نواز حکومت کا ساتھ دونگا، ملک چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔۔۔۔زرداری

Posted on August 28, 2013



ماشاللہ کتنے میچور ہوگئے ہیں ہمارے لیڈر، اور سپیشلی ن اور پی پی والے، پہلے ایک کی حکومت آتی تھی تو دوسرا باہر بھاگتا تھا کیونکہ جھوٹے کیسز کا ڈر ہوتا تھا لیکن اللہ بھلا کرے اس چارٹر آف ڈیموکریسی کا جس نے انہیں مل جل کر کھانے کا فائدہ سمجھا دیا ہے، کہاں میاں شوباز شریف کی وہ للکاریں کہ علی بابا سن لو ہم تمیں ان سڑکوں پر گھسیٹ ایں گے، ہم تم سے اس لوٹ مار کی ایک ایک پائی کا حساب لیں گے، اور کہاں آج میاں صاحب کا یہ بیان کہ ہم صدر پاکستان کو پورے پروٹوکول اور عزت و احترام سے پریزیڈینسی سے رخصت کریں گے اور آج زرداری صاحب کا جوابی بیان کہ ہم ہر محاز پر میاں نواز شریف کا ساتھ دیں گے، خیر یہ تو تھے چارٹر آف ڈیموکریسی کے ثمرات جن سے یہ دونوں پارٹیاں مستفید ہونگی،لیکن زرداری صاحب کا یہ بیان کہ ہم ملک کو بہترین جمہوریت دے کر جارہے ہیں، اپنے آپکو سرخرو سمجھتا ہوں کسی ایسے کام کی شرمندگی کا سامنا نہیں جو غلط کیا ہو، اب پاکستانی عوام کو بھی زرداری صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیئے کہ انہوں نے اس ملک کو بہترین جمہوریت دی، کیونکہ انکی اس جمہوریت کی وجہ سے پاکستان میں کوئی بیروزگار نہیں، پاکستان میں عدول و انصاف کا بولا بالا ہے، ملک میں مہنگائی نام کی کوئی چیز نہیں، پانی، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے نام تک سے پاکستانی واقف نہیں، زرداری کے اس جمہوری دور نے غنڈوں، بدمعاشوں، اٹھائی گیروں، دہشت گردوں، لٹیروں کو ایسی نکیل ڈالی کہ اب وہ تحجد گزار بن گئے ہیں، تعلیم ٹوٹلی فری ہوگئی ہے، ہسپتالوں میں وارڈیں خالی پڑی ہیں یعنی مریض نہیں ہیں، ڈاکثر کھنٹوں انتظار کرتے ہیں کوئی مریض آئے تو اسے چیک کریں،ہسپتالوں کے میڈیکل سٹوروں میں اتنی دوائیاں جمع ہو گئی ہیں کہ باہر پرائیویٹ سٹوروں کو خیرات کی جارہی ہیں، میرٹ کا ایسا بول بالا ہوا ہے کہ سفارشی منہ چھپتاے پھر رہے ہیں،اس زورداری جمہوریت میں پاکستانی شہر ایسے صاف ستھرے نظر آتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ دنیا کے کسی انتہائی ایڈوانس ملک میں پہنچ گئے ہیں، لیکن اس سارے جمہوری پراسس میں صرف زرداری ہی شکریے کے حقدار نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کو بھی کریڈیٹ جاتا ہے جنہوں نے اس جمہوری تسلسل میں پی پی کا ساتھ دیا ورنہ اگر خداناخوستہ ن والے ساتھ نہ دیتے اور یہ جمہوریت راستے میں دم توڑ دیتی تو پھر آج ہم اسکے اوپر بیان کئے گئے ثمرات سے مستفید بھی نہ ہوتے، آخر میں ہمیں اس چارٹر آف ڈیموکریسی کا بھی شکر گزار ہونا چاہیئے جس نے ہماری ان دونوں بڑی اور پرانی پارٹیوں میں میچورٹی پیدا کر دی ہے،اب یہ ایک دوسرے کو گرانے کی بجائے ایک دوسرے کی بیساکیاں بننے پر مجبور ہوگئے ہیں،اور اس عوام کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیئے جنکو انکے چارٹر آف ڈیموکریسی ایجنڈے کی سمجھ آگئی ہے اور وہ ان دونوں پارٹیوں کے سیاسی وژن کی روشنی میں پاکستان کو ترقی کی منازل طے کرتا ہوا بھی دیکھ رہے ہیں!!!
چارٹر آف ڈیموکریسی ذندہ باد اور پاکستانی جمہوریت پائیندہ باد