امریکی دہشت گردی

Posted on October 11, 2013



طاقت کا نشہ بھی عجیب نشہ ہے اس نشے میں اپنی ہی بات ٹھیک اور درست لگتی ہے صاحب بہادر امریکہ کو ہی لےلیں جسے دنیا بھر کےانسانوں سے ماں سے بھی بڑھ کر محبت ہےاسی لیےجب بھی اسے اپنےخاص ذرایع سےپتہ چلتا ہے کہ کوئی ملک انسانوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنےجا رہاہے تووہ فوری طور پرانسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ملک کےخلاف کاروائی کرنے کا اعلان کر دیتا ہے۔اب دنیا بھر کے لوگ چیختے چلاتےرہیں کہ صاحب بہادر ایسا نہیں ہے آپ کےعلاوہ کیمیائ ہتھیاروں کےاستعمال کی ہمت کوئی ملک نہیں کر سکتا تو صاحب بہادر یہی کہتا نظرآتا ہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں وہی ٹھیک ہے۔اب بےچارے دنیا کےباسی وہ لوگ کیاکریں جن کو قدرت نے عقل جیسی نعمت سےنواز رکھا ہے ہوسکتا ہے وہ صاحب بہادر کے خلاف نہ بولیں لیکن سوچتے ضرور ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں امریکہ ہی وہ ملک ہے جس نے بے سہارا لوگوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کئے۔
یہی سوچ آگے چل کر تاریخ کا روپ دھارتی ہے۔البتہ سوچنے والے اور غوروفکر کرنے والے لوگوں کےبرعکس جاہل اور عقل کو استعمال نہ کرنےوالے لوگوں کی تعداد بھی اس دنیا میں کم نہیں ہے۔صاحب بہادر امریکہ کےدست و بازو یہی لوگ ہیں جن کےلیے صاحب بہادر نے دولت اور اسلحہ کے ڈپو کھولےہوئے ہیں۔اور عقل وبصیرت سےعاری یہ لوگ ہاتھ میں اسلحہ تھام کر نعوذ باللہ خود کو زندگی اور موت کامالک سمجھتےہیں اور ہر مذہب و ملت کے لوگوں کو قتل کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔عقل وشعور سے عاری یہ لوگ امریکہ کے لشکرکی حیثیت رکھتے ہیں مصر میں ایک ایسےہی عقل وشعور سے عاری اور طاقت کے نشےمیں چور جنرل کو صاحب بہادر نے مصرمیں جمہوری حکومت کی بساط لپیٹنے کا فرض سونپا تو اس احمق انسان نے اپنی ہی قوم پر دھاوا بول دیا اور ایک جمہوری حکومت کا خاتمہ کردیا ۔
اس مقصدکےحصول کے لیے اس ڈکٹیٹر نے ہزاروں لوگوں پرٹینک چڑھادئے جسکےنتیجے میں ہزاروں مسلمان شہید ہو گئے۔ اسی طرح صاحب بہادر کو شام میں بھی ایک ایسا ہراول دستہ مل گیا جو جہاد کےلیے بے تاب تھا عقل و شعورسے عاری ان لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف ہی جہادشروع کرد دیا حتی صاحب بہادر کی طرف سے ملنے والے کیمیائی ہتھیاروں کو بھی شامی عوام پر استعمال کیا اور اس پر صاحب بہادر کی مامتا جاگی اور شام پر حملہ کاراگ الاپنا شروع کر دیا ابھی تک شام پر جنگ کے بادل منڈلا رہےہیں امریکہ کا دعوی ہےکہ شام نےخطرناک کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے شامی عوام کو نشانہ بنایا اس لیےاس کو سبق ملنا چاہیے۔لیکن عقل و بصیرت سے مسلح لوگ اپنے قلم کےزور سے امریکہ پر بمباری میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے امریکہ کو شام پر حملے کی ہمت نہیں ہو رہی لیکن طاقت کا نشہ صاحب بہادر کو شام پر حملہ کے لیے آمادہ کر سکتا ہے۔
امریکہ کے لشکر کا حصہ عقل وشعور سے عاری جن لوگوں کا ذکر ہواان لوگوں کو کیا کہا جائے؟غدار،وطن فروش،اسلام دشمن،انسان دشمن یا ۔۔۔؟یہ الفاظ بہت چھوٹے ہیں انسان نما ان دروندوں کو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔آگے
بڑھتے ہیں عراق میں بھی صاحب بہادرکا ایک ایساچہیتا تھا جس کی وفاداری پر صاحب بہادر کو بڑا ناز تھا اس ڈکٹیڑ اور ظالم انسان جس کو دنیاصدام کےنام سے جانتی ہے نےامریکہ کی شہہ پر اپنے ہمسایہ ملک ایران پر کیمیائی ہتھیار برسائے۔اور پھر جب صاحب بہادر کے لشکر کا یہ فوجی ناکارہ ہوگیا تو امریکہ نےانسانیت کے وسیع تر مفاد میں عراق پر حملہ کر دیا کیونکہ امریکہ کی دانست میں صدام کے پاس خطرناک جوہری ہتھیار تھے جس پر ایکشن ضروری تھا اس لیے امریکہ نے صدام کے خلاف کاروائی کرکے انسانیت دوستی کاثبوت دیا۔
دنیا بھرکےعقل و شعور کےاسلحہ سےلیس لوگوں کو صاحب بہادر کی ویتنام میں بھی انسانیت دوستی یا دہے جہاں امریکہ لشکر نے ۱۹۶۱ء سے لےکر ۱۹۷۱ تک دس سالوں میں ۷۵ ملین لیٹر کیمیائی مواد استعمال کیا جس کے نتیجےمیں لا تعدا لوگ لقمہ اجل نبے اور اس موادکا اتنا اثرہوا کہ ایک عرصے تک پیدا ہونے والے بچے یا اپاہج تھے یا پھر خطرناک بیماری میں مبتلا تھے۔
دنیا بھر کےاخبارات اس بات کےگواہ ہیں کہ افغانستان میں بھی صاحب بہادر نےکیمیائی ہتھیار استعمال کئے۔اسی طرح انسانیت کے اس ہمدرد نے ایسےایسے خطرناک کیمیکل ہتھیار استعمال کئے کہ جن کی مثال نہیں ملتی۔انسانیت کےاس ہمدرد نےعراقی شہر فلوجہ میں بھی انسانی ہمدردیکا ثبوت دیااور نہتےلوگوں پر خطرناک کیمیائی ہتھیار استعمال کئے جن کا اثر ابھی تک باقی ہیں اور اس علاقے پر خطرناک بیماریوں کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
صاحب بہادر امریکہ کی کیسی الٹی منطق ہےکہ اب تک اس کےعلاوہ کسی بھی ملک نے کیمائی ہتھیاراستعمال نہیں کئے لیکن یہ ظالم انسانی ہمدردی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے کسی نہ کسی غریب ملک پر چڑھ دوڑنے کے لیے تیار رہتا ہے۔آج کل شام اس ظالم کے عتاب کا شکار ہے۔امریکہ بہادر کے مظالم پوری دنیا پر روز روشن کی طرح عیاں ہیں جن کو جتنا بھی چھپا لیا جائے نہیں چھپ سکیں گے تاریخ امریکہ کے ایک ایک ظالم کو اپنے سینے میں محفوظ کررہی ہے۔سوال یہ ہے کہ امریکہ بہادر کے لشکرمیں شامل ہونے والے لوگ یا کچھ مسلمان ممالک کو تاریخ کس نام سے یادکرے گی؟
اس کا فیصلہ بھی تاریخ ہی کرےگی۔