Column in Daily Din “Mela, Sikandar aur Zimni Intakhabaat” by Jahid Ahmad.

Posted on August 27, 2013



میلہ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ میلوں کے انعقاد کا آغاز 4500 ق م میں قدیم مصر کے شاہی دور کی شروعات سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ان اولین میلوں کے انعقاد کا مقصد کسی کامیابی کا جشن منانا تھا جس میں موسیقی، ناچ گانا اور مذہبی رسومات شامل ہوتی تھیں۔ اسی طرح 600 ق م میں قدیم یونان میں موسیقی سے بھرپور میلے کا انعقاد پائیتھین گیمز کے موقع پر کیا جاتا تھا ، خوشیاں منائی جاتی تھیں اور رقص و سرور کی خوب محفلیں جمتی تھیں، فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر کے داد بٹورتے تھے اور حاضرین ایسے میلوں سے حد درجہ محظوظ ہوتے تھے۔ جوں جوں دنیا میں تہذیب و تمدن کا دائرہ پھیلتا گیا توں توں ہر تہذیب کے اپنے اپنے مخصوص ریت روایات بھی فروغ پانے لگے، نت نئے تہوار اور میلے لگنے لگے۔ آج ہر دیس ہر برس اپنے ریت روایات کے مطابق قومی اور علاقائی سطح پر اپنی خوشیاں میلے لگا کر مناتے ہیں، دنیا بھر سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ، اپنی قوم کا بہتر تاثر پیدا کرتے ہیں اور اپنی ریت روایات کو دوام بخشتے ہیں۔ آئیر لئینڈ کا سینٹ پیٹرک ڈے، اٹلی کا کارنیول آف وینس، لونر فیسٹیول آف چائنیس نیو ائیر اور برازیل کا ریو فیسٹیول دنیا کے مشہور ترین میلوں میں شامل ہیں اور ہر سال کڑوڑوں لوگ اور سیاح ان میں شرکت کر کے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
ہمارے پیارے وطن پاکستان میں بھی کبھی میلے لگا کرتے تھے پر آج کل سیکیورٹی اور دہشت گردی کی نازک صورتحال کے باعث اس قسم کے چیدہ چیدہ میلہ جات ہی منعقد ہوتے ہیں جن میں لوگ ڈرتے سہمتے شرکت کرتے ہیں! پاکستانی فطرتاٌ ہنسی مذاق کی شوقین اور مزے لینے والی قوم ہے، یہاں نہ میلہ لگانے والوں کی کمی ہے نہ میلے کے دلدادہ افراد کی! ہم اہم و سنجیدہ ترین قومی معاملات کوبھی روز رات ٹی وی چینلز پر تمثیل نگاروں کے ہاتھوں مزاح کے نام پر جگتوں اور ٹھٹھوں میں اڑا کر سو جاتے ہیں!!!کوئی وجہ نہیں کہ عوام الناس حساس قومی معاملات پر ہنستی اور انہیں غیر اہم گردانتی ہے۔

یہاں تو سکندر جیسا شخص بھی کھڑے کھڑے سڑک پر میلہ لگا سکتا ہے۔ دونوں ہاتھوں میں بندوق لئے،اپنی بیوی اور دو بچوں کے ہمراہ ، گاڑی اسلام آباد کی سڑک پر کھڑی کر کے اس نے پاکستان کی عوام کو پانچ گھنٹے کیا زبردست اینٹرٹین کیا! ہزاروں کا مجمع اس کے ارد گرد اکھٹا تھا، میڈیا پولیس سے لڑ بھڑ کر کڑوڑوں پاکستانیوں اور کل عالم کو اس کو لائیو کوریج دے رہا تھا ۔ میڈیا رے میڈیا تیری کون سی کل سیدھی؟ سکندر صاحب کبھی لوگوں کو ریڈ بل پی کر دکھاتے تھے، کبھی سگریٹ کے کش لگا کر، کبھی جھاڑیوں میں جاتے تھے، کبھی آزار بند کھولتے تھے اور کبھی بند کرتے تھے، ذرا ماحول ٹھنڈا پڑا تو دو ہوائی فائر کر دیے، دل میں جذبہ ایمانی کی ہوک اٹھی تو شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کر ڈالا، اپنی بیگم صاحبہ کو مذاکرات کے نام پر اتنا بھگایا کہ وہ بھی سوچتی ہوں گی آخر سرتاج کو یہ کیا سوجھی؟ پولیس سکندر بھائی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی تھی، غصہ تو بہت آیا پر یہ تو بعد میں پتا چلا کہ بے چارے آخر ہاتھ باندھ کے کھڑے ہوتے بھی کیوں نا؟ اگر پولیس مقابلہ نما کوئی ایکشن کرنا ہوتا تو بات صرف پانچ منٹ کی تھی پر کسی مجرم کو زندہ دبکنا پولیس کے

واسطے ناکوں لوہے کے چنے چبانے جیسا ہے۔ سٹنگ گن تھی نہیں اور جب کہیں سے ڈھونڈ کر منگوائی گئی تو انکشاف ہوا کہ اس کو چلانا پولیس کے بس کا نہیں!! سنائیپر گھات لگائے بیٹھے اندھیرا ہونے کا انتظار کرتے رہے، اندھیرا ہونے پر انفارمیشن آئی کہ رات میں دیکھنے والی عینکیں میسر نہیں ہیں! ان واقعات کے بعد پولیس کے بارے میں صرف اتنا کہنے کی جسارت کی جا سکتی ہے کہ آنکھ کا اندھا نام نین سُکھ!!!
سکندر گرجتا رہا لیکن شکر ہے برسا نہیں یوں بھی کھوٹا چھنا باجے گھنا!!پھر میلے میں قدم رکھا زمرد خان صاحب نے جو گھر سے یہ تہیہ کر آئے تھے کہ سکندر نامی بلی کی گردن میں گھنٹی سب کے سامنے باندھیں گے اور میلہ لوٹ کر ہی واپس آئیں گے۔ ان کی بہادری و نیک نیتی پر کوئی شک نہیں لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بلی کافی پھرتیلی ہے اور ان کا وزن کچھ زیادہ ہے سو گھنٹی باندھنے جو اچانک سے لپکے تو پاؤں پھسل گیا اور دھڑام سے زمیں بوس ہو گئے ، بلی کی گردن ہاتھوں سے نکل گئی اور اسی افرا تفری میں ایک گولی بھی چل گئی جو قسمت سے زمرد خان کو نہیں لگی اور اب جناب اس مسلحہ بلی کے رحم و کرم پر فرش سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگے۔ بھلا ہو سکندر صاحب کا جنہوں نے بھرپور موقع ہونے کے باوجود محترم کو بھاگنے کا موقع دے دیا، جو اٹھتے ہی سکندر کی بیٹی کی جانب دوڑے اور اسے اپنی آغوش میں بھر لیا!! اسی لمحے سکندر ایک مرتبہ پھر اپنے بیوی بچوں سے دور ہو گیا، پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کر دی جبکہ سکندر نے اپنے دونوں ہاتھ فضاء میں بلند کر کے شکست تسلیم کر لی۔ اب اس کے بعد فائرنگ کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا تھا، فائرنگ رک جانی چاہیے تھی اور سکندر کو گرفتار کر لینا چاہیے تھا!!! مستقل فائرنگ کے باعث سکندر اپنے بیٹے کی جانب بھاگا جو اس ہنگامے سے گھبرا کر تڑتڑاتی گولیوں کی سمت میں آ گیا تھا، تب ہی سکندر کو دو گولیاں آن لگیں ، ایک ٹانگ میں اور دوسری کمر میں جو جان لیوا بھی ہو سکتی تھی۔ پھر پولیس بھاگتی ہوئی اس تک پہنچ گئی، زخمی و نیم بے ہوش سکندر کو دبوچ لیا، دو ٹھڈے مارے، دو چپیڑیں اور پھر ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے گئی۔ میلے کا اختتام ہوا، زمرد خان کو لوگوں نے کاندھوں پر چڑھا لیا، میڈیا نے ان کو ہیرو بنا دیا یوں ہم میں سے بہت سے لوگ یہ سمجھنے میں کامیاب ہو گئے کہ اندھوں میں کانا راجا کا کیا مفہوم ہے!!! لیکن جوں جوں ان کے کارنامے کی ویڈیو مختلف زاویوں سے دیکھی گئی تو سب نے ان کو زندہ ہونے کی مبارک باد پیش کی۔
دو دن پہلے ضمنی انتخابات کا میلہ لگ گیا، حالانکہ ضمنی انتخابات میلہ نہیں بلکہ انتہائی اہم سیاسی عمل ہے لیکن یہاں بھی ہم میلہ شروع کرنے سے باز نہیں آئے!!! جو جنرل الیکشن ہارا تھا اور اب جیت گیا اس نے جنرل انتحابات کو ہی انجینیرڈ قرار دے دیا، جیتنے والوں نے ڈھول پیٹے، کھلے عام اسلحہ کی نمائش و استعمال کیا، میڈیا بھی بال کی کھال اتارتا رہا، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو منہ در منہ کرواتا رہا جبکہ حقیقتاٌ کلی طور پر ضمنی انتخابات کے نتائج جنرل الیکشن کے نتائج سے مماثلت رکھتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے برج ضرور الٹے ہیں لیکن جمہوریت کے لئے یہ بھی ایک اچھی خبر ہے اور ہارنے والی جماعتوں کو یہ احساس دلائے گی کہ ووٹ صرف نام پر نہیں بلکہ کام، کارکردگی اور پالیسیوں کی بنیاد پر ملنا ہے!!!

میلے ضرور لگنے چاہییں یہ عوام کو تفریح مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ملک کا مثبت پہلو اجاگر کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں لیکن قومی اور حساس نوعیت کے معاملات پر میلے لگانا، تمسخر اڑانا اور کنفیوژن پیدا کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ غیر ممالک کے پاس پہلے ہی ہم پر ہنسنے اور انگلیاں اٹھانے کے لئے کافی مواد موجود ہے تو پھر سکندر جیسے کم عقل شخص کو کسی ایسے میلے کو شروع کرنے اور پھر اس حد تک بڑھانے کا موقع ہی نہیں دینا چاہیے پر بات یہ ہے کہ جو بوئے پودے ببول کے تو آم کہاں سے ہوئے؟