ڈ ی آی خان جیل کا روکٹ سائنس

Posted on September 14, 2013



part 1 ڈ ی آی خان جیل کا روکٹ سائنس


ویسے تو ڈی ای خان جیل کا نام سنتے ہی سر شرم سے جک جاتا ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کے جو روکت سانس یس مے استمال ہوا ہے اس کو بے اقابرین کے سامنے لآیا جائے . وییسے تو بطور قوم ہمارا ایک عجیب المیہ ہے . ہم میں سے کوئی بھی اپنا علاج سرکاری ہسپتال میں نہیں کرتا ہم میں سے کوئی بھی اپنے بچے سرکاری سکول میں داخل نہیں کرتا ، ہم میں سے کوئی بی سرکاری ادارو پر ذرا بھی عتماد نہیں کرتا ، لیکن اگر سرکاری نوکری کی بات ہوگی تو ہم اپنا ایمان ،اپنا پیسا ، اپنی ساری توانائی صرف یس میں خرچ کرتے ہیں کے سرکاری نوکرے مل جاۓ . کونکہ ہم سب کو اچھی طرح معلوم ہے کے اگر سرکاری نوکری ملی تو ساری عمر کا آرام، پیسے ،جائداد اور طاقت مل جاۓگی .اور کمال کی بات تو ہے کے کام بی کوئی نہیں کرنا .ور الله کے فضل سے اب تک کسی بھی حکومت کو یہ فرصت نہ ملی کے ان اداروں کا بھی کوئی خیال کریں اور ان کو کسی درست سمت لے جانے . اس کی بڑ ی وجہ یہ بھی ہے کے اگر وہ اس طرح کرینگے تو اپنے لوگوں کو خوش نہی رک سکینگے .
چلو یہ تو کوئی نہیں بات نہیں ہے ہم بڑ تے ہیں ڈ ی ای خان جیل کے روکٹ سانس کی طرف . جیسے جیسے دن گزرتے ہیں ڈی ای خان جیل کے واقے کے تفصیلات سامنے آرہے ہیں . تین مہینوں کی ٹرننگ پر محیط یہ واقع اس وقت آغاز پذیر ہوا جب دہشت گردوں کے دس افراد کئی دنوں سےجیل کے پولیس سے جیل کے اندر کی ساری تفصیلات لیتے رہے . اور کسی بھی اور سرکاری افسر کی طرح یہاں بھی کسی آفسر کوئی کوئی خبر نہ ہوئی . پھر آگیے جناب ١٥٠ کے قریب لوگ جن کے ساتھ ہر قسم کا اسلہ موجود تھا . میری لئے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کے ان لوگو نے کیی پولیس چیک پوسٹ عبور کر لیا لیکن جیل کے انتظامیہ کو کوئی حبر نہ ہوئی . پھر ہوگیا انڈین مووی کا حول ناک سین لیکن کوئی بات نہیں بنی ، دہشت گرد چلے گیے اور ہمارے سیاسی عقبریں کو مذمت کا ایک اور موقع مل گیا . اب اس میں جو روکت سانس استمال ہوا ہے اس کی جانب بڑ تے ہیں .
ڈی ا ئی خان جیل کا راکٹ سائنس کا انکشاف مجھے تب ہوا تھا جب میں پہلی دفہ تورخم کے راستے پاکستان آرہا تھا . افغانستان کے بارڈر پر تو لائن میں کھڑے ہو کر ہم نے اپنا ایکزٹ کر لیا اور سامنے پاکستان کا پرچم دیکھ کر قدم اور تیز ہو گئے ظاہر ہے اپنا ملک جو ہے .
جناب ہمارا پہلا ہی قدم اپنے وطن عزیز میں نرالا ہوا ، جیسے ہی ہم نے پاکستان کے زمین پر پاؤں رکھا گیٹ کے ساتھ ہی کھڑے اف سی کے جوان نے ہمارا ہاتھ پکڑ لیا اور ایک گا لی کے ساتھ فرمایا “کھدر جا رہے ہو جناب ؟” ہم نے جواب دیا گھر جا رہا ہوں . تو دوسرے نے دھکا دے کر فرمایا تو اسے ہی جا رہے ہو ، ہم کچھ کہنے کی کوشش ہی کر رہے تھے کے پہلے والے نے ہاتھ سے کھینچ کر سائیڈ پر کر دیا ، اور فرمایا خاموشی سے کرے ہو جو . اسی دوران ہماری نظر باقی لوگو پر پڑھی جو دڑا دڑ ہاتھ ملاکر ان سے چلے جا رہےتھے . ہم نے سوچا شاہد ہم نے ہاتھ نہیں ملایا ہوگا ، لیکن ان کی ایک شرط اور بھی تھی کے ہاتھ خالی نہیں ہونا چاہیے ، تو ہم نے بھی ہاتھ ملایا ٥٠ کا نوٹ ہاتھ میں تھام کر . اور قدم بھرا دیے . جب ہم نے غور کیا تو تقریبن ایک منٹ مے ١٠٠ کے قریب لوگ افغانستان سے پاکستان آرہے تھے اور ہاتھ ملا کر بغیر کسی قسم کے سوال جواب کے بغیر سر زمین پاک میں داخل ہو رہے تھے . ہم نے دل مے تھا نی کے امیگریشن آفس میں شکایا ت لگاونگا . یہی سوچ لے کر جب میں امیگریشن کے آفس کے قریب پہونچا تو دیکھا کے بہت سے لوگ کرے ہے ور ایک آدمی کچھ بانٹ رہا ہے . آنکھ خوں کے آنسو رونے لگا جب یہاں کا حال دیکھا . حال یہ تا کہ ایک آدمی تمام لوگو سے پاسپورٹ لے رہا تا ١٠٠ روپے کے ساتھ اور دوسرا آدمی پیسے جدا اور پاسپورٹ جدا کر رہا تھا . سارے پاسپورٹس چادر میں لپیٹ کر اندر جاتے اور تقریبن ١٥ منٹ بعد سٹیمپ لگا کر واپس اتے اور لنگر شرو ع ہو جاتا . ہم نے بھی حسب روایت یہی کام کیا اور پاکستان اگیے بہت سی چیزے لیکر وہ بھی بغیر کسی پوچھ گچھ کے .