میرا بچپن اتنا اذیت ناک کیوں

Posted on September 18, 2013



پانچ سالہ معصوم بچی کے ساتھ درندگی کے واقعہ سے جہاں ہر آنکھ اشکبار ہے وہیں اس واقعہ نے ہمارے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ کیا ایسا معاشرہ جو حیوانیت کی اس انتہا تک کو چھو سکتا ہے وہ انسانی معاشرہ کہلانے کا مستحق ہے؟۔گڑیا سے کھیلنے والی گڑیا کو کس جرم کی سزا ملی۔ آج ہم سے متاثرہ بچی سوال پوچھ رہی ہے کہ بچپن کے دن تو بڑے سہانے ہوتے ہیں۔ پھر میرا بچپن اتنا اذیت ناک کیوں۔؟ میرا مجرم کون ہے کیا یہ سارا معاشرہ۔ جہاں ایسے درندے چھپے بیٹھے ہیں۔ جہاں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔ ہم تو زمانہ جاہلیت کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ اس متاثرہ بچی کا جرم کیا ہے کہ اس نے ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی۔ جہاں سب سو رہے ہیں۔ دلخراش واقعات کے مطابق مغلپورہ کے علاقہ غوثیہ کالونی سکھ نہر کے رہائشی،واپڈا ہاوس کے ڈرائیور کی پانچ سالہ بیٹی 12ستمبرجمعرات کی شام ساڑھے 5 بجے اپنے 3 سالہ کزن کے ساتھ گھر کے باہر کھیل رہی تھی کہ دونوں لاپتہ ہوگئے۔ ورثاء انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے۔ مگر دونوں کا کچھ پتا نہ چلا۔انہوں نے تھانہ مغلپورہ میں اطلاع دی مگر پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا اور ورثاء کو ٹرخا کر بھیج دیا۔ بعد ازں کمسن بچی تشویشناک حالت میں گنگا رام ہسپتال کے باہر سے ملی جبکہ بچہ سروسز ہسپتال کی پارکنگ سے مل گیا۔ کمسن بچی کو سفاک درندے کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور جب گنگارام ہسپتال کا سکیورٹی گارڈ اسے اٹھا کر ہسپتال لایا تو اس کی حالت انتہائی خراب تھی۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد پیڈیاٹرک سرجری کیلئے متاثرہ بچی کو سروسز ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ جہاں معصوم بچی کے دو آپریشن کر کے اسے بچا لیا گیا۔بعدازں معاملہ میڈیا پر آنے پر پولیس نے بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا۔ زیادتی کا شکار ہونے والی 5سالہ بچی کے والد4بیٹیوں اور 6بیٹوں، 10 بچوں کے باپ اور چچا اور بچے کے باپ رکشہ ڈرائیورنے بتایاکہ ہم نے مسجد میں بچوں کی گمشدگی کا اعلان کرایا تو ایک شخص نے ہمیں بتایا کہ وہ ابھی سروسز ہسپتال سے آ رہا ہے۔ وہاں اس نے تین سالہ بچہ ملنے کا اعلان سنا تھا جس پر ہم سروسز ہسپتال آئے تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جہاں سے ہم نے متاثرہ بچی کے کزن بچے کو لیا مگر ہمیں بچی کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ بعد ازاں ایک ہمسائے نے بتایا کہ ٹی وی چینل پر 5سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی خبر چل رہی ہے جس پر ہم ہسپتال گئے تو وہ بچی ہماری تھی۔ یہ دیکھتے ہی ہمارے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔بیٹی کیساتھ زیادتی اور اس کی تشویشناک حالت دیکھ کر اس کی ماں کی حالت بھی غیر ہو گئی اور وہ صدمے سے بیہوش ہو گئی۔ ماں کے ہوش میں آنے کے بعد اسے گھر پہنچا دیا گیا۔ اہلخانہ کے مطابق اسکی ماں کو گھر کے قریب کلینک سے طبی امداد بھی دی گئی۔اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ظالم درندے نے ہماری بچی کی زندگی برباد کر دی۔ اسے کبھی معاف نہیں کریں گے۔ مجرموں کو چوک میں لٹکایا جائے۔ ہم نے اللہ کو جان دینی ہے۔ ہم کسی پر الزام نہیں لگا سکتے۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ ظالم شخص کون تھا۔ ہمیں انصاف دلایا جائے اور پولیس اس درندے کا سراغ لگا کر اسے سخت سے سخت سزا دے۔ متاثرہ بچی کی بڑی بہن نے کہا ہے کہ اب ہمیں انسانیت کے نام سے ڈر لگتا ہے۔ درندوں کو ہمارے سامنے لا کر مارا جائے۔ ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور نشان عبرت بنا دیا جائے۔ اس سانحے کے بعد میری والدہ شوگر کی مریض ہیں ان کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ ان کا بہت برا حال ہے۔ بچی کی بہن نے بتایا کہ ہم اپنے بچوں کو تو گھر سے باہر جانے نہیں دے رہے۔خود بچے اتنے خوفزدہ ہیں کہ وہ باہر جانے سے ڈر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کورٹ کچہری کے چکر نہیں لگاسکتے۔ ہمیں ایک دو دن میں انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے بعد ہمارا چین و سکون تباہ ہو گیا۔ زیادتی کا نشانہ بننے والی 5 سالہ بچی کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کے جسم پر بھی زخم کے نشان تھے۔ اسے اندرونی زخم بھی تھے اور اس کی ایک آنت بھی متاثر ہوئی۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بچی کا ابھی ایک اور آپریشن ہو گا۔ بچی کا پہلا آپریشن نہایت پیچیدہ اور 3 گھنٹے تک جاری رہا۔کامیاب آپریشن کے بعد بچی کو طبی امداد دی جا رہی ہے‘ دوسرے آپریشن کے بعد حالت سنبھلنے پر بچی کو نفسیاتی ماہرین کو بھی دکھایا جائے گا جو اس کی سائیکوتھراپی کریں گے۔ ہسپتال میں بچی کو جب ہوش آتا تو وہ خوف کا شکار ہوجاتی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھاکہ بچی کی حالت خطرے سے تو باہر ہے تاہم ایسی اچھی بھی نہیں کہ وہ جلد ایک نارمل زندگی گزار سکے گی۔ بچی نفسیاتی طور پر بہت متاثر ہے۔افسوسناک بات یہ یھی کہ بچی کا چچا پریشانی کے عالم میں اے بی پازیٹو خون تلاش کرتا رہا۔ بچی کے چچا نے بتایا کہ ہسپتال والوں نے صبح ہمیں اے بی پازیٹو خون لانے کا کہا جو ہمیں بلڈ بنک سے مل گیا مگر وہ خون نہ لگا۔ جس پر ہم نے وہ خون بلڈ بنک کو واپس کر دیا مگر اب رات کو ہمیں دوبارہ پرچی تھما دی گئی ہے کہ خون کا بندوبست کرو۔ میں بلڈ بنک گیا مگر انہوں نے اب کہا کہ ہمارے پاس یہ خون موجود نہیں، تم اس خون کا خود بندوبست کرو۔ میں اپنے رشتے داروں و دوستوں کو فون کر رہا ہوں کہ جس کا اے بی پازیٹو خون ہے وہ ہسپتال آ جائے۔ سروسز ہسپتال کے ڈاکٹر طارق عزیز لطیف اور سمیرا میر نے بتایا کہ بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ تاہم وہ دماغی اور جسمانی اذیت میں مبتلا اور بعض طبی مسائل سے دوچار ہے۔ اسے آئی سی یو سے جلد وارڈ میں منتقل کردیا جائیگا جبکہ دو ہفتے بعد بچی کی حالت دیکھ کر مزید دو آپریشن کرنے کا فیصلہ ہوگا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ہمارے پاس کافی طبی سہولیات ہیں اسلئے بچی کو بیرون ملک بھجوانے کی ضرورت نہیں پڑیگی۔ انہوں نے بتایا کہ جسمانی حالت بہتر ہونے کے بعد بچی کا نفسیاتی معائنہ کیا جائیگا۔ گھر والوں کو بھی بچی سے متعلق کونسلنگ کی ضرورت ہے کیونکہ وہ بڑے صدمے سے دوچار ہیں۔ بچی اتنے بڑے سانحے کے بعد خوف میں مبتلا ہے۔ ادھر حالت سنبھلنے پر پولیس کی ٹیم نے بچی سے سوالات کئے۔ بچی نے صرف اتنا کہا کہ اسے ایک شخص اٹھا کر لے گیا تھا جسے وہ نہیں جانتی۔ پولیس کے سوال پوچھنے پر وہ رو پڑی۔ بعدازاں بچی کی حالت بہتر ہونے لگی۔ بچی نے ہوش میں آنے پردوبارہ بیان ریکارڈ کرا دیا۔ شرمناک بات یہ ہے کہ انویسٹی گیشن پولیس نے بچی سے زیادتی کے شبہ میں چار افراد کو حراست لیا اور پھر اس سے رشوت لے کر انہیں کچھ پوچھے بغیر چھوڑ دیا۔ معاملہ اعلیٰ حکام کے علم میں آنے پر انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا جبکہ تھانہ کے اے ایس آئی جمیل خان کو ناقص تفتیش پر معطل کر کے گرفتار کر لیا گیا۔ قانون نافذکرنے والے ادارے ہسپتال کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی مددد سے ہی ملزم کاسراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔پولیس نے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بچی کے محلے داروں کو بھی دکھائی۔ ہسپتال بچی کو گود میں پیدل لے کر آنے والا نوجوان کے شبہ میں محلے دار عمران، شرافت اور نوجوان کباڑیے شہزاد کو حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس نے متاثرہ بچی کے محلہ سے قلفی بنانے والی فیکٹری کے متعددملازمین سے بھی تفتیش کر رہی ہے۔اہل علاقہ کے مطابق اس آئسکریم کے کارخانے ہر جمعرات کی شام کو بچوں کو مفت آئسکریم دی جاتی تھی۔ واضح رہے کہ بچی کے ساتھ بھی جمعرات کے روز ہی زیادتی ہوئی تھی اورمتاثرہ بچی اغوا کے روز بھی اپنے کزن کیساتھ فیکٹری سے قلفیاں لینے گئی تھی۔پولیس و گھر والوں نے ملزم کی شناخت کے لئے متاثرہ بچی کومتعدد افراد کی تصاویر بھی دکھائی ہیں۔ہسپتال کی نئی سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹج میں ایک نوجوان جو ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہن کر بچی کو اٹھا کر ہسپتال لا رہا ہے۔ جس کا چہرہ واضح نظر آرہا ہے اس کی شناخت کے لئے محلے داروں سے پوچھ گچھ کے علاوہ پولیس نے نادرا سے رابطہ کرلیا ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس کی مختلف ٹیمیں دوسرے شہروں میں بھی روانہ ہو چکی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق پولیس کواس کیس میں کچھ اہم شواہد بھی ملے ہیں جن پر کام کیا جا رہاہے۔ بچی زیادتی کیس کا مرکزی ملزم جلدپولیس کی گرفت میں ہوگا۔مگر باوثوق زرائع کے مطابق ابھی ملزمان کو ٹریس نہیں کیا جائے سکا ہے۔یہ صرف ایک واقعہ نہیں جو ہمارے معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے۔بچی سے زیادتی کے واقعہ کے اگلے روز فیصل آباد تاندلیانوالہ میں 10 سالہ خانہ بدوش بچی کو زیادتی کا نشانہ بناڈالاگیا۔ تاندلیانوالہ کے تھانہ کنجوانی کے علاقہ میں اوباش نوجوانوں نے دس سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور حالت غیر ہونے پر اسے پھینک کر فرار ہو گئے۔ تھانہ کنجوانی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث پانچ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ان میں سے دو نوجوانوں نے اعتراف جرم بھی کر لیا جبکہ مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ صوبائی وزیر صحت خلیل طاہر سندھو ہسپتال پہنچ گئے۔ انہوں نے متاثرہ بچی کو تمام طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ متاثرہ بچی کو ہرممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ کم سن بچیوں سے زیادتی کرنے والے جنسی درندوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ 10 سالہ بچی کی میڈیکل رپورٹ میں سالہ لڑکی کو تشدد کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے انکشاف ہوا۔جس کے بعد فرانزک ٹیسٹ کیلئے نمونے لاہور بھجوا دیئے گئے۔گزشتہ ماہ چوہنگ کے علاقہ میں نامعلوم افراد نے 6سالہ بچی کو اغواء کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا اور نعش نہر میں پھینک دی جس کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔ رواں سال 2013 کے دوران صرف لاہور میں 142 لڑکیوں سے زیادتی اور 30 لڑکیوں کو گن پوائنٹ پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ شہر میں سفاک درندوں کی جانب سے معصوم بچوں‘ بچیوں کے اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے اور انہیں شناخت کے ڈر سے موت کے گھاٹ اتارنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جس سے شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ اپنے بچوں، بچیوں کو گھروں سے باہر نکالنے سے گھبراتے اور خوفزدہ ہیں۔ خصوصاً سکول جانیوالے بچوں کے ورثا کو شدید پریشانی و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور جب تک بچے گھر واپس لوٹ نہیں آتے والدین کے دل میں اندیشہ، خوف اور کھٹکا لگا رہتا ہے۔مگرظالم درندوں کی سفاکیت اور معصوم بچیوں کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے اور ان کو قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جس سے شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا پھیل رہی ہے جبکہ پولیس کی کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ صرف مجبوری یا دباؤ پر مقدمہ کے اندراج کے بعد سراغ لگانے کے بلند و بانگ دعوے کئے جاتے ہیں مگر ایک آدھی واردات کے سوا کسی بھی ایسے دلخراش واقعہ کا سراغ یا پھر ملزمان کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا جا سکا ہے۔