تعلیم جو صرف ایک نعرہ

Posted on September 14, 2013



پاکستان نے اپنی عمر کے چھیسٹھ سال تو مکمل کئے ہیں لیکن ان چھیاسٹھ سال میں اسکی کارکردگی ، پراگرس اور ڈویلپمنٹ صرف چند سال کی نظر آتی ہے، جس کے لئے مختلف قسم کے حالات کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جس میں سرفہرست مارشل لائی ادوار کوگردانا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت صرف یہ ہی نہیں بلکہ نااہل سیاست دان اور انکی لالچی سوچیں۔ کیونکہ جب بھی مارشل لاء آیا ہے وہ سیاسی حکومت کی ناکامی کے بعد ہی آیا، ان مارشل لاؤں کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کے ذیادہ تر حقائق یہی بتاتے ہیں، کہ سیاستدانوں نے اپنی ذاتی مفادات کی خاطر کچھ نہ کچھ ایسا کیا جو اس ملک کی بربادی کا سبب بنا جس میں سرفہرست سیاستدانوں کا میرٹ پر تقرریوں سے انحراف، لیڈر آف ہاؤس نے ہمیشہ اپنے نور نظر جنرل کو چیف لگایا اور اسی نے پھر اس پارلیمنٹ کو تہس نہس کیا۔
بحرکیف سیاسی دور ہو یا فوجی پاکستان کے ہر لیڈر نے تعلیم کی ضرورت پر زور دیا لیکن ایک نعرے تک کیونکہ اس پر کبھی عمل نہیں ہوا۔ پاکستان میں حکومت سیاسی ہو یا فوجی اس نے کبھی تعلیم کے بجٹ کو نہیں بڑھایا، کبھی تعلیمی اداروں کو امپروو نہیں کیا، نئے کالج اور یونیورسٹیاں نہیں بنائی بلکہ ملکی خزانے کو اپنے اللوں تللوں پر لٹیایا، بیرونی دورے، بڑے بڑے عشائیے، اپنے محلوں کی تزئیں و آرائش، اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے بڑی بڑی رقموں سے پارلیمنٹ ممبران کی ہمدردیاں خریدی گئیں۔
جن قوموں نے ترقی کرنی ہوتی ہے انکے لیڈر ایسے مسخرے نہیں ہوتے، انکا وژن ایسا نہیں ہوتا بلکہ انکا وژن ایسا ہوتا ہے اور وہ دنیا میں سرخرو ہو کر دکھاتی ہیں بلکہ سرخرو ہی نہیں دنیا پر حکمرانی بھی کرتی ہیں۔ جیسے آج کی دنیا کا بادشاہ امریکہ، امریکہ کی آج کی ترقی اور کامیابی کے پیچھے صرف اور صرف ایجوکیشن تھی، امریکہ نے اپنے ایجوکیشن سسٹم کی بنیاد 1642 میں رکھی اور اسے ایک قانون کی شکل میں لاگو کیا۔ اس میں وہ مزید موڈیفیکیشن کرتا رہا جیسے 1647 اور 1648 میں اس کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ امریکہ کے اس تعلیمی منصوبے کا نام مساچوسٹ تھا۔ اس قانون کے تحت ہر پچاس گھر کی آبادی میں ایک پرائمری سکول کا قیام تھا اور ہر سو گھر کی آبادی کے لئے ایک گرائمر سکول کا قیام لازم قرار پایا۔ اس قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لئے یہ بھی ضروری قرار پایا کہ جو آبادی سکول کو قائم کرنے میں ناکام ہو گی وہ پانچ پونڈ جرمانا دوسری آبادی کو ادا کرے گی جب تک کہ وہ اپنی آبادی میں سکول قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو۔ اور گرائمر سکول کے پاس سٹوڈنٹس کو ہاورڈ یونیورسٹی میں بھیجا گیا تاکہ وہ ہائی ایجوکیشن کے بعد امریکہ کے ایڈمنسٹریٹو رول کو اچھی طرح نبھا سکیں۔ لیکن اسکے برعکس پاکستان میں کیا ہوا، یہاں تعلیمی اداروں پر کوئی توجہ نہ دی گئی، بلکہ اسے ایک کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، تعلیم کا نظام بجائے کہ وقت کے ساتھ بہتر ہوتا یہ دن بدن کمزور ہوا اور اس تعلیمی کمزوری کا فائدہ حکمران طبقے کو ملا کہ انہیں ان پڑھ اور جہالت میں ڈوبا ووٹ بینک ملا جس نے انکو بار بار اقتدار کے مزے لٹوائے اور یہ کھیل آجتک جاری ہے۔
پاکستان کی ذیادہ تر آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے ، اور دیہاتوں میں ہائی سکول تک ایجوکیشن دی جاتی ہے جو کوالٹی آف ایجوکیشن کی منطق سے عاری ہوتی ہے۔ ذیادہ تر بچے اس کمزور ایجوکیشن کےبعد کالج میں داخلہ لینے سے محروم رہتے ہیں اور کچھ کالج کی دوری کی وجہ سے اور اخراجات برداشت سے باہر ہونے کی وجہ سے اس تعلیمی دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں اور اس ٹریڈیشن کا سب سے ذیادہ نقصان عورت کو ہوتا ہے جو کالج کے دور ہونے کی وجہ سے ہائر ایجوکیشن سے محروم رہتی ہیں اور جب عورت تعلیم سے محروم رہے گی تو آپکی جنریشنز کیسے ترقی کر سکتی ہے کیونکہ تعلیم یافتہ مائیں ہی ایک ایڈوانس سوسائیٹی کی ضمانت ہیں۔
آج اس تعلیمی نعرے کے عملی ثبوت کے طور پر ایک گاؤں کے سکول کا زکر کرتا ہوں جو ضلع اٹک کا ایک معروف گاؤں ہے اور اسکا نام باہتر ہے، یہ واہ کینٹ سے تقریبا 18 کلو میٹر اور اٹک سے 25 کلو میٹر دور ہے،اور اس گاؤں کے بہت سارے لوگ پاکستان کی کی پوسٹ پر فائز ہیں، جن میں ضلع ناظم، نواز شریف کے پہلے دور میں پنجاب بلدیات کا چیئرمین، وفاقی سیکٹریز، ایم این اے، ایم پی اے اور پاکستان میں مختلف اداروں کے ہیڈ کا تعلق بھی اس گاؤں سے ہے، اس گاؤں میں بوائز ہائی سکول 1953 میں بنا جو آجتک ہائی سکول ہی ہے، یعنی تریسٹھ سالوں میں اسے کالج کا درجہ نہیں مل سکا، اور یہاں کا گرلز سکول 1974 میں ہائی سکول بنا اور آجتک ہائی سکول ہی ہے، یہ میجر طاہر صادق کا گاؤں ہے اور وہ ضلع ناظم اور بلدیات کے چیئر مین رہنے کے باوجود اس سکول کو سائنس کالج کا درجہ نہیں دلوا سکے کیونکہ پرائیرٹی کچھ اور ہے، باہتر چوبیس پچیس گائں کا سنٹر ہے ، اگر یہاں کالج بن جاتا تو کئی گائں کے بچوں کو ہائر ایجوکیشن حاصل کرنے کا موقع ملتا ، پاکستان کی موجودہ حکومت جو کہ تعلیم دوست کے نام سے مشہور ہو رہی ہے نے بھی رورل ایجوکیشن کی امپرومنٹ کا کوئی منصوبہ پیش نہیں کیا کہ بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں میں کالج اور یونیورسٹیاں بنائے، ٹاؤن لیولز پر کالج بنائیں تاکہ بچوں کو گھروں کے نزدیک تعلیمی سہولیات میسر ہوں۔
نیچے دی گئی تصویر گرلز ہائی سکول باہتر کی ہے، جسکے صحن میں بارش کا کذڑا پانی کسی جھیل کا منظر پیش کر رہا ہے اور ایک ہفتے سے سکول صرف اس لئے بند پڑا ہے کہ صحن میں پانی کھڑا ہے اور بچیاں کلاسوں تک اس پانی کی وجہ سے نہیں پہنچ سکتی، اس سکول کو ہائی سکول بنے ہوئے تقریباء انتالیس سال ہوگئے ہیں لیکن اس سکول میں پرمانینٹ سائنس ٹیچر نہیں ہوتی، نویں دسویں کے میتھ کی ٹیچر نہیں ہے، لیبارٹری سے عاری ہائی سکول تعلیمی سنجیدگی کہ منہ بولتا ثبوت ہے، پنجاب گورنمنٹ تعلیم کے بارے میں سنجیدہ ہے تو کہاں، ایسے بڑے بڑے سکول انکی سنجیدگی سے فیض یاب کیوں نہیں ہوتے۔ اس سکول میں گاؤں کے لوگوں کے چندے سے کمرے تک بنائے جاتے ہیں، کیا ایسے ہی تعلیم کا بول بالا ہوتاہے، اس گاؤں کے وہ سب لوگ جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور اپنے گاؤں کے غریب بچوں کی تعلیم کے لئے کچھ نہیں کر رہے ، قومی مجرم ہیں،،اسودہ حال تو اپنے بچوں کو واہ فیکٹری کے اچھے سکولوں میں بھیجتے ہیں لیکن غریب کیاکریں، انکے بچوں کو اچھی تعلیم حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں۔

جب تک رولر ایریا کی ایجوکیشن کو ترقی نہیں دی جائے گی ، پاکستان ڈویلپ نہیں ہو سکتا۔ باہتر کی طرح پاکستان میں ہزاروں ایسے قصبے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے سائنس کالجز کی اشد ضرورت ہے، اگر حکومت کی یہ جسٹیفکیشن کہ ہم تھوڑی تعداد کے لئے کالج یا یونیورسٹیاں نہیں بنا سکتے تو یہ غلط ہے، اگر اپنے خاندانوں پر ،اپنی آسائشوں پر، اپنے اللوں تللوں پر کروڑوں خرچ کر سکتے ہیں تو یہاں بھی پچاس بچوں کے لئے کالج ضروری ہے،
پاکستان میں تعلیم کے خاطر خواہ انتظامات نہ ہونے میں حکومت کے ساتھ عوام بھی برابر کی شریک ہے کیونکہ یہ اپنے ایم این اے اور ایم پی اے سے اپنے بچوں کے لئے اچھی تعلیمی انسٹیٹیوٹ کا مطالبہ نہیں کرتے، باہتر اور اسکے اردگرد گاؤں کے لوگوں نے جب موٹروے پر براہمہ انٹرچینج کا اعلان ہوا تو ان لوگوں نے اس انٹرچینج کا نام براہمہ کی بجائے باہتر انٹرچینج رکھنے کے لئے احتجاج کئے، حالانکہ کوئی ان سے پوچھے کہ براہمہ ہو یا باہتر آپنے گزرنا ہے، اس سے ذیادہ کیا فائدہ ہے اس انٹرچینج کا، لیکن تعلیمی پسماندگی کے شکار لوگ اپنی احتجاجی توانائیاں فضول کاموں پر ضائع کرتے ہیں ان لوگوں نے کبھی سکول کو اپ گریڈ کرنے کے لئے احتجاج نہیں کیا، سکول کی بلڈنگ، سائنس لیبارٹری، سائنس ٹیچرز کے لئے کبھی احتجاج نہیں کیا، اگر کیا ہے تو انٹرچینج کے لئے شائد یہ انٹرچینج انکی تمام محرومیوں کا مداوا ہو۔
پاکستان کی وہ حکومت ملک اور تعلیم کے لئے مخلص تصور کی جائے گی جو قصبوں تک کالج ایجوکیشن کو لائے گی، ضلع لیول پر سائنس کالجوں اور یونیورسٹیوں کا نیٹورک بچھائے گی، تاکہ گاؤں کے ہر بچے اور بچی کو تعلیم اپنے گھر کے نزدیک مل سکے۔۔۔۔