طاقتور کی لاٹھی کے دو سر

Posted on September 3, 2013



سندھی میں ایک کہاوت ہے کہ طاقتور کی لاٹھی کے دو سر ہوتے ہیں۔ طاقت کی لاٹھی کے یہ دو سرآجکل آمریکا اور برطانیہ کے بیانات اور ارادوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کے ذہنوں پر ایک بار پھر جنگی جنون سوار ہوچکا ہے اور شام پر حملے کی جلدی ان کے آرام میں خلل پیدا کئے ہوئے ہے۔ وہ ایسی ہی عجلت کا مظاہرہ گزشتہ دہائی میں افغانستان اور عراق میں بھی کرچکے ہیں جس کے نتائج ان سمیت پوری دنیا ابھی تک بھگت رہی ہے، لیکن جنگی جنون نے ان کے سوچنے اور تاریخ سے سبق سیکھنے کی صلاحیت پر کالا کپڑا ڈال دیا ہے غالباًیہی وجہ ہے کہ وہ ایک بار پھر دنیا بھر کی تباہی کا سامان تیا ر کرنے کے لئے اتاولے ہورہے ہیں۔ انہیں اس بات کی ذرا برابر بھی شاید فکر نہیں کہ دنیا بھر کے حالات پہلے ہی مخدوش ہوچکے ہیں اور سیاسی، معاشی ابتری نے حالات کی سنگینی میں اضافہ کردیا ہے، ایسے میں ایک اور ایڈوینچر دنیا کو خرابی کی دلدل میں گرانے اور اسے غرق کرنے کے مترادف ہوگا۔
شام پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ اس نے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہیں اور اب ان کیمیائی ہتھیاروں کو بہانہ بنا کر ایک نئے حملے کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ آپ اگر ایک دہائی پیچھے کی جانب جائیں اور عراق پر حملے سے پہلے کے حالات کا جائزہ لیں تو آپ کوکہانی ملتی جلتی معلوم ہوگی۔ بالکل اسی طرح صدام حسین پر جوہری ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کیا گیا اوربالکل اسی طرح اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کو برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا ساتھ حاصل تھا، جس طرح آج امن کے نوبل انعام یافتہ امریکی صدر جناب براک حسین اوبامہ کوڈیوڈ کیمرون صاحب کی صحبت اور ہمنوائی حاصل ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دس سال پہلے امریکا میں ریپبلکن، جبکہ برطانیہ میں لیبر پارٹی اقتدار میں تھی، جبکہ آج آمریکا میں ڈیموکریٹس اور برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی اقتدار میں ہیں، جو اس وقت جنگ کی مخالفت کررہے تھے۔ مگر آج بالکل اسی انداز سے سلسلے کو آگے بڑھاتے نظر آتے ہیں۔
کیمیائی حملے کی خبر آتے ہی امریکی صدر نے بغیرکسی تصدیق کے اعلان فرمادیا کہ شام نےریڈ زون پار کردیا ہے، جوکہ سنگین فوجی جرم ہے اور اسے اس کی کڑی سزا ملنی چاہیے۔ دوسری جانب لندن سے بھی اسی بیان کی بازگشت سنائی دی اور اب متواتر جو بات واشنگٹن سے بیا ن کی شکل میں آتی ہے، وہی بات لند ن سے دہرادی جاتی ہے۔ شامی حکومت نے کیمیائی حملے والے الزام کی تردید کرتے ہو ئے اسے اپنے خلاف سازش قرار دیا ہے اور بدلے میں باغیوں پرحملے کا الزام عائد کردیا ہے۔ گو شام نے اقوام متحدہ کی ٹیم کو تحقیقات کی اجازت دے دی، تاہم اب امریکا اور برطانیہ نے شام پر حملے کے شواہد تباہ کرنے کے الزامات عائد کرنا شروع کردیئے ہیں۔ یو این کی ٹیم نے کل اس ہسپتال کا دورہ بھی کیا، جس میں کیمیائی حملے کے متاثرین کا علاج ہورہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کا کہنا ہے کہ تین امریکی بحرے بیڑے شام کے ساحل کے قریب پہنچ چکے ہیں اور صدر صاحب کی جانب سے ایک اشارہ ملنے پر حملے کا آغاز کردیا جائیگا۔ برطانوی وزیر اعظم، جو چھٹیاں منا رہے تھے، بھاگ کر واپس لندن آئے اور آتے ہی فرمایا کہ حملے کے لئے سیکیورٹی کونسل کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، تاہم اس کی اپنی حزب اختلاف نے یاد دلایا اور باور کرایا کہ اسے اس حوالے سے اپنی پارلیمنٹ سے اجازت لینا لازمی ہوگا، جس نے اب کیمرون صاحب کے جنگی منصوبے کو 272 کے مقابلے میں 285 ووٹوں سے مسترد کردیا ہے۔ گو ابھی یواین انسپیکٹرز کی رپورٹ آنے کے بعد ایک ووٹنگ اور ہونی باقی ہے ،تاھم زیادہ تر ابھی سے گردن کو نہیں میں ہی ہلا رہے ہیں۔ پارلمینٹ میں منصوبہ مسترد ہونے کے بعد کیمرون کو کہنا پڑگیا ہے کہ وہ اپنی پارلمینٹ کے فیصلے کی عزت کرتے ہیں، ساتھ ہی برطانیہ کے وزیر دفاع نے کہ دیا ہے کہ برطانیہ جنگ کے لئے نہیں جارہا۔ تاہم امریکی وزیر دفاع نے ایک بار پھر کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے مثبت جواب کے منتطر ہیں۔ دوسری جانب فرانس کے مطابق شام پر آئندہ بدھ تک حملہ ہوسکتا ہے،ادھر روس امریکا کے شام پر حملے کی صورت میں سعودی عرب پر حملہ کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ مگر برطانیہ کی مشہور اخباردی گارجین نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب نے روس کو معاملے سے دور رہنے کی صورت میں تیل کی مفت رسد کا وعدہ کرلیا ہے۔
اصل میں یہ سارا معاملہ سعودی عرب کی ایما پر ہورہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کا تاریخی اختلاف صدیوں سے خطے میں حالات کی ابتری اور پریشانی کا باعث بنا ہواہے اور مغربی اقوام اس جھگڑے سے ہمیشہ فائد ہ اٹھاتی رہی ہیں۔ سنی ، شیعہ تفریق کو بھی دراصل اس تاریخی اختلاف کے تناظرمیں دیکھنا چاہئے۔ ورنہ معاملے کی جڑ تک پہنچنا ممکن نہ ہوگا اور ہم کولہو کی بیل کی طرح وہیں کے وہیں گھومتے رہیں گے۔ کہا جار ہا کہ سعودی عرب کا انٹیلیجنس سربراہ شہزادہ بندر اس مہم جوئی میں پیش پیش ہے۔ وہ گزشتہ پانچ امریکی صدور کے دور اقتدار کے دوران امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر رہ چکے ہیں اور وہ امریکی انتظامیہ میں اچھا خاصہ اثر رسوخ رکھتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ وہ بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے شام میں باغیوں کو ہتھیار اور مالی امداد فراہم کرتا رہا ہے۔ اس پورے منصوبے میں امریکہ،برطانیہ، سعودی عرب اور اسرائیل پیش پیش ہیں۔ ان تمام کو خطے میں ایران، لبنان اور شام کے ٹرائیکا سے پریشانی لاحق ہے اور ان کی خواہش ہے کہ اس تکون کو توڑا جائے۔ انہوں نے کئی سال ایران پر دباؤ بڑھایا اور اسے زیر کرنے کی ہرممکن کوشش کی، مگر وہ بارآور نہ ہوسکیں۔ اب انہوں نے اس تکون کے ایک کونے کو توڑنا شروع کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شامی حکومت کے خاتمے سے ایران کی کمزوری میں اضافہ ہوگا اور حزب اللہ کی طاقت بھی ٹوٹ جائے گی۔ اس پوری کوشش کے پیچھے سب فریقوں کے اپنے اپنے مقاصد ہیں، تاہم سعودی عرب ، جو ہمیشہ ایران کے تسلط سے خائف رہا ہے اور اپنے لئے اسے بڑا خطرہ سمجھتا رہا ہے، وہ ایران کی طاقت کو توڑ کر خطے میں اپنا غلبہ بڑھانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے اپنے مقاصد ہیں۔ وہ بھی ایران اور اسکے ساتھی ملکوں کی دھمکیوں سے پریشان رہتا ہے اور دلی طور پر چاہتا ہے کہ کسی طریقے سے یہ تکون ٹوٹے۔ وہ بشار کے بعد نئی شامی حکومت سے مصر اور اردن کی طرح معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور گولان ہائیٹس پر اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے۔گولان ہائیٹس اسرائیل کے لئے بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ ان پراسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ میں قبضہ کیا تھا۔ایک ھزار آٹھ کلومیٹر لمبی ان پہاڑیوں کو اسرائیل اپنے لئے بہت اہم تصور کرتاہے۔ان پہاڑیوں پر اب شاندار یہودی آبادیا ں بن چکی ہیں۔ دوسری جانب امریکا اور برطانیہ کے عزائم تو کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔ وہ اس تیل سے مالا مال خطے میں اپناا ثرورسوخ بڑہانا چاہتا ہے۔ سو اس طرح شام اب ان فریقوں کی مختلف مگر خطرناک خواہشات کی زد میں آچکاہے۔ اس وقت تک بچے رہنے کے پیچھے روس اور چین کی مدد وجہ بنی ہوئی تھی، جو اگر اس طرح حاصل رہی تودو باتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ امریکا سمیت سارے حملہ آورشام کو ملنے والی مدد کو مدنظر رکھتے ہوئے حملہ کرنے سے گریز کریں، یا دوم یہ کہ حملہ ہوجائے، (جس کا کہ قوی امکان ہے اور آج کویتی میڈیا نے دعوی ٰ کیا ہے کہ شام پر حملہ چند گھنٹوں کی بات ہے، دوسری جانب شامی سیکیورٹی فورسز کے مطابق شامی حکومت یہ خود بھی سمجھتی ہے کہ یہ حملہ کسی وقت بھی ہوسکتا ہے) متوقع حملے کے بعد شام عالمی طاقتوں کے لئے جنگ کا میدان بن جائے گا۔ اگر یہ ہوا تو یقیناً بہت ہی خطرناک ہوگا۔ جس کے نتائج شاید آنے والی کئی نسلیں بھگتتی رہیںگی۔
مغرب کی مشرق پر ہمیشہ غالب رہنے کی خواہش ، سعودی عرب کی ایران پرہمیشہ تسلط کی تمنا اور اسرائیل کا اپنے مخالف ملکوں کے خاتمے کا خواب ، پورا ہوگا یا نہیں ، یہ طے کرنا تو اچھا خاصہ مشکل کام ہے، تاہم یہ بات بہت حد تک طے ہے کہ خواہشات اور خوابوں کا یہ غیر فطری اور خطرناک کھیل آخر کار سب فریقوں کی شکست کا باعث ہوگا اور دنیا ہم سب کے لئے ایک مشکل ترین جگہ بن کے رہ جائے گی۔