ابھی انقلاب نھیں آے گا۔۔

Posted on August 25, 2013



ابھی انقلاب نھیں آے گا۔۔

پچھلے دنوں شھباز شریف کا ،ایک جذباتی بیان نظر سے گزرا(ھمیں کشکول تورنا ھو گا ،ورنھ خونی انقلاب دستک دے رھا ھے)
پڑھنے کو اچھا لگا جذباتی آدمی ھیں اکثر ایسی باتیں کرتے رھتے ھیں،
انقلاب آنے میں شائید ابھی بھت وقت باقی ھے،انقلاب تب تک نھیں آ سکتا جب تک لوگوں میں سیاسی شعور نھ بیدار ھو جائے۔جب تک لوگوں میں اچھے اور برے کی تمیز ،اور عوام کو اپنی طاقت کا اندازھ نھ ھو جائے۔
اگر ھم پاکستان کے لوگوں کا جائزھ لیں تو تقریبن ٪70 لوگ دیھات میں رھتے ھیں،جھاں زندگی کی بنیادی سھولتیں بھی ٹھیک سے میسر نھیں۔
شرح خواندگی کی تعریف جو لکھنا پڑھنا جانتا ھو،پھر بھی ٪3۔79 لوگ پڑھے لکھے بنتے ھیں،اور کل آبادی کا ٪45 لوگ ایسے ھیں جو ووٹ ڈالنے گھر سے نھیں نکلتے انقلاب کی آواز پر کیا نکلیں گے؟؟؟
رھی بات ھماری سیاسی پارٹیوں کی تو ملک میں اکثریت ووٹ مسلم لیگ ن کا ھے،جن میں عمومی طور پر جاگیر دار،چھوٹے پیمانے کے کارخانے دار ،دکاندار اور زمیندار شامل ھین،جنکی کل دنیا ،انکا کاروبار ،اور زمینداری تک محدود ھے،
دوسرے نمبر پر آتی ھے تحریک انصاف،لیکن تحریک اندرونی سازشون،اور کچھ عمران خان کے غلط فیصلوں کی وجھ سے زوال کا شکار ھے،پھلے فوزیھ قصوری روٹھ گئیں،اور آجکل عارف علوی کے اختلافات زبان زد عام ھیں،
اور خیبر پختون خاؑ،میں این اے 1 میں شکست اس بات کا واضح ثبوت ھے کھ عمران خان اپنے پھلے ھی میچ میں عوام کی توقعات پر پورا نھیں اتر سکے۔۔
تیسرے نمبر آتی ھے پیپلز پارٹی ،تو انھوں نے پچھلے پانچ سالھ دورے ھکومت میں کرپشن کے وھ رکارڈ قائم کیے ھیں کے انھیں اخلاقی طور پر زیب نھیں دیتا کے وھ حکومت کے سیاھ و سفید کے خلاف کوئی تحریک چلائیں،
باقی دیگر جماتوں میں ،عوامی نیشنل پارٹی ،محتدھ قومی مومنٹ،مسلم لیگ قائد اعظم ،اور عوامی مسلم لیگ شامل ھیں،
اے این پی اپنی ساکھ ویسے ھی ختم کر چکی ھے، اور محتدھ قومی مومنٹ کی دوڑ، گورنمنٹ کے ساتھ شامل ھونے تک کی ھی ھے،وھ آنے اور جانے کے کھیل میں ھی وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ھیں۔۔
باقی بچے شیخ رشید تو انکی صرف ایک سیٹ ھے، اور نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ھے؟؟؟
البتھ آجکل طاھر القادری کی تقریروں میں انقلاب کی آواز گونجتی رھتی ھے،،جنکا کھنا ھے کے انقلاب ھی وھ واحد ذریھ ھے جس سے تبدیی لائی جا سکتی ھے،اور وھ آجکل ایک کروڑ نمازی اکٹھے کر رھے ھیں کے امامت کروا سکیں،
طاھر القادری صاحب آپکی تقلید کرنے والے بھت سے لوگ ھیں،لیکن ابھی آپکی امامت کا وقت نھیں آیا کیونکھ آج 67 سال بعد بھی ھمارا نظام فرسودھ چلا آ رھا ھے،آپکو امامت کروانے کیلئیے لوگوں میں سیاسی شعور بیدار کرنا ھو گا۔۔
اور جب تک لوگوں کو ووٹ کی طاقت کا علم نھیں ھو جاتا،اپنے اختیارات کا نھیں پتھ لگ جاتا۔ انقلاب برپا ھونا بھت مشکل ھے،یھ سسٹم ایسے ھی ،چل رھا ھے،اور ایسے ھے چلتا رھے گا،
لوگ خود کشیاں کرتے رھیں گے ،ٹارگٹ کلنگ ھوتی رھے گی،امیر،وزیر عوام کے پیسے پر موج کرتے رھین گے،الیکشن ھوتے رھیں گے،اور لوگ روٹی کپڑا مکان کے نام پر بے وقوف بنتے رھیں گے،،
لیکن انقلاب نھیں لائیں گے۔۔۔۔