عمران خان اور مذاکرات

Posted on September 26, 2013



عمران خان اور مذاکرات

عمران خان اور مذاکرات

انور لودھی

مشکل حالات میں ثابت قدمی اور جرات ہی کسی لیڈر کا اصل امتحان۔ ہیجانی کیفیت میں فیصلے لیڈر نہیں، کمزور اعصاب کے لوگ کرتے ہیں۔ کوہاٹی چرچ سانحہ کے ہنگام عمران کا مذاکرات پر اصرار اس کی سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔

کوئی شک نہیں کہ چرچ پر حملہ سفاکیت کی انتہا تھی۔ نہتے عبادت گزاروں کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے انسانیت کو شرمسار کیا۔ مگراس گھناؤنے واقعے پر میڈیا کا کرداران سفاک قاتلوں سے بھی ذیادہ شرمناک ٹہرا۔ جزباتیت کا ایسا سیلاب کہ خدا کی پناہ! ریٹنگ کی ایسی جنگ کہ نہ اخلاقیات کا کوئی لحاظ، نہ ملکی مفاد کی کوئی پرواہ۔ جس نے جو چاہا دکھایا، جو منہ میں آیا کہا۔ ہر کسی نے اپنی بساط کے مطابق اس واقعہ کو کیش کیا۔ “ایزی لوڈ” فیم جماعت نے پوائینٹ سکورنگ کی۔ لوگوں کو توڑ پھوڑ پر اکسایا- نہ موقع دیکھا نہ نہ معاملے کی نزاکت جانچی۔ صحافیوں کا روپ دھارے امریکی اور انڈین ایجنٹوں نے بھی اپنا رنگ دکھایا۔ کہا کہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، طالبان کے خلاف آپریشن کیا جائے۔ سٹٰیٹ ڈپارٹمنٹ کی چہیتی “چڑیا والی سرکار” اپنے “بچے جمورے” کے ساتھ عمران خان پر چڑھ دوڑی اور عمران کی باتوں کو “فضول” تک کہ دیا۔ حجاب میں ملبوس، “حاجن بی بی” نے بھی پی ٹی آئی کو طالبان کا دوست ثابت کیا۔ ذمین وآسمان کے قلابے ملائے۔ نہ سوچا، نہ سمجھنے کا تردد کیا، کہ طالبان سے مذاکرات کی بات کوئی دوستی نہیں بلکہ امن کا ایک راستہ ہے۔عینک والی “بُڑھیا” نے بھی اپنے آقاؤں کی خوشی کے لئے اپریشن کی بڑھ چڑھ کر”وکالت” کی۔ ایک “میر” صاحب نے بھی “سکرپٹ” سے ہٹ کر بات کرنا گوارا نہ کیا۔

سیاسی لیڈر بھی اس واقعے پرعوامی جذبات کے آگے نہ ٹہر سکے۔ اے پی سی علامئے پردستخطوں کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ لیڈر اپنا موقف بدل گئے نواز شریف بولے کہ ان حالات میں مذاکرات نھیں ہو سکتے۔ پیپلز پارٹی نے بھی پلٹا کھایا اور کہا کہ آپریشن پر بھی غور کیا جائے۔ الطاف حسین بھی کاروائی کے لئے بیتاب نظر آئے۔ لیکن آفریں ہے عمران خان پر جو اپنے موقف پر ڈٹ گئے اور کہا کہ اپنے ووٹروں سے دغا نہیں کریں گے۔ اور جو کچھ اے پی سی میں کہا اس پر قائم رہے۔ معروضی حالات میں عمران خان کا موقف سو فیصد درست ہے اور وقت کی ضرورت بھی ۔غیر جانبداری سے تجزیہ کیا جائے تو مذاکرات بغاوتوں اور شورشوں سے نمٹنے کا ایک موثر ذریعہ ہیں۔ آپریشن بغاوتوں سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی کا ایک جُز ہے، کُل ہرگز نہیں۔آپریشن کسی علاقے پر قبضہ تو دلوا سکتا ہے لیکن امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ آپ باغیوں کو ختم تو کر سکتے ہیں، لیکن ان کا نظریہ نہیں۔جتنے طالبان مارے جاتے ہیں اس سے ذیادہ پیدا ہو جاتے ہیں۔ طالبان گوریلا کاروائیاں کرتے ہیں۔ماوزے تنگ نے کہاتھا کہ گوریلے لوگوں میں ایسے رہتے ہیں جیسےمچھلی پانی میں۔ یعنی لوگوں کی سپورٹ کے بغیر نہ وہ چھپ سکتے ہیں اور نہ ہی حملوں کے لیے جگہ بنا سکتے ہیں۔ کوئی احمقوں کی جنت میں رہے تو اور بات ورنہ یہ بات تو یقینی ہے کہ پشتون علاقوں اور جنوبی پنجاب میں طالبان کے نظریات کی حمائت موجود ہے۔ اسی لئے تو ان کو افرادی قوت بھی میسر ہے اور مالی وسائل بھی۔مذاکرات اگر 50 فیصد بھی کامیاب رہے تو فائدہ کئی گناہ۔ اول تو مذاکرات سے تھوڑے بہت فوائد دے کر کئی گروپ اپنے حامی بنائے جا سکتے ہیں۔جو فوج کو باغیوں کے بارے میں اہم معلومات دے سکتے ہیں۔دوسرا ، مذاکرات کا ڈول ڈال کرمقامی آبادی، جو کہ اکژ غیر جانبدار ہوتی ہے، میں امن کے خواہش مندوں کی حمائت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔تیسرا ،باغیوں میں موجود امن کے حامیوں اور مخالفیں کے درمیان پھوٹ بھی فائدہ دے سکتی ہے۔ چھوتھا فائدہ یہ کہ کچھ گروپوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھی کھڑا کیا جا سکتا ہے۔جیسے امریکیوں نے عراق میں سنی مسئلک سے تعلق رکھنے والے قبائل کو القائدہ کے خلاف کھڑا کر کے ذبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ اسی طرح فوج نے الجیریا میں کچھ اسلامی شدت پسندوں کو عام معافی دے کر اپنے ساتھ ملا لیا اور شدت پسندوں کو ذبردست دھچکا پہنچایا۔ بالفرض طالبان سے مذاکرات اگر ناکام ہو بھی گئے مگر کچھ گروپ حکومتی چھتری تلے آگئے تو ان سے حاصل شدہ انٹیلی جینس کو بعدازاں ایک بھرپور آپریشن کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے. مذاکرات میں جتنی دیر ہو گی معاملات اتنے ہی قابو سے باہر ہوں گے۔ پہلے ایک نیک محمد تھا اب 40 گروپ ہیں۔ پاکستان کے دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ اس جنگ میں الجھا رہے تاکہ یہ اندرونی طور پر کمزور ہو اور اقتصادی طور پر تباہ بھی۔کیا پاکستان لمبے عرصے کے لیے اس صورتحال کا متحمل ہو سکتا ہے؟ بالکل بھی نہیں. سرمایہ کھبی وہاں نہیں ٹھہرتا جہاں امن وامان کی صورت حال خراب ہو.اگر اقتصادیات خراب رہی تو نتیجہ معلوم. معاشرے میں مزید انتشار اور فوج جدید ہتیاروں اور وسائل سے محروم. نہ اندرونی سیاسی استحکام، نہ سرحدوں کا دفاع ممکن. فوج اور طالبان کی مذاکرات کے لئے آمادگی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں فریق تھک چکے ہیں اور مکمل کامیابی کا یقین بھی نہیں. سری لنکا میں تامل باغیوں نے مکمل شکست سے قبل مذاکرات اور سیزفائر کی پیشکش کی لیکن فوج نہ مانی. ظاہر ہے کہ فوج کو کامیابی کا یقین تھا. یاد رہے کہ طالبان کا موازنہ تامل باغیوں سے نہیں کیا جاسکتا. وہ نسلی بنیادوں پر چلنے والی علیحدگی کی تحریک تھی، یہ اپنے مطلب کی شریعت اوراسلامی نظام کے نفاذ کی تحریک. مذاکرات میں بڑے کٹھن مرحلے بھی آئیں گے. اسی دوران دونوں فریقین اپنے طور پر کاروائیاں بھی کر سکتے ہیں اور بیرونی طاقتیں بھی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں.

ڈیوڈ گیلولا سے لے کر رابرٹ تھامسن تک محقق اس بات پر متفق ہیں کہ Counterinsurgency یعنی بغاوتوں کے توڑ کے لئے ملٹری آپریشن کافی نہیں ہے۔ سیاسی ، سماجی اور معاشی پہلو ؤں پر توجہ دیئے بغیر کامیابی صرف ایک سراب ہے۔ اگر کسی کو مذاکرات پر اب بھی تحفظات ہیں تو بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے ڈینئیل بیمن کی 2009 میں چھپنے والی رپورٹ ملاحظہ کر لے۔جسکے بقول مذاکرات کے فوائد اس کے نقصانات سے کہیں ذیادہ ہیں۔رہی بات کرائے کے ٹٹو صحافیوں اور بیرونی طاقتوں کے زیر اثر سیاسی لیڈروں کی، وہ تو ذاتی مفاد کے لیے کچھ بھی کہ سکتے ہیں اور کچھ بھی کرسکتے ہیں.

میں نے اس معاملے پر جتنی تحقیق بھی کی، مجھے عمران خان کے دھشت گردی پر خیالات بڑے باوزن اور پاکستان کے مخصوص حالات میں حقیقت سے ھم آہنگ محسوس ہوئے۔ اچھا لیڈر ہجوم کے پیچھے نہیں چلتا بلکہ ہجوم کو اپنے نظریے پر قائل کرتا ہے۔ چرچ پر حملے کے بعد عمران خان نے ثابت کیا ہے کہ وہ پریشر لے سکتا ہے اور مشکل حالات میں صحیح فیصلے پر قائم رہ سکتا ہے۔
ویلڈن عمران خان!
Facebook.com/AnwarLodhi……..or… … Twitter.com/AnwarLodhi
This piece is written exclusively for Zemtv.com