جیو نیٹ ورک کی بساط لپیٹنے والے چھ سنگین جرائم

Posted on October 10, 2013



جیو نیٹ ورک کی بساط لپیٹنے والے چھ سنگین جرائم

• حال ہی میں ایمیٹی انٹرنیشنل کی جانب سے چیئرمین پیمرا کے نام ایک شکایتی درخواست جاری کی گئی ہے جس میں پیمرا آرڈیننس اور دیگر قوانین کی خلاف ورزی کرتے جیو کے چھ سنگین جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس درخواست کے تحت جیو نیٹ ورک کا لائسنس ضبط/ منسوخ بھی کیا جاسکتا ہے۔

• وہ چھ سنگین جرائم یہ ہیں:
o چینل کے لیے غیرملکی فنڈز کا حصول
o اجمل قصاب کے قصے میں غلط بیانی
o ذرا سوچیے کیس
o 400 فیصد سے زائد غیرملکی پروگرام نشر کرنا
o ٹیکس کی چوری اور عدم ادائیگی
o امان رمضان کے نام پر مذہب کی توہین

ان دنوں جیو نیٹ ورک کا ہر قدم الٹا پڑتا محسوس ہورہا ہے، کیا عجب ہے کہ اپنے ہی کرتوتوں کے بچھائے ہوئے جال میں الجھ کر اس کا تاریک اور مکروہ چہرہ مزید واضح ہوتا جارہا ہے۔ یہ بات تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جیو کی ٹاپ مینجمنٹ مسائل کے بھنور میں ہچکولے کھاتی جیو نیٹ ورک کی کشتی کو مسلسل خیرباد کہہ رہی ہے، متعلقہ نیٹ ورک ابھی اسی صدمے پر سینہ پیٹ رہا تھا کہ اسی دوران ایمیٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) میں اس کے خلاف ایک باضابطہ شکایتی درخواست بھی دائر کردی گئی ہے۔ اس درخواست میں ایسے چھ سنگین جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے جو جیو کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:

1۔ چینل کے لیے غیرملکی فنڈز کا حصول، جیو کے کرتا دھرتا یہ کام ایئرٹائم اور ادارتی بورڈ کو فروخت کرکے انجام دیتے ہیں

2۔ اجمل قصاب کا قصہ، جس میں جھوٹ اور غلط بیانی کا تڑکا لگا کر دو ایٹمی طاقتوں کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا

3۔ ذرا سوچیے جیسے پروگرام کے نام پر قیامِ پاکستان کے اساسی نظریے کے ساتھ مسلسل کھلواڑ کرتے رہے
4۔ پیمرا قوانین کی قائم کردہ حد سے متجاوز 400 فیصد سے زائد غیرملکی مواد اور پروگرام نشر کرنا

5۔ ٹیکس کی چوری اور عدم ادائیگی/ مالی ساکھ کو چھپا کر پیش کرنا

6۔ امان رمضان ٹرانسمیشن، ایک بدنامِ زمانہ پروگرام جس نے مذہب و ملت کی دھجیاں اڑا دیں۔ یہ پروگرام پاکستان کی تہذیبی اقدار اور ساری دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کو داغدار کرنے کی انتہائی بھونڈی کوشش تھی۔

یہ شکایتی درخواست ایک این جی او، ایمیٹی انٹرنیشنل کی جانب سے دائر کی گئی ہےجس میں انہوں نے جیو نیٹ ورک پر نشر کیے جانے والے پروگراموں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس درخواست میں جیو نیٹ ورک کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے کہ اس نے پاکستان اور یہاں بسنے والے لوگوں کی عزتِ نفس، سالمیت، خودمختاری اور مذہبی و سماجی روایات کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے اور ساتھ ہی ساتھ پیمرا کے آرڈیننس و اصول و ضوابط اور پاکستان کے دیگر قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا بھی مرتکب ہوا ہے
۔
اس درخواست کے توسط سے ایمیٹی انٹرنیشنل نے پیمرا سے درخواست کی ہے کہ :

• تمام معاملات کی مکمل تحقیقات عمل میں لائی جائیں اور مدعی اور مدعا الیہ یعنی متعلقہ چینل کے نمائندوں کو یہ درخواست موصول ہونے کے 7 روز کے اندر اندر ذاتی طور پر طلب کیا جائے۔
• تفتیشی معاملات کے حتمی فیصلے تک جیو نیٹ ورک کے تحت چلنے والے ان خلاف ورزیوں کے مرتکب چینلز کے لائسنس فوری طور پر ضبط/ منسوخ کیے جائیں۔

ان دعوؤں پر کسی تفتیش کے آغاز سے قبل فی الحال یہ درخواست باضابطہ طور پر پیمرا اور دیگر عدالتی و قانونی اتھارٹیز کے زیرِ غور ہے۔ اب تک کی صورتحال سے یوں دکھائی دے رہا ہے کہ جیو نیٹ ورک کو کانٹوں کی وہ فصل ضرور کاٹنا ہوگی جو اس نے بو رکھی ہے تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے ‘‘بااثر’’ رابطوں کے ذریعے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائے۔ میڈیا کے تجزیہ کاروں اور قانونی شخصیات کے بقول اگر جیو پر لگائے گئے الزامات عدالت میں ثابت ہوجاتے ہیں تو پھر جیو نیٹ ورک کو اپنی زندگی کے دن گن لینے چاہئیں۔