Column in Daily Din “Maghrib ya Mashriq” by Jahid Ahmad.

Posted on August 29, 2013



انسانی عادات و اطوار، سوچ، اعمال اور ماحول کا سیدھا آپسی باہمی تعلق ہوتا ہے! انسانی زندگی کا روز مرہ کا طریقہ کار، بیش قدر ذرائع کی فراہمی و استعمال، معاشرتی و معاشی گرد و پیش، مذہبی فکر و رجحانات، تعلیم و نظامِ تعلیم، بنیادی و مرحلہ وار تربیت، تفریحات کے مواقع، سوچنے و بولنے کی آزادی، قوانین، انصاف اور برداشت جیسے محرکات بیک وقت انسانی ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں پھر عادات، رویوں ، سوچ اور اعمال کی شکل میں ارد گرد کے ماحول کو اپنے وجود کی طرز پر سانچ لیتے ہیں۔ یہی سانچہ دن بدن، روز بروز اپنے بطن سے ایسے ذہن پیدا کرتا ہے جو ان محرکات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں یوں ایک مرحلہ وار کڑی در کڑی سلسلے کا آغاز ہوتا ہے جس میں یہ محرکات انسانی عادات، اطوار، سوچ اور اعمال پر اثر انداز ہوتے ہیں جو اگلے مرحلے میں ماحول کو اپنے مطابق ڈھالتے ہیں اور یہ ماحول گھوم کر انہی محرکات سے مماثلت رکھتے ذہنوں کی نش و نما کرتا ہے!!!

محرکات جتنے متنا سب اور معیاری ہوں گے، اتنے ہی عمدہ انسانی رویے، سوچ و اعمال ہوں گے اور ماحول بھی اتنا ہی خوشبو دار و سازگار ہو گا، خوشیوں کی تتلیاں زیست کے پھولوں پر اڑتی پھریں گی ، زندگی کا احساس اور انسان کی قدر و قیمت ہو گی، ترقی و خوشحالی ہو گی جبکہ یہی محرکات اگر غیر متناسب و غیر معیاری ہوں جائیں تو خوشبو دار ماحول بھی آہستہ آہستہ تبدیل ہو کر اس قدر بدبودار ہو جائے گا کہ چہار جانب مکھیاں بھنبھناتی نظر آئیں گی، گند کے ڈھیر ہوں گے، زندگی رینگتی دکھائی دے گی ، دکھوں کے کانٹے ہوں گے، بد حالی ہو گی!!! خوشحالی حاصل کرنا ، محنت طلب، مشکل و صبر آزما کام ہے پر خوشحالی کو قائم رکھنا اس سے بھی کہیں زیادہ کٹھن ہے جبکہ خوشحالی کو بد حالی میں بدل دینا آسان ترین و سبک رفتار تر عمل ہے۔
دنیا کے موجودہ ماحول و حالات کو پرکھیں تو بیشتر مسلمان ممالک کا حال برا دکھائی دیتا ہے، اندرونی و بیرونی خلفشار، دہشت گردی، خانہ جنگی، غربت، افلاس، لاشیں، پست معیارِ زندگی، شوقِ بادشاہت، محدود ترقی، فوج و لشکر کشی، نچلے درجہ کی اخلاقیات، بے قدر و قیمت انسانیت و زندگی، غداری، سستی بکاؤ ذہنیت اور محدود سوچ ان کا خاصہ ہے۔ حالات ثابت کرتے ہیں کہ مجموعی طور پر ہماری حقیقت ان جاندار اجسام سے زیادہ نہیں جو عقل و شعور سے پیدل اور کٹھ پتلیوں سے بڑھ کر نہیں لیکن اس کے باوجود ایگو کا

یہ عالم ہے کہ اپنے آپ کو کائنات کی سب سے افضل و برتر مخلوق سمجھتے ہیں بلکہ نہ صرف سمجھتے ہیں اس کو زورِ بازو کل عالم پر ثابت کرنے پر تلے بھی بیٹھے ہیں اور بازو بھی وہ جو انتہائی کمزور ہیں، اسی کوشش میں روز خود تو مرتے ہی ہیں ساتھ ساتھ اپنے معصوم بچوں کے مستقبل کو بھی اندھے کنویں میں پھینک جاتے ہیں صرف اور صرف اپنی خود ساختہ ایگو اور نظریہ کی تسکین کی خاطر!! اسلام تو رواداری ، اخلاقیات، رحم،علم و معاملہ فہمی کا درس دیتا ہے پر اسلام کے ٹھیکیداروں نے ذاتی مفادات کے مقصد سے جس طرح نسلوں کی برین واشنگ کی ہے اس کے نتائج آج مسلم دنیا خوب بھگت رہی ہے۔ہر برائی کے لئے مغرب کو موردِ الزام ٹھہرانا آسان بات ہے اور طوطے کی طرح سب کو رٹا دی گئی ہے! ہم کٹھ پتلیاں ہیں جس کو ہر باصلاحیت فنکار اپنی انگلیوں پہ حسبِ منشا نچا سکتا ہے، کٹھ پتلیاں اشاروں پر ناچنے کے لئے ہی ہوتی ہیں اور فنکار نچانے کے لئے!!! سوچنے سمجھنے اور عقل کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے، ذہن ٹھنڈا کریں، جذباتیات کو دور رکھ دیں، گہری سانس اندر کھینچیں، یقیناًیہ احساس ہو گا کہ بدبو کہیں باہر سے نہیں شاید اپنے ہی گریباں سے آ رہی ہے، اپنے جسم ، لباس اور ذہن کو صاف کرنے کی ضرورت ہے!!!
آئیے ذرا مشرق و مغرب کے ذہنی معیار کو جانچنے کی سعی کریں ! جب ہم آج تک کئی کئی تحقیقی و تخمینہ جاتی دستاویزات بنانے کے بعد بھی یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ توانائی پیدا کرنے کا کون سا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، آیا پانی کے ڈیم بنانے چاہیے یا کوئلے سے بجلی پیدا کرنی چاہیے یا کہ تیل پر زور رکھنا چاہیے یا گیس پر تو اسی دوران مغرب توانائی کے حصول میں نئی نئی تحقیق میں مصروف رہا اور آج ان کا مکمل فوکس ایٹمی فیوژن ری ایکشن کو لیبارٹری میں کنٹرولڈ حالت میں قابو کرنا ہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں اور اگلے 20 سے 30 سالوں میں فیوژن ریکٹر سے توانائی کا حصول شروع کر دیں گے اور اس کے بعد پانی کی ایک بوتل کے برابر ہائیڈروجن ایک متوسط شہر کی توانائی کی ضروریات کئی سالوں تک پوری کرنے کے لئے بطور ایندھن کافی ہو گی! واضح رہے کے فیوژن ری ایکشن وہ ایٹمی ری ایکشن ہے جو ہمارے سورج کو کئی ارب سال سے روشن کئے ہوئے ہے اور مزید کئی ارب سال تک روشن و توانا رکھے گا۔ پھر تیل کی دولت سے مالا مال مسلم ممالک کے پاس یہ بہانا بھی نہیں رہے گا کہ یہ تیل کی جنگ ہے یا شاید تب تک اپنی تباہی کی ذمہ داری کسی اور پر ڈالنے کے لئے کوئی نیا بہانا تخلیق کر چکے ہوں گے!!!

جب ہم اپنے اس سیارے کو جسے زمین کہا جاتا ہے دونوں ہاتھوں سے تباہ کرنے میں مگن ہیں تب مغرب دن رات زندگی کے لئے سازگار نئے نئے سیارے کھوجنے میں مصروف ہے۔ جب ہم ذرا سی مسافت طے کرنے کی خاطر آج بھی بسوں اور رکشوں کے انتظار میں سڑکوں پر خوار ہو رہے ہوتے ہیں تو مغرب ان نئے سیاروں تک رسائی کے تیز رفتار ترین خلائی ذرائع آمد و رفت کے نت نئے طریقے سوچ رہا ہے ۔ وقت کی ٹک ٹک کو سمجھ کر اسے انسان کے لئے اتنا سست رو کر دینا چاہتا ہے سالوں کی مسافت انسانی عمر پر اثر انداز نہ ہو پائے۔ ٹیلیپورٹیشن کے عمل میں کامیابی اس کے قدم چوم رہی ہے اور یہ اب تک اس قابل ہو چکا ہے کہ ایٹم کو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ٹیلیپورٹیشن کے ذریعہ سے بھیج پائے اور وہ وقت دور نہیں جب اسی عمل کے ذریعہ سے انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹیلیپورٹ ہو جائے گا اور تب سالوں کی مسافتیں لحظوں میں طے ہو پائیں گی۔

جب مغرب میں تعلیم یافتہ لوگ انسان کی فلاح و بہبود ، تعلیم ، تربیت، تحقیق و ترقی اور زندگی کے آگے بڑھنے کی بات کرتے ہیں تو ہمارے اچھے بھلے پڑھے لکھے عالم حضرات لوگوں کو دنیا کے خاتمے اور اور دجال کے ظہور کی نوید دیتے پھرتے ہیں! زندگی کو اس قدر حقیر قرار دے دیتے ہیں کہ موت ہی سب کچھ معلوم ہونے لگتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر کفار سے جنگ کر کے شہادت نوش نہ کی تو شاید آخرت میں ہمارا ٹھکانہ جہنم ہی ہو گا۔ زندگی ، خوشیوں اور ذہنوں کو پھلنے پھولنے اور پنپنے کا موقع دیجیے، قیامت سے پہلے جو قیامت ہم نے اپنے دست و بازو و افکار سے پیدا کر رکھی ہے اس کا حساب کون دے گا؟ مغرب یا مشرق؟
اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کو ایک خوشبودار ماحول دینا ہمارا فرض ہے وگرنہ مستقبل میں ان کے سوالوں کے جواب ہم نہیں دے پائیں گے اور بدبو کے بھبھکے ان کی زندگی کو بھی تعفن سے بھرتے رہیں گے! کھل کر سوچیے، گناہ نہیں ملے گا، کہ ذہن سوچنے کے لئے ہی تخلیق دیا گیا ہے!