کراچی آپریشن اور کیڑے مار دوائی

Posted on October 8, 2013



کراچی میں آپریشن شروع ہوئے ایک ماہ ہونے کو آراہا ہے۔ لیکن حالات میں بہتری نظر نہیں آرہی۔ بے گناہ لوگ روزانہ اب بہی قتل ہو رہے ہیں۔ حالانکہ بڑی تعداد میں دہشتگرد پکڑے جارہے ہیں اور اُن سے بھاری اَسلحہ بھی مِل رہا ہے لیکن اِس سب کے باوجود ٹارگٹ کِلنگ اور بھتہ خوری جاری ہے۔ یہ دہشتگرد آخر اِتنے بےخوف کیوں ہیں، اِنھیں کِسی کا بھی ڈر خوف کیوں نہیں ہے۔ ہمارے وزیرِاعلی’ سندھ صاحب کہتے ہیں کہ کراچی کے حالات میں بہتری آئی ہے،اُن کی نظرمیں 3،4 لوگوں کا قتل حالات میں بہتری ہے۔ وہ ذرا اُن لوگوں سے ملیں تو اُنہیں انہیں احساس ہو اس ایک فرد کے قتل سے اس کا پورا خاندان کِس تکلیف سے گزرتا ہے۔
مجھے اِس آپریشن سے پتہ نہیں کیوں کیڑے مار دوائی یاد آجاتی ہے، اِسپرے جو ہے وہ مجھے ہماری رینجرز اور پولیس لگتی ہے اور کیڑے مجھے دہشتگرد لگتے ہیں۔ عام طور پر جب گھروں میں کیڑے عمومًا وہ لال بیگ ہوتے ہیں جب وہ گھر میں بہت ذیادہ ہوجاتے ہیں اور ہر جگہ پھیل جاتے ہیں اور پریشانی ہونے لگتی ہیں اُن سے تب گھر کی خواتین کیڑے مار دوائی اوراسپرے وغیرہ کا اِستعمال کرتی ہیں۔جِس سے کچھ تو مر جاتے ہیں اور کچھ اِدھر اُدھرہوجاتے ہیں۔جس سے وہ سمجھتی ہیں کہ سب مر گئے لیکن وہ پھر آجاتے ہیں اِس کے لئے ضروری ہے کہ 1،2 نظر آتے ہی اُن کے خلاف کاروائی کریں۔ بلکل ایسی طرح یہ آپریشن یے اگر پہلے ہی ان کےخلاف کاروائی کرلی جاتی تو آج آپریشن کی نوبت نہ آتی۔ ان دہشتگردوں کو اِتنا پھلنے پھولنے ہی نہ دِیا جاتا تو آج اِتنے بےگناہ لوگ مارے نہ جاتے، ان کی جڑیں اتنی مضبوط نہ ہوتیں اور نہ اِتنی پھیلتں۔ جِس طرح خواتین کونے کونے میں دوائی مار کر کیڑے بھگاتی ہیں۔ اسی طرح ہماری پولیس اور رینجرز ہے جو چھاپے پہ چھاپے مار کے دہشتگردوں کو پکر رہی ہے اور اسلحہ بھی جن سے وہ کاروائیاں کرتے تھے۔ کراچی پولیس چیف کہتے ہیں کہ کراچی میں دہشتگردی 32 سال سے ہورہی ہے، ختم ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ تو میرا سوال اتنا سا ہے کہ 32 سالوں میں اس کو ختم کرنے کی اور اس کی روک تھام کے لئے کوئی موثؑر اقدامات کیوں نہیں کیے گئے اِس کواتنا پھیلنے کیوں دیا گیا،آخر اِس کی جڑیں کیوں اِتنی مضبوط ہونے دی گئ۔ اِس کے پیچھے چاہے اندرونی ہاتھ ہو یا بیرونی اس تک پہنچنا چاہیےتھا اور اُنہیں سب کے سامنے بےنقاب کرناچاہیے۔ لیکن ہمارے سیکیورٹی ادارے آخر اتنے بےبس کیوں ہوجاتے ہیں ان کے سامنے، انہیں چاہیے کہ وہ ان کے خلاف سخت اقدامات کریں۔ اگر پولیس مجرموں کو پکڑنا شروع کردے اور انکے خالاف سخت کاروائی کرے تو اتنی دہشتگردی پروان چڑھے ہی نہ،یہ دہشتگرد اِس قدر بے خوف ہوتے ہیں کہ انہیں پکڑے جانے کا کوئی ڈر نہیں ہوتا نہ جانے کس کی شھہ پہ وہ اتنی بڑی کاروائیاں کر جاتے ہیں۔ ہم اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کی مشکالات کا سامنا ہے، لیکن جب تک ہم اندرونی طور پر مضبوط نہ ہونگیں تب تک ہم بیرونی مشکلات کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔۔۔
لیکن اب بھی ایک امید کی کرن باقی ہے کہ اگر ہمارے سیکیورٹی ادارے صیحیح طرح اور ذمہ دارانہ طریقے سے اپنے فرائض انجام دیں تو اس شہر میں ضرور امن قائم ہوجائے گا اور لوگ جو ایک ڈر اور خوف میں زندگی گزار رہے ہیں وہ لوگ پھر امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں گیں۔ALLAH ہمارے ملک کو اپنی امان میں رکھے۔۔۔ آمین