کبھی مرغا کبھی گدھا

Posted on September 3, 2013



وہ انہیں گدھا سمجھتے رہے لیکن وہ بھی ہم میں سے ہیں ان کی بات کی تصدیق کیسے کردیتے پس انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ان کے ہاتھوں مزید گدھے نہیں بنیں گے لہذا وہ مرغے بن گئے اور مرغے بھی کیسے۔ ان کے پیٹ پر سوکھی روٹی بندھی ہوئی تھی اور وہ ننگے پیٹوں کو پیٹ رہے تھے۔ کوئی کب تک ٹھنڈے پیٹوں ’’وعدہ فردا‘‘ اور فردا مزید‘‘کو برداشت کرتا۔ تو وہ جگہ جگہ مرغے بن گئے! ان کی ککڑوں کی آواز لاہور سے اسلام آباد تک پہنچی یا نہیں لیکن لاہور ہی میں ایک اور ’’شاہ جی ‘‘ نے یہ آواز سن لی اور چڑھ گیا کھمبے پر۔
چڑھ جا بیٹا سولی پر رام بھلی کرے گا!!

کھمبے پر چڑھ جانے والے کی ادائیں اپنے سکندر جیسی تھیں جیسے کہہ رہا ہو، مجھے دھکہ کس نے دیا تھا! اس کو بڑے دلار سے کہا میاں بات سن لو لیکن وہ بھی سکندر بھائی کی طرح “میاں صاحب”سے کم کسی سے بات کرنے پر رضا مند نہیں تھا۔ وہ بھی کھمبے پر چڑھا رہا وہ کھمبا تو نہیں کھمبوں کا جال تھا اور وہاں سے صرف وہی گر سکتا ہے جو خود گرنا چاہتا ہو۔

دو گھنٹے تک وہ کھمبے پر اور ریسکیو کا عملہ اس کے ارد گرد رہا اور جب وہ نہ مانا تب کسی من چلے نے آواز لگادی ۔۔۔۔ ہوشیار !! زمرد خان آرہا ہے ۔۔۔ “یہ سننا تھا کہ وہ سولی سے اترنے پر تیار ہو گیا ۔۔۔ فٹافٹ فائر بریگیڈ کی سیڑھی پر آیا۔۔۔۔ جب وہ وہاں آیا تو رضا کاروں نے اسے پکڑے رکھا کہ اب میاں صاحب کو بلندی سے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ زمرد خان نہ آئے لیکن دروغ پر گردن راوی ان کا نام کام آگیا۔۔ اور وہ سکندردوم کھمبے سے اتر آیا۔۔۔۔

ہمیں پتہ نہیں کہ سکندر درجہ آول نے ابھی تک کیا کچھ بتایا ہے اور یہ بھی پتا نہیں کہ سکندر درجہ دوم کی شکایت کا ازالہ چھوٹے میاں صاحب کیسے کریں گے لیکن آگر سکندر آف جناح ایونیو کے معاملے کو الگ کردیں تو کھمبے، گدھے اور مرغے والے سارے معاملات معاشی ہیں۔ قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ پیپلزپارٹی کے زمانے میں ’’پیٹرول بم‘‘کی اصطلاح کرنے والے بھی اب صرف ’’قیمت میں اضافہ‘‘ہی کہہ کر گزرجاتے ہیں۔ پیٹرول مہنگا ڈیزل مہنگا مٹی کا تیل مہنگا۔۔۔۔۔۔ بھتے کے ریٹ دگنے۔۔۔۔ رکشا ٹیکسی بس ٹرک حتیٰ کہ چنگچی کے کرائے بھی بڑھ گئے میٹر چلنا بند۔۔۔۔۔۔ زبان چلنا شروع۔۔۔۔۔۔ روپے کی قیمت میں اتنی گراوٹ کہ تاریخ بن گئی۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈالر اور پیٹرول کی قیمت میں فری اسٹائل ریسلنگ شروع ہوگئی لیکن اس بار پیٹرول ڈالر پر بازی لے گیا!!! پیٹرول نے ڈالر پر کیا بازی لی کہ سب تگنی کا ناچ، ناچ اٹھے۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے کھوکھے والے نے بھی سگریٹ مہنگے کردیے اور جب پوچھا تو شان استغنیٰ سے انگلی کا اشارہ کیا۔ وہاں لکھا تھا ’’فضول بات کرکے انرجی ضایع نہ کریں ، پیٹرول مہنگا ہوگیا‘‘۔ بیکری والا ڈالر کی قیمت میں اضافہ پررو رہا تھا اور یہ سب ہم کو مرغا بنانے پر تلے ہوئے تھے۔۔ ہم سوچ رہے تھے۔۔۔ بھاگ کر کہاں جائیں۔۔۔ کیا کھمبے پر چڑھ جائیں۔۔

کھمبے پر چڑھ جانے والا عیش کررہا ہے، مرغا بننے والے بھی گھر چلے گئے ہیں لیکن مہنگائی کا طوفان بلا ہے کہ کہیں ٹہرنے کا نام نہیں لے رھا کہتے ہیں کہ بھٹو کے خلاف پی این اے کی تحریک میں اعلان کیا گیا تھا کہ وہ 71ع کی قیمتیں واپس لائیں گے لیکن وہ تو بھٹو سے کہیں آگے نکل گئے۔۔۔ ہم اگر آپ کو یہ بتانا شروع کردیں کہ کسی زمانے میں ڈالر کی قیمت کیا تھی تو آپ ہمیں گدھا سمجھنے لگیں گے لیکن صرف آزادی کی قدر کرنے والے آپ کو بتا دیں کہ 1955ع تک یہ قیمت ایک سے تین روپے کے درمیان رہی۔ ابھی 80ع کے عشرے کی بات ہے 87 یا 88 کی جب ہم بھاری ٹرک نما ’’کرینا ڈرائیو کرتے تھے پیٹرول شاید 27 روپے تھا جب ہمارے پاس ’’منی آسٹن‘‘ تھی تو ہمیں یاد نہیں کہ پیٹرول کتنے کا تھا جب تین چار روپے لیٹر!!! یہ بھی پرانی بات نہیں بس 77 کی ہوگی

تو ہمارے لوگ ہمیں مرغا گدھا بنانے پر مضر ہیں اور ہم ایسے میں سوچ رہے ہیں کہ طالبان سے بات چیت کی جائے یا نہیں۔

لگانہ جھٹکا!!!اس کالم میں جمپ پر

یہاں بھی ہمیں مرغا نہیں گدھا بنایا گیا! پہلے خبریں ’’لیک‘‘ کی گئیں کہ مولانا فضل الرحمن نے میاں صاحب سے ملاقات کی کس کے لئے منصب وزرات کے بعد درجہ اول کے محکمہ پر بات ہوئی اور ساتھ ہی یہ بھی شوشا چھوڑا گیا کہ طالبان سے ایک مہینے میں بات چیت شروع ہوجائے گی ایک برطانوی اردو ویب تو اتنی آگے گئی کہ اس نے ’’صلاح مشورے‘‘ شروع بھی کرادیے۔۔۔۔۔ حتی کہ ایک روز سیکریٹری دفاع نے جھنجھلا کر بیان دے ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جب طالبان ہمارے آئین کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ بچیوں کی تعلیم تو ہم ان سے کس طرح بات کریں‘‘اس بیان کو ہفتہ اتوار کے باعث ٹاک شوز میں جگہ نہیں مل سکی لیکن یہ بیان دوٹوک تھا۔۔۔ اس لیے لگ رہا تھا کہ سرکار اور عساکر ایک ’’صفحے ‘‘ پر نہیں ۔۔۔۔اگلے روز وزیر داخلہ کا بیان بھی آگیا۔۔۔۔ ’’ مذاکرات نہیں ہورہے۔۔۔۔۔۔

ایک عجیب بات یہ ہے کہ سیکریٹری دفاع کا بیان پالیسی طے کررہا تھا کہ جن لوگوں کو آئین قبول نہیں ہم ان سے مذاکرات نہیں کرسکتے لیکن حکومت کہہ رہی ہے کہ ابھی بات چیت نہیں ہورہی۔۔۔۔۔۔

یہ حکومت سکندر آف جناح ایونیو سے مہاجر ری پبلیکن آرمی تک جھٹکے لیتی رہے ہے۔۔۔۔۔۔ کسی رکشہ کی طرح ۔۔۔۔۔۔ ممکن ہے ہمیں مرغا سمجھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ عجیب بات نہیں کہ ایم آر اے کی بات سپریم کورٹ میں رکھی گئی۔۔۔۔۔۔ وزیرداخلہ نے پہلے اسے غلط قرار دیا لیکن پھر کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بات تو سچ ہے مگر سپریم کورٹ میں اٹھانے والی نہیں۔۔۔۔‘‘لیکن شاید ان کو پتہ نہیں تھا کہ سامنے کوئی مرغا نہیں بلکہ منیر ملک اٹارنی جنرل ہیں۔ ان کے ترجمان نے بھی جواب داغ دیا۔’’ ہم تو ڈاکئے ہیں ہمیں جو فراہم کیا گیا ہم نے عدالت میں پیش کردیا۔۔۔۔

متضاد باتیں۔۔۔بیانات۔۔۔۔۔۔ سپریم کورٹ سے بیانات کی واپسی سب جگ ہنسائی کا سبب ہے ہمیں گدھے سمجھنے والی بات ہے لیکن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ اگر سب لوگ غصے میں آگئے تو آپ اتنے کھمبے کیسے فراہم کریں گے
تھوڑا صبر سے کام لیں۔۔۔۔ ہم پھر دو ظالموں کو ٹکراتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔ شام کی حکومت اور امریکی جنگی مشین۔۔۔۔۔۔ صدام کی طرح اسد بھی ’’معصوم‘‘ نہیں لیکن اتحادی شام پر حملہ !!! کون کسے گدھا سمجھ رہا ہے؟