بجلی چوری

Posted on October 11, 2013



بسم اللہ الرحمن الرحیم

بجلی چوری
از: اظہر زیدی
تعلیمی انحطاط، بے روزگاری، دہشت گردی اور لوڈشیدنگ ایسے قومی مسائل ہیں جن سے ہر پاکستانی دوچار ہے یا ہر وقت اسے اس بات کا دھڑکا لگارہتا ہے کہ یہ مصیبت اب آئی کہ تب آئی۔ لوڈشیڈنگ کے عوامل و اسباب کے بارے میں حال ہی میں ایک ایسی روش اپنائی جارہی ہے جو ماضی میں دہشت گردی کے بارے میں اپنائی جاچکی ہے۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ ماضی میں جب بھی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا تھا تو متعلقہ ادارے میڈیا کے سامنے یہ بیان دیدیا کرتے تھے کہ نامعلوم افراد اس واقعے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ خبر سن کر سبھی لوگ خاموشی اختیار کرلیتے تھے اور متلقہ اداروں کے کندھوں سے بھی بوجھ اترجاتا تھا۔ گویا انہوں نے اصل دہشت گردوں کو سراغ لگاکر قومی خزانے سے ملنے والی ماہانہ تنخواہ حلال کرلی ہے! بجلی کے بارے میں بھی کچھ اسی قسم کا رویہ اختیار کیا جارہا ہے اور بجلی چوری کو لوڈشیڈنگ کی وجہ قرار دیکر تمام مسئلہ حل بلکہ ختم کیا جارہا ہے۔ یہ درست ہے کہ بجلی چوری لوڈشیڈنگ کی ایک بہت بڑی وجہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قومی اداروں کی ذمہ داری ختم ہوگئی ہے! بجلی چوری ایک ایسی جنگ ہے جس میں کئی محاذوں پر جنگ جاری ہے اگر حکومت یہ جنگ جیتنا چاہتی ہے تو اسے تمام محاذوں پر مورچے سنبھالنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم کے دورہ چین کے موقعہ پر چینی ماہرین کے ساتھ بجلی چوری کے بارے میں مشاورت کا سن کر افسوس ہوا کیونکہ اگر کسی گھر کے بچے اپنے ہی گھر میں کسی چیز کو چوری چھپے کھانا یا استعمال کرنا شروع کردیں تو گھر کے بڑے ہمسایوں یا دیگر رشتہ داروں کو نہیں بتاتے ہمارے بچے اس قسم کی حرکت کا ارتکاب کررہے ہیں بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ خود ہی کوئی ایسا طریقہ اختیار کریں جس کے ذریعہ بچوں کو غلط کاموں سے روکا جائے۔
پاکستان میں صنعتی یونٹس سے لیکر گھریلو صارفین تک کے بارے میں بجلی چوری الزام لگایا جاتا ہے۔ عام صارفین کے بارے میں ذرا ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہمارے یہاں اس جرم اور گناہ کا ارتکاب اس قدر وسیع پیمانے پر کیوں ہورہا ہے؟ اس کی ایک سادہ سی وجہ مہنگی بجلی ہے، پاکستان کی ایک بہت بڑی آبادی کی ماہانہ آمدن کسی بھی صورت دس پندرہ ہزار ماہانہ سے زائد نہیں ہے ان لوگوں کو ملنے والی مختصر سے بجلی کا ماہانہ بل جب تین چار ہزار روپے کی صورت میں موصول ہوتا ہے تو باقی صورتحال کا اندازہ آپ خود کرسکتے ہیں۔ عام صارف کو بجلی چوری سے روکنے کے لیے بجلی کی قیمت اتنی کم کی جائے جو عام صارف کی آمدن اورقوت خرید کے مطابق ہو اور بجلی کا بل اداکرنے کے بعد وہ اس سوچ میں نہ پڑے کہ اب باقی مہینہ کیسے گزرے گا! اس کے علاوہ ہمارا میڈیا ماشاء اللہ ایک مضبوط میڈیا شمار ہوتا ہے جو چند گھنٹوںمیں مختلف پروگرامز منعقد کرکے کسی بھی موضوع کے بارے میں قومی شعور بیدار کرسکتا ہے لہذا میڈیا کے ذریعہ باقاعدگی سے ایسے پروگرام نشر کیے جائیں جن میں مذہبی ،تہذیبی اور قانونی لحاظ بجلی چوری کے مضرات سے آگاہ کیا جائے۔
ہمارے ملک کا ایک المیہ یہ ہے کہ یہاں جب بھی کوئی مسئلہ یا بحران جنم لیتا ہے تو بعض لوگوں کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ مسئلہ کو گنگا بنالیا جائے اور پھر بہتی گنگامیں ہاتھ کے ساتھ ساتھ پورا جسم بلکہ خاندان دھویا جائے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گذشتہ پانچ سال کےدوران آٹھ سو ارب روپے سے زیادہ کی بجلی چوری ہوئی ہے اور بجلی چوری کی وجہ سے ملکی معیشت کو ہونے والا نقصان اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ متعلقہ ادارے اگر اسی تلخ حقیقت کی روشنی میں ڈوبنے والا پیسہ عوام کو دینے کا فیصلہ کرکے سستی بجلی فراہمی کا منصوبہ بنائیں تو کافی بہتری آسکتی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ سستی بجلی کہیں گنگا نہ بن جائے!