پاس زندگی کی ہر سہولت موجود ہو لیکن اس کے باوجود ان لوگوں کا شمار زندہ لوگوں کی فہرست میں نہ ہوتا ہو۔اس کے برعکس ایسے بہت ارے لوگ ہیں جو ظاہرا تو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن اس کےباوجود یہ لوگ زندہ ہیں ان لوگوں کے پاکیزہ افکار آج بھی مردہ لوگوں کو زندہ کرنے کا باعث ہیں ایسے ہی زندہ لوگوں میں سے اکثر نے دنیا میں انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزاری لیکن ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ان کی زندگی ختم نہیں ہوئی بلکہ ان کی با برکت زندگی کی برکات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ان زندہ لوگوں میں سے اکثر کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تا کہ ان کے کردار کو ختم کیا جا سکے لیکن ایسا نہ ہو سکا اچھائی کا گلہ گھوٹنے والی برائی کے محافظ دنیا میں پر آسایش زندگیاں گزرنے کلے با وجود زندہ نہ رہ سکے بلکہ ان کی موت کےساتھ ہی ان کا کردار بھی ختم ہو گیا۔
آج کے موجودہ دور جس کو جدت اور ترقی کا دور کہا جاتا ہے جانوروں کی سی بے مقصد زندگی گزارنے والے لوگ پوری دنیا کو اپنے مردہ پن میں شامل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہےہیں اسی مقصد کے حصول لےکیے فاسد یورپی کلچر کو پھیلایا جا رہاہے آج کل پاکستان کے عوام کی بصیرت اور بصارت متاع انسانی کےلٹیروں کے نشانے پر ہے ایک طرف میڈیا اور انٹر نیٹ نے پاکستانی عوام کی بصارتکا بیڑا غرق کر دیا ہے تو دوسری طرف ہمارے نا اہل حکمران پاکستانی عوام کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو کھلی چھٹی دے کر نت نئے بہانوں کے ذریعے پاکستانی عوام کو بے وقوف سمجھتے ہوئے ان کی بصیرت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔برے اور گمراکن مناظر نے پاکستانی عوام کی بصارت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے برے مناظر دیکھنے کا نتیجہ معصوم کلیوں سے جنسی زیادتی کی صورت میں سامنے آتا ہے خواتین سے زیادتی کے واقعات میں اصل محرکات کی طرف توجہ نہیں دی جاتی اسلیے کہ جب بصارت برے مناظر دیکھ کر متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر بصیرت پر بھی ہوتا ہے بالکل اسی طرح جیسے ہمارے حکمرانوں کی بصیرت جواب دے چکی ہے جو پاکستان اور پاکستان کے عوام کے دشمنوں سےمذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں ان میں سے اکثرکی بصیرت تو اس حد تک متاثر ہو چکی ہے دہشتگردوں کے دفتر کھولنے پر زور دے رہے ہیں۔
اللہ تعالی پاکستانی عوام کی بصارت اور بصیرت کو محفوظ رکھے کہ کھلی آنکھوں اور کھلے دماغ کے ساتھ ہی ترقی کی منازل طے کی جاسکتی ہیں ورنہ جن معاشروں میں مجموعی بصارت اور بصیرت ختم ہو جاتی ہے وہاں مایوسیاں ڈیرے ڈال لیتی ہیں جن کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔