طالبان کے خلاف کاروائی میں تاخیر کیوں ؟

Posted on October 11, 2013



آج کل پاکستانی سیاسی حلقوں میں طالبان سےمذاکرت کی بحث کو اولویت حاصل ہے۔دانشوراور سیاست دان ٹی وی ٹاک شوز اور اخبارات میں اپنے کالموں میں اسی موضوع پراظہار خیال کر رہے ہیں۔۔طالبان کے حوالے سے حکومت کشمکش کا شکار ہے کوئی بھی مضبوط حکومت اپنے داخلی دشمنوں کو اس طرح کی آزادی نہیں دیتی جس طرح کی آزادی موجدہ پاکستانی حکومت نے طالبان کو دے رکھی ہے۔ اس بات میں کسی طرح کے شک کی گنجائیش نہیں ہےکہ ایک خاص فکر کے حامل لوگوں کوچھوڑ کر جن کو طالبان کا ہمنوا بھی کہا جا سکتاہے پوری پاکستانی قوم طالبان کے خلاف سخت ایکشن کی متمنی ہے۔
وہ دشمن جو ناصرف مسلمانوں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی بے دردی سے قتل کر کے اپنے خود ساختہ اسلام کی خدمت سمجھتا ہے۔۔جاننےوالے جانتےہیں کہ عالمی خونخوار درندے جسے دنیا امریکہ کےنام سے جانتی ہے نے کچھ علمائے سوء اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کچھ لوگوں کی جہالت سے فائدہ اٹھا کر ان کے ہاتھ میں بندوق تھما کر جہاد کا درس دیا۔یہ انوکھا جہاد تھا جو علمائے سوء کے پیروکار ایک غیرمسلم ملک کی سربراہی میں لڑ رہے تھے۔
کہتے ہیں جب کسی درندے کے منہ خون لگ جائے تو پھر وہ ہمیشہ خون کی تلاش میں رہتا ہے امریکہ موجودہ دنیا کا سب سےبڑادرندہ ہے جو بڑی خوبصورتی سے اپنا شکار کرتاہے کسی چالاک لومڑی کی طرح پہلے دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہےاور وقت آنے پراپنا کام نکال کر چلتا بنتا ہے اور دنیا کو ایک جنگل سمجھتے ہوئے اگلے شکار کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔
اس عالمی درندے کی درندگی کا اب تک کئی ایک ممالک نشانہ بن چکے ہیں لیکن کسی کو اس کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں ہوتی جنگل کے قانون کا بھی ایک اصول ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جنگل کے بادشاہ کی ہاں میں ہاں ملانا پڑتی ہے۔اگرکوئی جنگل کے بادشاہ کے اصولوں کو ماننے سے انکارکی جرآت کر بیٹھے تواس کا حقہ پانی بند کر دیا جاتا ہے بہرحال علمائے سوء اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے باہمی تعاون سے وجود میں آنے والے طالبان نے اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کر کے امریکہ اور علمائے سوء کےدل جیت لیے۔یہ لوگ امریکہ اور علمائے سوء کے لیے کسی سونے کی چڑیا سے کم نہیں ہیں۔علمائے سوء کے جہنمی پیٹ طالبان کی تشدد کی کاروائیوں سےبھرتے ہیں۔
جبکہ امریکہ کسی بھی اسلامی ملک کوسبق سکھنے کے لیے طالبان کی درندگی کو ہایی لائیٹ کرکے اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے۔طالبان کا وجود امریکہ اور علمائے سوء کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا ایک جسم کےلیے دل۔اگر طالبان کا وجود نہ ہوتا تو یقینا امریکہ جیسا عالمی درندہ پوری دنیا میں اسلام کی حقیقی روشنی کو پھیلنے سےنہ روک پاتا آج اگر امریکہ کو اسلام کی روشنی کو محدود کرنے میں کسی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے تو اس کی وجہ اس کے چہیتے طالبان ہی ہیں۔کیونکہ طالبان کے خود ساختہ اسلام کو کوئی صاحب عقل انسان قبول نہیں کر سکتا۔جب ضلالت وگمراہی میں ڈوبے لوگوں کو طالبان کے اسلام کے بارے میں بتایا جاتاہے تو وہ ایسے اسلام سے گریزاں ہوتے ہوئے اپنی موجودہ حالت پر باقی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یورپ سمیت پوری دنیا کے غیر مسلم ممالک میں تبلیغ اسلام کافریضہ انجام دینے والے مبلغین کو دعوت اسلام میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کاصرف تصورہی کیا جا سکتا ہے محسوس نہیں کیا جا سکتا اس حوالے سے جاوید چودھری صاحب کی بات بالکل ٹھیک ہے کہ اسلام مظلوم ہے اس پر ترس کھانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔اسلام پر ظلم کرنے میں کسی نے بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی حتی وہ لوگ جو خادم الحرمین ہونے کے دعوے دار ہیں اسلام کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں۔
مصرکے حوالے سےسعودی عرب کا شرمناک کردار اسلام پر ظلم کی ایک ادنی سی مثال ہے۔دوسری طرف امریکہ چالاک لومڑی کی طرح سیکولرازم کو فروغ دینے میں کوشاں ہے وہ ایک طرف اپنے ہی پالےہوئے طالبان کا مکروہ چہرہ دکھا کر اسلام گریزی کی راہ ہموار کرتا ہے تودوسری طرف سیکولر لوگوں کو حقیقی اسلام کےسامنے لا کھڑا کرتا ہے۔لیکن صاحب عقل لوگوں کے بارے میں میرا ہمیشہ یہ نظریہ رہا ہےکہ وہ خود کو سیکولرکہیں یا کچھ بھی وہ بالاخر دیر یا بدیر حقیقی اسلام کی روشنی سے دور نہیں رہ سکتے۔اور فطرت کی آوازپر لبیک کہتے ہوئے طالبان کے بر عکس حقیقی اسلام تک پہنچ جاتےہیں۔
میں کسی خاص طز فکر کی حمایت نہیں کر رہا میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اللہ تعالی کی کائنات کی ہرچیز میں غوروفکر کرنے والا انسان اسلام کی روشنی سے دورنہیں رہ سکتا اسی لیے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تمام انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دی ہے۔پاکستانی کمیونٹی میں کچھ ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جن کا اسلحہ عقل وشعورہے بدبختی سے ان میں سے اکثرلوگوں پر علمائے سوء نے اسلام دشمن اور نجانے کیسے کیسے فتوے داغ رکھے ہیں لیکن ہر صاحب عقل انسان اس بات کو تسلیم کرے گا کہ آج یہ لوگ ہی طالبان کےخلاف نہ صرف کھل کربول رہےہیں بلکہ امریکہ کے ان طفیلیوں کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔جبکہ دوسری طرف علمائے سوء بڑی ڈھٹائی کے ساتھ طالبان کےظالمانہ اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں۔
اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ علمائے سوء کےپروردہ کچھ لوگ دانشوری کا لبادہ اوڑھ کر ہرفورم پر طالبان کو حقیقی اسلام کے نمایندے ثابت کرنے کےلیے ایڑی چوٹی کا زورلگا رہے ہیں۔جس ملک میں علمائے سوء کی اولادیں یورپی ممالک میں اعلی تعلیم حاصل کریں اوران کی صدائے جہاد پر لاکھوں سادہ لوگ جہادکےلیے نکل پڑتے ہوں وہاں پرنام نہاددانشوروں کی دکان جہالت کا چلنا کوئی حیرت کی بات نہیں۔
ایسے ہی کچھ نام نہاد دانشور طالبان کو اسلام کا ہیروثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایسے میں علمائے سوء کی شدید تنقید کا نشانہ بننے والے اسلام دشمنوں کی طالبان کے خلاف آواز سے حقیقی اسلامی اصولوں پر عمل کی خوشبو آتی ہے۔کہ بقول قتیل شفائی دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی۔۔جوظلم توسہتا ہے بغاوت نہیں کرتا۔
آخرمیں پاکستانی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی اس مجبوری کا ذکر کر کے اجازت چاہتاہوں جس کی وجہ سے حکومت اور فوج ان درندوں کے خلاف ایکشن سے گریزاں ہے۔پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اپنے پروردہ طالبان کی درندگی کی آخری حدوں کو جانتی ہے اسی لیے اسٹیبلشمنٹ کی کوشش یہی ہےکہ ان درندوں کو درندگی کی آخری حد تک پہنچنے سے کسی بھی طرح روکے انسان جب درندگی پر اتر آتا ہے تو وہ جانوروں اور درندوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیتاہے۔ پاکستانی عوام نے طالبان کی درندگی کی صرف ایک جھلک دیکھی ہے۔ اللہ تعالی سے دعاہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ طالبان کو درندگی کی آخری حدوں کو چھونے سےروک لے اور اللہ تعالی ان کے دلوں میں انسانیت کےاحترام کا جذبہ بیدارکر دے۔