عید قربان اور سزائے موت

Posted on October 19, 2013



از( ایس۔ایچ نعیم )جو قومیں احساس کمتری کا شکار ہوجاتی ہیں کبھی بھی ترقی نہیں کر پاتیں اسی طرح ایسی قومیں جو دوسری اقوام سے مرعوب ہو کر ان اقوام کی اچھی عادات کو نہیں اپناتیں اور اپنی اچھی عادات کو چھوڑ دیتی ہیں۔ تباہ و برباد ہو جاتی ہیں ۔ایسی اقوام یا تو دوسری اقوام کی قصیدہ خوانی کرتی رہتی ہیں یا پھر ان کی ترقی کو دیکھ کر احساس کمتری کے گہرے گرداب میں گرتی چلی جاتی ہیں۔کسی بھی قوم کو ترقی کی شاہرہ پر گامزن کرنے میں اقوام کے رہبروں کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔اگرہم پاکستانی قوم کو دیکھیں تو اس قوم کی ایک شاندارتاریخ ہے اس قوم کی رہمنائی کرنے والے چند بزرگوں نے ایک خواب دیکھا کہ ہم اپنی قوم کو احساس کمتری سے نکالیں گے اس مقصد کے حصول کے لیے یہ لوگ خلوص نیت سے میدان عمل میں کود پڑے۔
اقبال اورقائد اعظم محمد علی جناح جیسےعظیم لیڈر ہندوستان میں مسلمانوں کی بے بسی کو نزدیک سے دیکھتے تھے اسی لیے ان بزرگوں نےدو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا ہندو گائے اور اسی طرح دوسرے جانوروں کا احترام کرتے ہیں اور ان جانوروں کے گلے پر چھری چلانے کو جائز نہیں سمجھتے اس تضاد کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کا علیحدہ وطن کا مطالبہ بالکل جایز اورمنطقی تھا اس مطالبے نے قومی تحریک کا روپ اختیار کر لیا اور بالاخر پاکستان کی صورت میں ایک نیا اسلامی ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔
آج عید کا دوسرا دن ہے وطن عزیز میں مسلمانوں نے بڑی آزادی سے اپنےایک بڑے اسلامی تہوار یعنی عیدقربان پر مختلف جانوروں کی قربانی بارگاہ خدا میں پیش کی آج بھی قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔کیا ہندوستان میں ایسی آزادی کا تصور کیا جا سکتا تھا ہرگز نہیں ہمارے بزرگوں نے تو ہزاروں قربانیاں دے کر ہمیں ایک علیحدہ وطن دے دیا لیکن قائد کی وفات کےبعد پاکستان کو یا تو ڈکٹیروں نے اپنی جاگیر بنائے رکھا یا پھر مفاد پرست سیاسدانوں نے پاکستان کو سونے کی چڑیا سمجھتے ہوئے دونوں ہاتوں سے لوٹا۔
پاکستان کو بے دردی سے لوٹنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہےاب تو لٹیروں نے گینگ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ہماری بدبختی ہے کہ ہمیں مخلص اور حقیقی لیڈر نہیں ملے پاکستان کو لیڈروں کی شکل میں لٹیرے ملے ہیں۔جن میں قائدانہ صلاحتیں ڈھونڈنے سے نہیں ملتیں۔ اگر ایک ڈکٹیر نے ایک ہی کال پر پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھتے ہوئے امریکہ کے پاس گروی رکھ دیا تھا تو ہمارےموجودہ حکمران بھی اس ڈکٹیر سے پیچھے نہیں ہیں موجودہ حکمران بھی مغربی طاقتوں کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ یہ حکمران ایک طرف قرض پرقرض لےکر پاکستانی عوام کا کچومر نکال ر ہے ہیں تو دوسری طرف ہمارے ناہل اور احساس کمتری میں مبتلا حکمران وطن عزیز کی عزت خاک میں ملانے پر تلےہوئے ہیں۔
موجودہ حکمرانوں کےپیشرو حکمرانوں نے احساس کمتری کا مظاہرہ کرتےہوئے پاکستان میں سزائے موت کے احکامات کو روک دیا جس پر موجودہ حکمرانوں نےمخالفت برای مخالفت میں زرداری حکومت کے اس فیصلے پر احتجاج بھی کیا تھا لیکن جب یہی لوگ جو سزاے موت کے احکامات کی معطلی پر احتجاج کر رہے تھے اقتدار میں آئے تو اسی احساس کمتری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سزائے موت کے احکامات کوروک دیا ہے اس فیصلےکی علت یہ بتائی گئی ہے کہ یورپی یونین سے اگر اقتصادی تعلقات قائم رکھنے ہیں تو اسکے لیے سزائے موت کے احکامات کو ختم کرنا پڑے گا ان ناہل حکمرانوں کو کون سمجھائے جو اللہ تعالی کے حکم کو ختم کر کے خیر ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔
کل کو فطرت سے بر سر پیکار یورپ اگر جانوروں کے گلے پر چھری چلانے کو جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر جانوروں کے گلے پر چھری چلانے پر پابندی کا مطالبہ کر دے تو کیا احساس کمتری کا شکار حکمران قربانی کے دن جانوروں کی قربانی پر پابندی عائد کر دیں گے؟ابھی تو یہ سوال بڑا عجیب لگ رہا ہے لیکن غیرت و حمیت کےجذبے سے عاری حکمرانوں سے بعید نہیں کہ وہ اس مطالبے کو بھی تسلیم کر لیں اس لیے کہ جو حکمران اللہ تعالی کے صریح حکم پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتےہیں وہ احساس کمتری میں جانوروں کے گلے پر چھری چلانےپر پابندی بھی لگا سکتے ہیں۔