فیس بک حقیقی فیس لک

Posted on August 25, 2013



فیس بک جو اپنے یوز کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا سوشل نیٹ ورک میڈیا بن گیا ہے اور اسکے یوزر میں چودہ سال کے بچے سے لیکر پینسٹھ سال کے بوڑے تک شامل ہیں، آجکل اخبار کو دیکھنے والے کم ہو رہے ہیں لیکن فیس بک اور ٹوئیٹر یوزر بڑھ رہے ہیں، فیس بک کے لئے کسی رپوٹر کی بھی ضرورت نہیں جہاں کسی نے کچھ دیکھا فوراء شیئر کر دیا، کیموہ موبائل نے بھی اس میڈیا کو چار چاند لگا دئے ہیں، کیونکہ فیس بک یوزر کے پاس کیمرہ موبائل تو لازمی ٹھہرا ہے اور جو کوئی جیسا کیسا دیکھتا ہے اسے ویڈیو کلپ کی شکل میں فیس بک کی زینت بنا دیتا ہے، اور پھر فیس بک یوزر اسے جنگل کی آگ کی طرح آگے پھیلا دیتے ہیں، اس میڈیا کے جہاں انفارمیشن کے اعتبار سے بہت فائدے ہیں وہاں اسکے نیگیٹو یوز کرنے کے نقصانات بھی بہت ہیں،
فیس بک یوزر اگر تو معیاری انفارمیشن شیئر کر رہا ہے تو فائدہ ہے اسے پڑھنے والے کے نالج میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور اسے آگے شیئر کرنے سے اور لوگوں تک وہ اچھی انفارمیشن پہنچ جاتی ہے، اور اگر کوئی نیگیٹو ذہن کوئی ولگر یا جھوٹی انفارمیشن شیئر کرتاہے تو امیچور مائنڈ اسے بھی آگے ایسے ہی شیئر اور ٹیگ کرتے رہتے ہیں۔جسطرح صحافت میں ییلو جرنلزم ممنوع ہوتی ہے اسطرح ہر فیس بک یوزر کو بھی اس زمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، کہ کوئی فیک انفارمیشن آگے شیئر نہ کریں، اب فیس بک یوزر بھی صحافت کے زمرے میں آتا ہے۔
فیس بک کو فیس لک کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ آپکا صحیح چہرہ روشناس کراتی ہے، اگر تو آپ کوئی معیاری انفارمیشن شیئر کر رہے ہیں، معیاری سٹف پوسٹ کرتے ہیں تو دیکھنے والے اور پڑنے والے کو آپکی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے، کیونکہ فیس بک یوزر میں ذیادہ تعداد ان لوگوں کی ہوتی ہے جو بغیر ایک دوسرے کو دیکھے فیس بک فرینڈ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ فیس بک پر ذندگی بھر کے سفر کے عہدو پیماں ہو جاتے ہیں اور بغیر دیکھے اور پرکھے، اور یہ بھی صحیح ہے کہ فیس بک پر ننانوے پرسنٹ جھوٹ ہوتا ہے جو کہ ہونا نہیں چاہیئے سپیشلی ہم مسلمانوں کو تو اس معاملے میں بہت محتاط ہونا چاہیئے،ہم اپنے بارے میں کسی کو کیوں جھوٹ بتا کر ایمپریس کرنا چاہتے ہیں، ہمارا پروفائل جھوٹ سے فل ہوتا ہے، ہم وہاں اپنے آپکو پروفیشنل شو کرتے ہین اور ہوتے کچھ اور، حالانکہ وہ فیک پروفائل بعد میں شرمندگی بن کر سامنے آجاتا ہے جب کبھی حقیقت میں آمنا سامنا ہوتا ہے۔کسی کو آپ پسند کوتے ہو یا کوئی آپکو پسند کرتا ہے تو ریالٹی سامنے رکھو تاکہ اسکی حقیقت سامنے آجائے کہ وہ آپکی شخصیت سے پیار کرتا ہے یا آپکے پروفیشن کی وجہ سے یا کسی لالچ میں آپکے نزدیک ہوا ہے،کہتے ہیں کسی کے دل میں کیا ہے اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، لیکن اسکے بیان کئے ہوئے، اسکی گفتگو سے ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بندہ کس سوچ کا مالک ہے اگر وہ منافقت نہ کر رہا ہو بلکہ سچ بول رہا ہو،اگر وہ اچھی باتیں کرے گا تو آپ اسے اچھا کہیں گے اور اگر وہ بری اور ولگر باتیں کرے گا تو آپ اسے برا کہیں گے اور یہی چیز فیس بک پر آپکے سٹف شیئر کرنے اور لائیک کرنے پر بتاتی ہے کہ آپکا اصل چہرہ کیا ہے ، یعنی فیس لک۔
فیس بک پر آپکا پوسٹ کیا ہوا مواد، شیئر کیا ہوا، لائیک کیا ہوا اور کمنٹیڈ بہت دور تک جاتا ہے اسے آپکے ایڈڈ فرینڈز، انکے فرینڈز اور انکے فرینڈز تک پہنچ ہی جاتا ہے، جیسے جیسے یہ شیئر، لائیک ہوتا جائے گا چلتا جائے گا، لہذا فیس بک پر لائیک کرتے ہوئے، پوسٹ کرتے ہوئے اور ولگر کمنٹس کرتے ہوئے یہ ذہن میں ہونا چاہیئے کہ یہ آپکے انتہائی عزیز تک بھی پہنچے گا جو آپکے بارے میں بہت اچھی رائے رکھتے ہیں اور پھر انہیں یہ جان کر بہت دکھ ہوگا کہ آپ ایسی سوچ اور ایسا ذہن رکھتے ہیں۔۔۔
آجکل بے شمار سوشل ویب سائٹس ہیں جن پر آپ اپنا اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں اور پھر انکو فیس بک اور ٹوئیٹر کے ساتھ ہک اپ کر دیتے ہیں، تقریباء ہر سائیٹ اکاؤنٹ ایکٹیویٹ ہونے کے بعد آپسے فیس بک اور ٹوئیٹر پر آپکے پروفائل تک رسائی کا پوچھتی ہے اور میجارٹی یس ہی کرتی ہے تو پھر ان سائیٹس پر آپ جو کچھ کریں گے وہ آپکے ہر دوست کے پاس پہنچ ہی جائے گا،پچھلے دنوں میرے ایک سعودی دوست کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا،اسنے کییک نام کا ایک میڈیا ہے جس پر چھوٹے چھوٹے کلپس آپ دیکھ سکتے ہیں اور اپنے زاتی کلپس اپ لوڈ بھی کر سکتے ہیں، تو میرے دوست نے ولگر کلپس دیکھے اور انکو لائیک بھی کرتا رہا ، اب وہ کییک نے اسے فیس بک فرینڈز کو بھی انفارم کیا کہ صاحب یہ دیکھ رہے ہیں آپ بھی اس کییک سے مستفید ہوں اور ہمیں جائن کریں، تو دوسرے دن میں نے اسے کہا کہ بے شرم انسان تم آٹھ بچون کے باپ ہو اور یہ حرکتیں کیسی کر رہے ہو، تو وہ حیران ہوا اور کہا میں نے کوئی فیس بک پر ایسی پوسٹ نہیں بھیجی تو میں نے اسے بتایا کہ کیک پر تم نے یہ تصویریں اور ویڈیوز دیکھی ہیں اور پھر انہیں لائیک بھی کیا ہے تو وہ لائیک ہمارے پاس آیا ہے،لہذا اس سوشل ہائیک میں کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں اسے کوئی واچ نہیں کر رہا۔
اکیسویں صدی کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر ہم ان سوشل میڈیاز کو چھوڑ تو نہیں سکتے لیکن انکے یوز کو معیاری ضرور بنا سکتے ہیں، ہمیں اپنے بچوں کو بھی ان سوشل ہائیکس سے دور نہیں رکھ سکتے لیکن انہیں معیاری انفارمیشن کی عادت تو ڈال سکتے ہیں ہم اپنے معیاری استعمال سے، جب بھی کوئی پوسٹ کرتے ہیں تو یہ ضرور سوچ لیں کہ آپکی گندي پوسٹ، لائیک اور کمنٹس آپکی آنے والی نسلوں پر کیا اثرات چھوڑیں گے،ہمیں پازیٹو، انفارمیٹو انفارمیشن فلوٹ کرنی چاہیئے،تاکہ کسی کا فائدہ ہو، جو آپکو فالو کر رہے ہیں انکو کو ئی مثبت چیز دو، کوئی اخلاقی سبق دو تاکہ وہ بھی آگے مثبت کردار کے مالک بنیں۔
فیس بک پر ایک ٹرینڈ بن گیا ہے کہ اسلامی پوسٹ کو لاکھوں لائیک کی ریکویسٹ کی جاتی ہے، اپنی عملی ذندگیوں کو اسلامی طریقوں کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف لائیک کرنے کی، میں نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو اسلامی پوسٹ شیئر کر رہے ہیں لیکن ولگر پر بھی برابر جحک مار رہے ہیں، ایسے گندی تصویروں کو بھی لائیک کر رہے ہوتے ہیں کہ دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے ۔دین کو فیس بک پر نہیں بلکہ اپنی ذندگیوں میں شامل کرو، فیس بک پر دین کا پرچار ہو رہا ہے اور پریکٹیکل لائف میں فراڈ، ملاوٹ، زخیرہ اندوزی، بلیک مارکیٹنگ، جھوٹھے پروفائل، اپنے فرائض سے غفلت یہ کونسی دین کی خدمت ہو رہی ہے، دینی معلومات ضرور شیئر کرو لیکن اتھینکیٹڈ تاکہ پڑھنے والا مستفید ہو، ہم اپنے فرقے کے گیت گا رہے ہوتے ہیں، بغیر سوچے سمجھے کہ اسلام کو غیر مذہب کی نظروں میں تماشا بنا رہے ہوتے ہیں۔فیس بک کا پازیٹو استعمال، معیاری انفارمیشن، ولگیرٹی سے اجتناب بھی دین کی ہی خدمت ہے، کیونکہ ہمارا دین سچائی، خیرخواہی اور مثبت کاموں کی ہی تلقین کرتا ہے!!!